حج پالیسی2024ءپر ایک نظر    (1)

  حج پالیسی2024ءپر ایک نظر    (1)
  حج پالیسی2024ءپر ایک نظر    (1)

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 نگران وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد وفاقی وزیر مذہبی امور انیق احمد نے سیکرٹری ڈاکٹر عطاءالرحمن اور جوائنٹ سیکرٹری حج سجاد یلدرم کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے تاریخ میں کم از کم ڈھائی ماہ پہلے حج پالیسی2024ءدینے کا اعلان کیا اور بتایا حج 2024ءکے لئے سعودیہ نے پاکستان کا حج کوٹہ ایک لاکھ 79ہزار 210 مخصوص کیا ہے،سرکاری اور پرائیویٹ سکیم کے لئے کوٹہ کی تقسیم کا تناسب ففٹی ففٹی ہو گا۔ سرکاری سکیم 89ہزار 605 اور اتنا ہی کوٹہ پرائیویٹ سکیم کے لئے مخصوص ہو گا۔ سرکاری حج سکیم 2024ءکے لئے سپانسر شپ سکیم (ڈالر سکیم) کے لئے25ہزار کوٹہ مخصوص ہو گا، حج 2017ءسے 2023ءتک حج کرنے والے حج 2024ءکے لئے سرکاری حج سکیم میں حج درخواستیں دینے کے اہل نہیںہوں گے۔حج درخواست کے لئے سرکاری اور پرائیویٹ سکیم میں عمر کی کوئی قید نہیں ہو گی، البتہ 80 سال یا اوپر والے ساتھ مددگار لے جانے کے پابند ہوں گے۔ پہلی دفعہ اسلامی نظریاتی کونسل کے فیصلے اور سعودی حکومت کی طرف سے اجازت ملنے کی وجہ سے خواتین محرم کے بغیر درخواست دے سکیں گی۔ حج پالیسی میں طے کیا گیا کہ کسی کو مفت حج نہیں کرایا جائے گا، حجاج کرام کو جامع تربیت اور آگاہی مہیا کی جائے گی۔بتایا گیا سعودی تعلیمات کے مطابق میڈیکل مشن/ معاون حج/مذہبی امور اور سعودیہ میں مقیم لوکل معاونین پر مشتمل ویلفیئر عملہ تعینات کیا جائے گا۔

سعودیہ میں شکایات کے فوری ازالے کے لئے مانیٹرنگ ٹیمیں تعینات کی جائیں گی، حل نہ ہونے والی شکایات کو پاکستان میں سی ڈی سی کے سامنے پیش کیا جائے گا، سی ڈی سی کے فیصلوں کے خلاف اپلیٹ کمیٹی کے پاس اپیل کی جا سکے گی۔حج2024ءمیں حاجیوں کی انشورنس تکافل کی بنیاد پر محافظ سکیم کے نام سے جاری رہے گی۔وفاقی وزیر مذہبی امور نے بتایا وزارت مذہبی امور گزشتہ حج سے حج2024ءکے اخراجات کم کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ ایک لاکھ پیکیج کم کر دیا گیا ہے 38سے42روزہ پیکیج کے علاوہ پہلی دفعہ20سے25 روزہ شارٹ پیکیج متعارف کرایا جا رہا ہے۔ لانگ سکیم گزشتہ سال 11 لاکھ75ہزار تھا اِس سال مزید سہولیات کے ساتھ 10لاکھ 75ہزار پیکیج کر دیا گیا ہے۔

سپانسر شپ سکیم کے تحت25ہزار کوٹہ مخصوص ہو گا،27نومبر سے12دسمبر تک لانگ ٹرم اور شارٹ پیکیج کی حج درخواستیں جمع ہوں گی اس کے لئے15بینکوں کو اجازتدی گئی ہے۔گزشتہ سال 14بینکوںنے حج درخواستیں وصول کی تھیں، حج2024ءکے لئے بینک اسلامی کو بھی شامل کر لیا گیا ایسے بینکوں کا انتخاب کیا گیا ہے جو شریعہ اکاﺅنٹ رکھتے ہیں۔حج درخواستوں کی قرعہ اندازی دینے والے قرعہ اندازی کے بغیر کامیاب تصور ہوں گے۔ بتایا گیا پہلی دفعہ سرکاری سکیم میں درخواست دینے والے گر مدینہ میں آٹھ دن کی بجائے چار دن رہنا چاہیں گے تو سہولت ملے گی انہیں35ہزار روپے بھی واپس ملیں گے اس کی تفصیل حج درخواست میں دینا ضروری ہو گا۔

حج پالیسی میں بتایا گیا ہے سرکاری حج سکیم کے عازمین تمام ڈی کیٹگری میں رہیں گے اگر شارٹ پیکیج کے افراد سی کیٹگری کی سہولت لینا چاہئیں گے تو اضافی رقم کی ادائیگی پر لے سکیں گے یہ سہولت صرف سپانسر شپ سکیم کے لئے ہو گی۔سرکاری سکیم میں پہلی دفعہ مکہ مکرمہ میں ایک کمرہ ڈبل یا ٹرپل روم حاصل کیا جا سکتا ہے۔ڈبل کے لئے ایک لاکھ75ہزار اور ٹرپل بیڈ کے لئے 58 ہزار اضافی ادا کرنا ہوں گے۔ شارٹ پیکیج جو پہلی دفعہ متعارف کرایا جا رہا ہے اس میں مدینہ منورہ میں تین سے پانچ دن رہائش ملے گی۔اس سال عازمین حج کو دو سوٹ کیس، ایک 25سے30 کلو اور دوسرا سات کلو کا ٹرالی ہینڈ کیری دیا جائے گا، ہر خاتون کو دو عبائے دیں گے،شو بیگ بھی فراہم کیا جائے گا یہ سب کچھ بینک کریں گے۔

