گورنر راج کے بعد قدرے سکون ہے

گورنر راج کے بعد قدرے سکون ہے
گورنر راج کے بعد قدرے سکون ہے

  

 بلوچستان میں سیاسی لحاظ سے دوسرا گورنر راج لگایا گیا ہے یہ بھی سیاسی حسن اتفاق ہے کہ دونوں بار بلوچوں کے نواب ہی گورنر بنے ہیں ۔ دونوں دفعہ پیپلز پارٹی ہی وفاق میں حکمران تھی اور اس نے ہی صوبہ بلوچستان کی حکومت پر دو دھاری تلوار چلائی ہے ۔ 1973 ءمیں بھی مخلوط حکومت تھی ۔ سردار عطاءاللہ مینگل وزیراعلیٰ تھے اور گورنر میر غوث بخش بزنجو تھے ۔ جمعیت علماءاسلام نے بلوچستان میں سردار مینگل کو وزیراعلیٰ کا ووٹ دیا اور اس کے بدلے صوبہ خیبرپختونخوا میں مفتی محمود وزیراعلیٰ بنے اور گورنر ارباب سکندر خان خلیل بنے بلوچستان کی تاریخ میں یہ پہلے انتخابات تھے اور بلوچوں کو پہلی دفعہ ایک صوبہ پر حق حکمرانی حاصل ہو رہا تھا کچھ ان کی ناتجربہ کاری اور وفاق کی عیاری نے صرف نو ماہ بعد اس حکومت کا خاتمہ کر دیا اور ایک پرامن صوبے کو آگ اور خون میںدھکیل دیا گیا اور مسلح تصادم شروع ہو گیا ۔ صوبے میں ایک باوقار وزیراعلیٰ سردار مینگل کی صورت میں موجود تھے اور بلوچستان کے عوام کی صحیح معنوں میں نمائندہ حکومت تھی اس کے خلاف غلط فیصلہ نے پورے صوبے کو مضطرب کر کے رکھ دیا اس آگ کی تپش آج تک موجود ہے ۔ سردار مینگل کی مخلوط حکومت فروری میں ختم کی گئی اور اب نواب اسلم رئیسانی کی مخلوط حکومت بھی موسم سرما میں 14 جنوری کو ختم کی گئی یہ کیسی حکومت تھی یہ ہم سب جانتے ہیں ۔ سردار مینگل حکومت کا بجٹ پورے صوبہ کے لئے شاید 32 یا 35 کروڑ تھا اب 2013 ءکے بجٹ میں ہر ممبر اسمبلی جس میں وزراءبھی شامل ہیں کیلئے 30 کروڑ روپے رکھے گئے اور صوبہ ایک کھنڈر کا نقشہ پیش کر رہا ہے ۔ جب بھی جون کا مہینہ قریب آتا تو پورے صوبہ میں ترقیاتی کام شروع ہو جاتا تھا ۔ کوئٹہ مےں سڑکیں نالیاں بننا شروع ہو جاتی تھیں اسکیموں پر عملدرآمد شروع ہو جاتا تھا جب سے یہ حکومت بنی تھی تو شہریوں نے کبھی جون سے کام ہوتے ہوئے دیکھا ہی نہیں جو کام بھی نچلی سطح پر ہوا وہ جنرل مشرف کے دور حکومت میںہوا یہ کچھ عجیب سی سیاست ہے کہ فوجی ڈکٹیٹر کے دور میں کام ہوتا ہے اور سیاست دانوں کے دور میں کرپشن عروج پر ہوتی ہے یہ اس ملک کاالمیہ ہے ۔ قارئین محترم ! اب جو گورنر راج لگا ہے تو عوام نے سکھ کا سانس لیا ہے اور کچھ کچھ شہر پر سکون لگ رہا ہے ۔ صرف چند وزراءجو وزارتوں سے محروم ہو گئے ہیں وہ پریشان ہیں ان کی پریشانی کے اسباب بھی ہیں ۔ پانچ سالوں تک بیورو کریسی سرکاری قواعد و ضو ابط کی بجائے وزراءکے رحم و کرم پر رہی اور یوں افسر بے بس بنا دئیے گئے تھے ۔ افسران خوش خوش نظر آ رہے ہیں ۔ سیکورٹی کے ادارے عوام کی حفاظت کی بجائے وزراءکی حفاظت پر مامور تھے جس دن سے سیکورٹی واپس لی گئی ہے وزراءاسلام آباد چلے گئے ہیںیا گھروں میں ٹی وی دیکھنے میں مصروف ہیں اور ان کی سرگرمیاں ماند پڑ گئی ہیں ۔اب اس سے بحث نہیں ہے کہ حکومت کیوں گئی وجوہات کیا تھیں کرپٹ تھی یا نا اہل تھی بحث اس نکتہ سے ہے کہ گورنر راج جب لگا دیا گیا ہے تو اس کا مطلب تو بہت واضح ہے کہ اختیارات اب گورنر کو منتقل ہو گئے ہیں ۔ 

