ہائی پروفائل خود کُشیاں 

     ہائی پروفائل خود کُشیاں 
     ہائی پروفائل خود کُشیاں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

   بلال پاشا کی پُر اسرار موت،پہلا واقعہ نہیں ہے جب کامیاب ترین افراد نے اپنے کیئریئر کے بام عروج پرخود کو ختم کر لیا ہو۔پاکستان اور دنیا بھر کی تاریخ ایسے درد ناک واقعات سے بھری پڑی ہے، جب دنیاوی لحاظ سے غیر معمولی افراد نے اس منزل پر پہنچ کرخود کشی کا راستہ اختیارکیا جس کے حصول میں ان کی برسوں کی انتھک محنت شامل ہو۔ شوبز کے فلمی ستارے، ٹیلی ویژن سکرین کے سپر سٹار،کھیلوں کی دنیا میں لوگوں کے پسندیدہ ترین ہیروز ہوں یا پھر دیگر شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ ایسے افراد جن پر عزت، دولت اور شہرت کی دیوی مہربان تو ہو جائے لیکن دنیاوی عہدے، رُتبے اور مرتبے پر فائز ہونے کے باوجود ان کا دل اس دنیا سے اس قدر اچاٹ ہو جائے کہ وہ خود سوزی کر کے خود کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے موت کی پُر سکون وادی میں دھکیل دیں۔

حالیہ برسوں میں سوشل میڈیا کی ”چکا چوند“نے جہاں ہر قسم کے سکینڈل کو عام کیا ہے وہاں خود کشیوں کا ”رواج“ بھی بڑھا ہے۔ترقی پذیر معاشروں میں ہونے والے ہر قسم کے نا خوشگوار واقعات تو ہمیشہ سے ہوتے چلے آ رہے ہیں تاہم اب یہ واقعات سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز کے ذریعے گھر گھر پہنچ رہے ہیں۔ہمارے بچپن سے لیکر کوئی ایک عشرہ قبل تک جب انٹرنیٹ اور سمارٹ فون کا استعمال اتنا عام نہیں تھا، اخبارات و جرائد میں ”روایتی“ قسم کی خود کشیوں کی خبریں معمول کا حصہ تھیں۔ روزانہ کی بنیاد پر اخبار کے اندرونی صفحات پر موجود ”کرائم کارنر“ میں کچھ اس قسم کی سرخیاں ہوتی تھیں کہ فلاں جواں سال لڑکی نے ماں کی ڈانٹ ڈپٹ سے دلبرداشتہ ہو کر خود کشی کر لی، کسی طالب علم نے امتحان میں نمبر کم آنے پرزندگی کا خاتمہ کر لیا، شادی شدہ افراد نے گھریلو ناچاقی اور روزمرّہ کے لڑائی جھگڑوں سے تنگ آ کر اپنی جان لے لی، یا پھر کسی ناکام عاشق نے محبوب کے انکار پر انتہائی قدم اُٹھا لیا۔ان ”روایتی“ خود کشیوں میں اپنی جان لینے کے طریقے بھی زیادہ تر روایتی ہی ہوتے تھے، جن میں بیشتر کیسز میں گندم، چاول میں رکھنے والی گولیاں اور چوہے مار ادویات کا بے دریغ استعمال ہوتا تھایا پھر کوئی بڑا ”دل جلا“ ہو تو پٹرول چھڑک کر خود کو آگ لگا لیتا تھا،حالانکہ ہمارے ہاں ٹرین کی پٹڑی کی صورت میں خود کشی کا ”سدا بہار“ طریقہ صدیوں سے موجود ہے تاہم ریلوے کی جانب سے ٹرینوں میں ہونے والی غیر معمولی تاخیر کے نتیجے میں یہ وقت کے ساتھ غیر مؤثر ہو گیا، دریاؤں اور نہروں میں پانی کی شدید قلت اور خُشک سالی کے باعث ان میں کُود کر خود کشی کرنے کی روایت بھی وقت کے ساتھ دم توڑ گئی، جبکہ کثیر المنزلہ عمارتوں پر سیکیورٹی گارڈ کی موجودگی نے بلندی سے چھلانگ لگا کر ”آتما ہتیا“ کرنے والوں کے راستے میں بھی متعدد رکاوٹیں کھڑی کر دیں۔ حکومت خود کشی کے جدید طریقوں کے سد باب کے لئے گندم میں رکھنے والی گولیوں، چوہے مار ادویات اورپٹرول پمپوں پر کھلے پٹرول کی غیر قانونی فروخت پر پابندی جیسے اقدامات کرتی بھی نظر آتی ہے تاہم اس کے باوجود ”دل جلوں“ نے اپنی جان لینے کا کوئی نہ کوئی طریقہ ڈھونڈ ہی لینا ہوتا ہے کیونکہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔

