6ستمبر 1965ء کی صبح اچانک لاہور پر حملے کی اطلاع آئی،ہر طرف جوش ہی جوش تھا، لوگ خون دینے اور جنگ کے محاذ پر جانے کے لیے بے چین تھے

 6ستمبر 1965ء کی صبح اچانک لاہور پر حملے کی اطلاع آئی،ہر طرف جوش ہی جوش تھا، لوگ ...
 6ستمبر 1965ء کی صبح اچانک لاہور پر حملے کی اطلاع آئی،ہر طرف جوش ہی جوش تھا، لوگ خون دینے اور جنگ کے محاذ پر جانے کے لیے بے چین تھے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 مصنف:محمد سعید جاوید
قسط:113
جاگ اُٹھا ہے سارا وطن
اور پھر 6ستمبر 1965ء کی صبح کو اچانک لاہور پر حملے کی اطلاع آ گئی اور اسی دن دوپہر کو ایوب خان کی روح پرور تقریر ریڈیو پر نشر ہوئی۔ پہلے حیرت، پھر خوف اور بعد میں ایک بجلی سی سارے پاکستانیوں کے جسم میں دوڑ گئی۔ قوم میں اتنا اتحاد پہلے کبھی دیکھا تھا اور نہ اس کے بعد ہی کبھی نظر آیا۔ ابا جان حالت جنگ میں آ گئے تھے اور جنگی وردی میں ملبوس ہو گئے تھے۔ ہر صبح وہ سر پر فولادی ٹوپ پہنے اور پہلو میں ریوالور لگائے کہیں نکل جاتے اور رات دیر گئے واپس آتے۔ وہ ہر وقت گہری سوچ میں گم رہنے لگے تھے۔ ہم دونوں بھائی گھر میں اکیلے ہوتے تھے ابھی تک سکول اور کالج چل رہے تھے بلکہ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے کہ یہ کبھی بند ہوئے ہی نہیں تھے۔
محلے والوں میں بھی بڑا جوش و خروش تھا۔ ہر وقت ریڈیو سے کان لگائے خبریں سنتے رہتے۔ رات ہوتے ہی ہم لوگ ڈنڈے لاٹھیاں لے کر باہر نکل آتے اور لوگوں سے بلیک آؤٹ کی پوری پابندی کرواتے۔ جو کہنے کے باوجود بھی روشنی گُل نہ کرتا تو اس کے گھر پتھرپھینکتے اور اونچی آواز میں چیخیں مارتے اور بُرا بھلا کہتے۔ ہر طرف جوش ہی جوش تھا لیکن ہوش بھی ابھی تک قائم تھا۔ لوگ خون دینے اور جنگ کے محاذ پر جانے کے لیے بے چین تھے۔کالج میں ہم لوگ ریڈیو پر سُنی ہوئی خبروں پر تبصرہ کرتے اور کچھ اپنی طرف سے بھی جذباتی واقعات کا اضافہ کر کے ساتھیوں کا لہو گرماتے رہتے تھے۔ ابا جان کے فوج میں ہونے کی وجہ سے وہ میری بات کو زیادہ غور سے سنتے اور اعتبار کرتے تھے۔ ان دنوں ریڈیو پر چلنے والے نور جہاں اور مہدی حسن کے نئے نئے قومی نغمے اب ہر ایک کو زبانی یاد ہو گئے تھے۔یہ خوبصورت گیت اب ہر طرف گونجتے رہتے تھے۔ ہم ٹولیاں بنا کربیٹھ جاتے اور بلند آواز سے یہ نغمے گاتے۔ لڑکیاں بھی ہمارا ساتھ دیتی تھیں۔ نعرے لگاتے اور کالج کے اندر ہی جلوس نکالتے۔ لہو گرما دینے والا ایک ماحول بن گیا تھا۔ادھر ہماری یونین کے رہنما ظہور بھوپالی اور دوست محمد فیضی اپنی دھواں دار تقریروں سے آگ لگائے رکھتے تھے۔ سارے طلبہ اپنا جیب خرچ بچا کر جنگی فنڈ میں دے آتے اور پھر یوں سکون محسوس کرتے جیسے پاکستانی ٹینک سے نکلنے والا اگلا گولا انھیں کے پیسوں سے خریدا جائے گا۔ اُف کیا جذبہ تھا۔ ہر ایک کا چہرہ شدت جذبات سے تمتمایا رہتا تھا اور سب اکڑ اکڑ کر چلتے تھے۔
اس رات ہندوستانی جہازوں نے کراچی کی بندر گاہ کے قریب کہیں بمباری کی تھی۔ حکومت نے ریڈیو کے ذریعے عوام کو مشورہ دیا کہ جہاں بھی ممکن ہو زمین دوز مورچے بنائے جائیں اور خطرے کا بھونپو بجتے ہی لوگ بھاگ کر ان میں چھپ جایا کریں۔ہم نے بھی اپنے گھر کے باغیچے میں آم کے پیڑ تلے ایک مورچہ کھودنا شروع کیا، نیچے جڑوں کی وجہ سے تھوڑی سی مشکل ہوئی لیکن ہم 5فٹ گہرائی تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے، میں نے اور شفیق نے اس میں چھلانگیں لگانے اور کانوں پر ہاتھ رکھ کر شتر مرغ کی طرح سر جھکا کر بیٹھنے کا تجربہ بھی کر لیا تھا۔ شفیق نے تو کہیں سے ترپال کا ٹکڑا ڈھونڈ کر اس کی چھت بھی بنا لی تھی اور نیچے بوریاں بچھالی تھیں۔ اسکا بس چلتا تو وہ وہاں گاؤ تکئے بھی لگوا لیتا۔ تاہم ایک آدھ دفعہ کے سوا اس کو استعمال کرنے کی نوبت ہی نہیں آئی اور اس کو بھی ہم اس طرح سمجھ رہے تھے گویا کسی خطرے کی وجہ سے نہیں بلکہ پکنک منانے یہاں اترے ہیں۔ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -