طلاق کا خیال پہلے ذہن ہی میں ابھرتا ہے،میاں بیوی کو چاہیے کہ ایک دوسرے میں مثبت، تعمیری اور شاندار خوبیوں کو اپنی توجہ کا مرکز بنائیں 

طلاق کا خیال پہلے ذہن ہی میں ابھرتا ہے،میاں بیوی کو چاہیے کہ ایک دوسرے میں ...
طلاق کا خیال پہلے ذہن ہی میں ابھرتا ہے،میاں بیوی کو چاہیے کہ ایک دوسرے میں مثبت، تعمیری اور شاندار خوبیوں کو اپنی توجہ کا مرکز بنائیں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 مصنف: ڈاکٹر جوزف مرفی
مترجم: ریاض محمود انجم
قسط:118
طلاق کا خیال پہلے ذہن ہی میں ابھرتا ہے:
طلاق کا عمل پہلے ذہن میں وقوع پذیر ہوتا ہے اور پھر اس کے بعد قانونی کارروائی کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ دونوں، نوجوان خاوند اور بیوی غصے، اختلاف، خوف، شک اور ناراضگی کے جذبات تلے مغلوب تھے۔ اس قسم کے رویوں نے ان دونوں انسانوں کو کمزور کر دیا تھا، ان سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین لی تھی اور وہ ہر قسم کی عقل و فہم سے عاری ہو گئے تھے۔ انہیں یہ معلوم ہو چکا تھا کہ نفرت انہیں باہمی طور پر تقسیم کر رہی ہے جبکہ محبت اور چاہت انہیں باہمی طور پر متحد کر دیتی ہے۔ انہیں اس امر کا احساس ہو چلا تھا کہ وہ اپنے ذہنوں کے ساتھ کیا کرتے رہے تھے۔ ان میں سے کوئی بھی ذہنی عمل کے قانون سے باخبر اور واقف نہیں تھا، اور اس طرح وہ اپنے اذہان کو غلط طور پر استعمال کر رہے تھے جس کے باعث اختلاف اور فساد کی بنیاد پڑ رہی تھی۔ یہ دونوں خاوند اور بیوی اکٹھے واپس چلے گئے اور دعاکے طریقے کو اپنایا اور آزمایا۔
انہوں نے ایک دوسرے کو محبت، پیار، سکون، طمانیت، اخلاص اور اپنی نیک خواہش سے فیض یاب کرنا شروع کر دیا۔ ان دونوں نے ایک دوسرے کیلئے ہم آہنگی، تندرستی، سکون و طمانیت اور محبت و پیار کے جذبات کا اظہار شروع کر دیا او پھر یہ دونوں افراد باری باری ہر رات انجیل میں مذکور دعائیں پڑھتے۔ ان کی ازدواجی زندگی روز بروز خوبصورت اور شاندار ہو رہی ہے۔
نکتہ چیں بیوی:
اکثر اوقات بیوی خاوند کی طرف سے توجہ کے فقدان کے باعث، خاوند ہر نکتہ چینی شروع کر دیتی ہے۔ عام طور پراور اکثر بیویاں محبت اور پیار کی طلبگار ہوتی ہیں۔ اپنی بیوی کو اپنی توجہ کا مرکز بنایئے اور اپنی محبت اس پر نچھاور کیجیے۔ اس کی خوبیوں اور گھریلو معاملات میں اس کی اچھی سمجھ بوجھ پر اس کی تعریف و ستائش کیجیے۔ مزیدبرآں نکتہ چینی قسم کی ایک عورت ایسی بھی ہوتی ہے جو خاوند کو اپنے طور طریقے اور روئیے کے مطابق ڈھالنا چاہتی ہے۔ خاوند سے فوری طورپر نجات حاصل کرنے کا یہ بہترین طریقہ ہے، جو دنیا کی تمام عورتیں استعمال کرتی ہیں۔
بیوی اور خاوند، دونوں کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کو رگیدنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کر دیں، ایک دوسری کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں سے درگزر کریں۔ ایک دوسرے میں موجود مثبت، تعمیری اور شاندار خوبیوں اور خصوصیات کو اپنی توجہ کا مرکز بنائیں اور ان کو سراہیں۔
اپنے ہی خیالوں میں مگن، ایک غافل خاوند:
اگر ایک خاوند اپنے ہی خیالوں میں مگن رہتا ہے اور بیوی کے کسی فعل یا بات کے باعث اس سے ناراض ہو جاتا ہے او رپھر اکیلا بظاہر افسردگی اور غمی کے عالم میں، بیوی سے غافل ہو کر بیٹھ جاتا ہے، تو پھر وہ نفسیاتی زبان میں ”بدکاری“ کا مرتکب ہوتا ہے۔ ”بدکاری“ کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ کسی منفی اور تخریبی طبع کے حامل فرد کے ساتھ شدید محبت و چاہت کا اظہار کیا جائے۔ جب ایک خاوند بغیر کچھ بات کیے، خاموشی کے ساتھ، اپنی بیوی کے ساتھ ناراضگی اور رنجیدگی کا اظہارکرتا ہے تو وہ اس طرح اپنی بیوی کو نہایت خوفناک اور شدید منفی سلوک کا نشانہ بناتا ہے، اور اس طرح کا خاوند ناقابل بھروسہ ہوتا ہے۔ اس طرزعمل کے ذریعے خاوند، شادی کے اس عہد کی خلاف ورزی کرتاہے جس کے تحت وہ اپنی بیوی کو زندگی محبت، چاہت، طمانیت، سکون اور عزت دینے ذمہ دار ہوتا ہے۔
وہ خاوندجو بیوی کے ساتھ ناراضگی اور رنجیدگی کے باعث خاموشی، سکوت کا رویہ اپناتا ہے۔ اپنے ہی خیالوں میں مگن رہتا ہے، وہی خاوند،اپنے تلخ و ترش الفاظ کو اپنی زبان پر نہیں لاتا، اپنے غصے کو ضبط کر لیتا ہے، اور وہ بہت بلکہ لامحدود حد تک اپنی بیوی کا خیال رکھتا ہے،اس کے ساتھ مہربانی اور خوش اخلاقی سے پیش آتاہے۔ وہ نہایت فہم و فراست اور عقلمندی کے ذریعے اختلافات کو سلجھا سکتا ہے۔ یہ خاوند تعریف و ستائش اور ذہنی کاوش و کوشش کے ذریعے اپنی تنقیدی عادت سے بھی چھٹکارا حاصل کر سکتا ہے۔ اس کے بعد وہ نہ صرف اپنی بیوی بلکہ اپنے کاروباری ساتھیوں کے ساتھ بھی بہتر طرزعمل کا اظہار کرنے کے قابل ہو جائے گا۔ اس قسم کی مطمئن اور پرسکون صورتحال کا تصور کیجیے اور پھربالآخر ایک بہتیرن، پرسکون، مطمئن اور باہمی ہم آہنگی پر مبنی زندگی آپ کے سامنے ہو گی۔(جاری ہے) 
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں)

مزید :

ادب وثقافت -