”میں جلد ہار ماننے والوں میں سے نہیں“ سندھوکے سفر کے آخری 100 میل تکلیف دہ ہیں،پانی کی دنیا بھی بڑی ظالم ہے کمزور کو جینے نہیں دیتی 

”میں جلد ہار ماننے والوں میں سے نہیں“ سندھوکے سفر کے آخری 100 میل تکلیف دہ ...
”میں جلد ہار ماننے والوں میں سے نہیں“ سندھوکے سفر کے آخری 100 میل تکلیف دہ ہیں،پانی کی دنیا بھی بڑی ظالم ہے کمزور کو جینے نہیں دیتی 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 مصنف:شہزاد احمد حمید
 قسط:205
 محمد بن قاسم کے سندھ پر حملے نے بہت کچھ واضع کر دیا اور شاید آنے والے وقت کے لئے راجہ داھر کی قسمت کا بھی۔ اُس کے دارالحکومت ”منصورہ“ کے کھنڈر شہداد پور سے سولہ (16) میل کے فاصلے پر واقع ہیں۔ مؤرخ”بلازری“ کے مطابق؛
”اروڑ پہاڑی پر منصورہ کے آثار ہیں اور وہ اُسے ”بکھرور“ کے قریب ہی بیان کرتا ہے۔“چچ نامہ بھی یہی کہتا ہے؛ ”اروڑ کا قلعہ بکھرور کے بلمقابل ہے۔“
”1819ء کے بعدمیرے بہاؤ کے راستے میں میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی ہے اگرچہ عمومی طور پر میں چار پانچ میل دائیں بائیں بہتا رہا ہوں۔ جس سے بہت تھوڑا علاقہ کچھ فاصلے تک متاثر ہوتا رہتا ہے۔ آخری نصف صدی کے لگ بھگ آنے والی تبدیلیاں انسانی کوشش کی وجہ سے ہی ہوئی ہیں۔کوئی بھی دریاسمندر میں گرنے سے پہلے کئی شاخوں میں تقسیم ہو کر ہی سمندر میں گرتا ہے۔ دراصل ڈیلٹا وہ عمل ہے جس سے دریا سمندر سے زمین حاصل کرتا ہے اور دریائی شاخیں اس عمل کی نشاندہی کرتی ہیں۔سمندر کا پانی دریائی پانی کے بہاؤ کی رفتار سست کر دیتا ہے۔ یہی حال میرا بھی ہے مگر میدانی علاقوں کی طرح میں اپنے ڈیلٹا کی گزر گاہ کو بلند کرنے کا عمل جاری رکھے ہوں۔ اپنی لائی مٹی آخری مرحلے تک کناروں کے گرد پھیلاتا رہتا ہوں۔ یہ عمل سیلاب کے دنوں میں ہی نہیں بلکہ عام دنوں میں بھی جاری رہتا ہے۔ میں جلد ہار ماننے والوں میں سے نہیں ہوں۔“ سندھو کی آواز مشکل سے ہی سنائی دی ہے۔     
(سندھو)کے سفر کے آخری سو(100) میل تکلیف دہ ہیں۔ کشتی بھی بڑی مشکل سے کھیئی جا رہی ہے۔ پانی کا بہاؤ بھی سست ہے اور گہرائی تو بمشکل پانچ سات فٹ ہو گی۔ میرا دل چاہا میں اس میں پیدل ہی چل پڑوں لیکن اس کے کنارے سوئے ایک مگر مچھ کو دیکھ کر میں نے اپنا ارادہ ہی نہیں بدلا بلکہ وہاں سے بہت دور ہٹ آیا ہوں۔ مجھے دور ہٹتا دیکھ کر رحیم کہنے لگا؛”سائیں! یہ بھول کر ادھر آ نکلا ہے ورنہ یہ تو گہرے پانی میں ہوتے ہیں جہاں اللہ نے سندھوکی گہرائی میں ہی ان کی خوراک کا بندوبست کر رکھا ہے۔ہاں کبھی کبھی دھوپ سینکنے کنارے پر یوں پڑا رہتا ہے جیسے مراہو۔ شکار قریب آیا تو اُس پر جھپٹا، دبوچا اور گہرے پانی میں اتر گیا۔ پانی کی دنیا بھی بڑی ظالم دنیا ہے کمزور کو تو بالکل بھی جینے نہیں دیتی ہے۔“
میرے دوست سندھو کی حالت تو یہاں قابل رحم ہے۔ وہ قطرہ قطرہ سمندر میں گر رہا ہے۔ میں اس کی سسکیوں میں اس کا دم نکلتا دیکھ رہا ہوں۔ یہ اس کی آخری سانسیں ہیں۔ مجھے اس کی سسکی میں آہ اور نجیف سی آواز سنائی دی ہے۔”میں نے تمھیں کہا تھا ناکہ میرا بڑھاپا دن بدن تکلیف دہ ہو تا جا رہا ہے۔ کچھ میرا مگر زیادہ  قصور تمھارا ہے۔میرا قصوریہ ہے کہ میں ہر سال لاکھوں ٹن مٹی ساتھ لاتا رہا ہوں جو میری سانس میں رکاوٹ کا باعث بنتی جا رہی ہے لیکن تم لوگوں نے تو سیوریج کا پانی مجھ میں گرانا شروع کیا تو میرا سانس لینا ہی دوبھر ہو گیا ہے۔ دیکھو کبھی میں چونتیس سو (3400)کلو میٹر کا ڈیلٹا بنا کر سمندر میں اترتا تھا جو اب سمٹ کر یہ صرف دو سو چالیس(240) کلو میٹر رہ گیا ہے۔ اپنے ڈیلٹا میں میں انتہائی سست رفتاری سے بہتا ہوں۔ کبھی میں بڑی شان سے سمندر میں اترتا تھا۔ میں اب اس بوڑھے کی مانند ہوں جو ایک قدم اٹھانے کے لئے دو بار اپنی لاٹھی آگے گھیسٹتا ہے اور بمشکل ایک قدم آگے بڑھتا ہے۔اس کی بڑی وجہ وہ مٹی ہے جو ہزاروں سال سے میں اپنے ساتھ لا رہا ہوں۔جبکہ دیگر وجوہات میں گھنی دلدلی جھاڑیاں ہیں۔ دیکھو جو دیدہ عبرت نگاہ ہو۔“
 ”میرے پانیوں اور اس کی جھیلوں پر ان گنت پرندے رنگ رنگ کا لباس پہنے سائبیریا اورقازکستان کے برفانی علاقوں سے پرواز کرتے افغانستان،ایران سے ہوتے تقریباً چھ / سات(7/6) ہزار کلو میڑ سے زائد کا سفر طے کرکے پاکستان میں داخل ہو کر میرے گرم پانیوں کا رخ کرتے ہیں۔ ان پرندوں اور میراساتھ اتنا ہی پرانا ہے جتنا خود میں ہوں۔دوستوں کا دوست ہوں میں۔میرا پانی انسانوں کو ہی نہیں پرندوں کو بھی جیون دیتا ہے۔ یہ انسانوں کے ساتھ ساتھ ان خوبصورت پرندوں کا بھی خیال رکھتا ہے۔ پر خلوص اور مخلص ہوں میں تمھاری طرح۔“ سندھو اتنا کہہ کر خاموش ہو گیا ہے۔(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں)

مزید :

ادب وثقافت -