ابھی گزشتہ دنوں ارب پتی مولوی طارق جمیل کے فرزند ارجمند کی خود کشی کی خبر سے پورے میڈیا پر بھونچال آیا ہوا تھا، اعلیٰ حضرت چونکہ بذات خود ”سوشل میڈیا کنگ“ ہیں لہٰذا انہوں نے بیٹے کی خود کشی کو بھرپور انداز سے ”شو کیس“ کیا جس کے نتیجے  میں ان کی دولت اور شہرت میں مزید اضافہ ہوا جبکہ بے چارے یوٹیوبرز نے دو چار دن ”سودا“ بیچ کر اپنے گھروں میں کئی دن کا راشن ڈال لیا۔

”ہائی پروفائل خود کُشیوں“ کے حالیہ سلسلے میں سی ایس پی آفیسر بلال پاشا کی بے وقت موت نے سوشل میڈیا پر طوفان اٹھایا ہوا ہے، ملٹری کنٹونمنٹ بنوں میں بطور چیف ایگزیکٹو آفیسر کام کرنے والے بلال پاشا پیر کو اپنے کمرے میں مردہ حالت میں پائے گئے تھے۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر بنوں افتخار شاہ کے مطابق بظاہر یہ خود کشی کا واقعہ لگ رہا ہے، تاہم پوسٹمارٹم رپورٹ میں مزید حقائق سامنے آئیں گے۔ بلال پاشا کی نماز جنازہ منگل کی صبح ان کے آبائی علاقے عبدالحکیم میں ادا کر دی گئی۔

 نوجوان سی ایس پی آفیسر بلال پاشا کی مبینہ خود کشی کے واقعے کی کئی جہتیں ہیں جن پر ہمیں غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ان میں پہلی بات یہ ہے کہ انسان کو اپنے خواب بُنتے وقت اور زندگی میں گول سیٹ کرتے ہوئے اپنی ذات اور شخصیت میں موجود رجحان، لگاؤ اور پوٹینشل کو مد نظر رکھنا چاہیے نہ کہ بھیڑ چال کا شکار ہو کر دنیاوی عہدے،مرتبے، شا ن و شوکت، گاڑیاں بنگلے یا مال و زر کو واحد کامیابی سمجھنا چاہیے۔ مثال کے طور پر بلال پاشا زندگی کے کٹھن ترین مراحل طے کرتے ہوئے بالآخر اس مقام و مرتبے پر پہنچ چُکا تھا جس سے آگے اس کے لئے مذکورہ بالا تمام چیزوں کا حصول ممکن تھا تاہم وہاں پہنچ کربھی اس کے دل سے یہی آواز نکلی کہ یہ وہ منزل نہیں جس کا اسے برسوں سے انتظار تھا،چونکہ سماج اور سوسائٹی نے دنیاوی کامیابی کا ایک مخصوص پیمانہ مقرر کر رکھا ہے جس کے مطابق ہر اس شئے کی قدر و منزلت ہے جس میں پیسہ، دولت اور رتبہ ہو حالانکہ ایسا ہر گز نہیں ہے۔ دوسری سمجھنے والی بات یہ ہے کہ ان مادی اشیاء کے حصول کے لئے زندگی وقف کرنے کی بجائے انسان اپنے دل اور اندر کے رجحان کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنا طرز زندگی اپنائے جس میں اس کے جسم اور روح کو آسودگی حاصل ہو، جیسا کہ کوئی مصور، شاعر، لکھاری، ڈاکٹر، استاد، کھیل یا کھلاڑی وغیرہ۔کوئی تگڑا بیورو کریٹ یا بزنس مین بننے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں اگر آپ ان دنیاوی عیش عشرت، جاہ و جلال یا عہدے کو ”ہنڈانا“ یا انجوائے کرنا چاہتے ہیں۔تیسری اور آخری بات یہ ہے کہ زندگی ایک جنگ ہے اور اس جنگ میں ”خود کشی“ کا مطلب ہتھیار پھینکنا ہے جو کسی جنگجو کیلئے قابل قبول نہیں ہونا چاہیے، اگر انسان کو جیتنا ہے تو یہ جنگ اسے ہر حال میں لڑنی ہے، بلال پاشا کی زندگی جہد مسلسل تھی، اس کے ماں باپ نے اسے جان جوکھوں سے پالا تھا، اس کے غریب باپ، رشتہ داروں اور نادار اہل علاقہ کا اس پر قرض تھا، اگر اس کی عمر بھر کی محنت رنگ لائی تھی تو اسے چاہیے تھا کہ اپنے شہر خانیوال اور اپنے گاؤں عبدالحکیم اور اس کے غریب لوگوں کی بہتری کے لئے کچھ نہ کچھ آسانی پیدا کرنے کی کوشش کرتا، تا کہ آنے والی نسل کو ان مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑتا جس سے وہ خود گزرا تھا، اس راستے پر چلنے سے اسے سکون اور دلی اطمینان بھی ملتا اور اللہ تعالی کے ہاں بھی اسے قدر و منزلت ملتی۔ بقول شاعر

شکوہء ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا فراز

اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

مزید :

رائے -کالم -