دستور پاکستان کے مطابق صدر مملکت کو اطلاع ملے کہ صوبائی حکومت انتظامی مشینری کو آئین کے مطابق چلانے میں ناکام رہی ہے تو صدر مملکت گورنر کواپنی جانب سے یہ حکم دے سکتا ہے کہ وہ صوبائی حکومت کے اختیارات سنبھال لے اور گورنر راج چھ ماہ تک جاری رہ سکتا ہے اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ جب تمام اختیارات جو وزیراعلیٰ کو تھے وہ گورنر کی جانب چلے گئے ہیں اور صوبائی اسمبلی قائد ایوان سے محروم کر دی گئی ہے اب اسمبلی اپنا قائد ایوان منتخب نہیں کر سکتی اس وقت جب تک صدر مملکت ایک اور حکم نہ جاری کر دیں جس میں گورنر سے کہا گیا ہو کہ وہ اسمبلی کا اجلاس چلائیں تا کہ اسمبلی قائد ایوان منتخب کرے اس کے بعد گورنر وزیراعلیٰ سے حلف لے گا اور وزیروں سے حلف لے گا ۔ اب جب تک ایسا آرڈر جاری نہ ہو تو اسمبلی دراصل اپنے اختیارات سے محروم ہے ممبران اسمبلی موجود ہیںلیکن اب ایک لحاظ سے گورنر راج کے بعد ان کے اختیارات معطل ہیں اس لئے اب اجلاس بلانا دستور کی خلاف ورزی ہے گورنر صاحب کو چاہئے کہ اس قسم کے اجلاس کو طلب نہ کریں اور کسی نے بلایا ہے تو اس کی قانونی حیثیت ہی نہیں ہے ایسا اجلاس جو قائد ایوان منتخب نہیں کر سکتا ہے اور ایسا اجلاس جس میں کابینہ ہی موجود نہ ہو تو دستور کی کس شق کے تحت اسپیکر کارروائی جاری رکھ سکتا ہے اس لئے گورنر صاحب سے بھی گزارش ہے کہ وہ بھی دستور کی پابندی کریں اور ابہام سے بچیں چند افراد کا اجلاس ایک مذاق لگتا ہے ۔ بلوچستان کی پارلیمانی تاریخ کا ریکارڈ ہے ایک شریف اور معزز رکن کو جو کچھ اجلاس کے دوران کہا گیا وہ ایک افسوسناک واقعہ تھا اس کو دیکھ کر لوگ حیران تھے کہ اس طرح بھی ہوتا ہے بلوچستان اسمبلی میں اور یہ بھی ریکارڈ ہے کہ اجلاس بلایا گیا تو وہ صرف 3 منٹ جاری رہ سکا ۔ ارکان اسمبلی وزراءکو ایوان میں آنا کتنا بوجھ لگتا تھا یہ بلوچستان کی نمائندگی کا عالم تھا یوں یہ اسمبلی بلوچستان کے عوام پر بوجھ تھی بوجھ اتر گیا تو لوگ پر سکون ہو گئے ہیں اور اپنی خوش گپیوں میں مصروف ہیں کچھ کچھ صوبائی دارالحکومت بھی خوش خوش نظر آ رہا ہے ۔  ٭

مزید :

کالم -