وفاقی وزیر مذہبی امور نے بتایا اضافی سہولیات بشرط دستیابی فراہم ہو سکیںگی اضافی رقم جمع کرانے والوں کو اضافی سہولیات نہ دے سکے تو رقم واپس کر دی جائے گی۔اگر حج2024ءکے پیکیج کے لئے وصول کی گئی رقم میں کسی مد میں بچت ہوئی تو ہم وہ رقم عازمین حج کو واپس کریں گے۔اس سال ہارڈ شپ کوٹہ پانچ سو لیبر کوٹہ تین سو ہو گا۔448 نشستیں(سرکاری کوٹہ کا پانچ فیصد) ویٹنگ لسٹ پر مبنی ہو گا۔بتایا گیا سرکاری حج سکیم میں سپانسر شپ سکیم کے تحت حج درخواستیں دینے والوں کو بغیر قرعہ اندازی کامیاب قرار دیا جائے گا۔سپانسر شپ سکیم میں ڈالر کے ذریعے پیکیج رقم جمع کرانے کے لئے15بینکوں میں سٹیٹ بینک کے تعاون سے وزارت مذہبی امور کے ڈالر اکاﺅنٹ کا لنک دے دیا گیا ہے اس کے لئے ہر بینک کو علیحدہ کوڈ دیا گیا ہے۔پہلی دفعہ خواتین کی آسان شناخت کے لئے مخصوص رنگ کا پاکستانی پرچم والا سکارف، مرد عازمین حج کے لئے احرام اور بیلٹ قراہم کی جائے گی۔

سعودی عرب میں قیام کے دوران استعمال کے لئے 7جی بی ڈیٹا کی حامل موبائل سم وزارت فراہم کرے گی۔حجاج کرام کی تربیت اور رہنمائی کے لئے موبائل اپلی کیشن جو آن لائن اور آف لائن یکساں مفید ہو گی۔ اسلام آباد، کراچی سے جانے والے روڈ ٹو مکہ پراجیکٹ کا حصہ ہوں گے، لاہور کو روڈ ٹو مکہ میں شامل کرنے کی کوشش جاری ہے پہلی دفعہ سرکاری حج سکیم میں ایک کمرے میں ایک فیملی کو سہولت دے رہے ہیں اس کے لئے اضافی ادائیگی کی ضرورت ہوئی تو کرنا پڑے گی۔ اس سے پہلے مرد و خواتین ایک فیملی کے بھی ہوں تو علیحدہ مرد اور خواتین رکھے جاتے ہیں گروپ اگر کوئی بنتا ہے اس کو ایک بینک میں ایک ساتھ درخواست دینا اور ایک پیکیج رکھنا ضروری ہو گا ایک ساتھ درخواست دینے والوں کو ایک ساتھ رکھیں گے۔سرکاری حج پالیسی کے اہم نکات وفاقی وزیر مذہبی امور نے پیش کرتے ہوئے 50فیصد کے سٹیک ہولڈر پرائیویٹ حج سکیم کے حوالے سے بتایا سعودیہ کی تعلیمات کے مطابق فیصلہ کریں گے۔وفاقی وزیر مذہبی امور کا جذبہ جون اپنی جگہ، مگر عملاً اگر الیکشن ہو جاتے ہیں تو یقینا نئی منتخب حکومت کا کوئی وزیر حج کے معاملات دیکھے گا۔

سرکاری حج سکیم کے نکات اس لئے پیش کئے ہیں کہ اس پر مثبت ردعمل اگلی قسط میں دے سکوں، پرائیویٹ حج سکیم کے حوالے سے سعودی وزارت الحج کی دنیا بھر سے پرائیویٹ حج کرانے والی کمپنیوں کی تعداد کم کر کے2000 کا گروپ بنانے کی تجویز تمام ممالک کی طرف سے مسترد کیے جانے اور اسلامی ممالک کی طرف سے حج 2024ءمیں کمپنیوں کی تعداد کم نہ کرنے کی درخواست پر ابھی تک فیصلہ موخر تو نہیں کیا البتہ تمام ممالک کے لئے500حجاج کرام کا حج2024ءمیں1000کا گروپ2025ءمیں 2000 کا گروپ2026ءمیں بنانے کی تجویز دی ہے۔راقم خود گزشتہ ماہ سعودیہ میں موجود تھا اس لئے مرکزی چیئرمین ہوپ جمال خان ترہ کئی اس کا کریڈٹ خود لیں یا ثناءاللہ خان کو دیں سب قبول کیا جا سکتا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے500 تک محدود ہونے کا فیصلہ پاکستان کے لئے نہیں تمام ممالک کے لئے ہے۔ہوپ اگر سنجیدگی سے جدوجہد جاری رکھے تو ڈی جی حج عبدالوہاب سومرہ پہلے ہی پُرعزم ہیں۔ کوئی مانے نہ مانے میں ذاتی طور پر پاکستان حج مشن کے ذمہ داران کو بالعموم اور ڈی جی حج کو بالخصوص کریڈٹ دوں گا۔ اگر اس سال کمپنیوں کی تعداد کم کرانے کا فیصلہ موخر کرانا ہے تو ڈی جی حج مکہ اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ہوپ کو جلد بازی کی بجائے مشاورت کو آگے بڑھانا چاہئے۔مشاورت بھی صرف قریبی احباب سے نہیں ملک بھر کے سٹیک ہولڈر سے۔ اگلے کالم میں آئندہ کیا ہونے والا ہے حقائق سامنے لاﺅں گا۔

(جاری ہے)

٭٭٭٭٭

مزید :

رائے -کالم -