قاضی حسین احمد کی ہمہ جہت شخصیت اور زندگی کے چند دل نواز اور تابناک پہلو(8)

قاضی حسین احمد کی ہمہ جہت شخصیت اور زندگی کے چند دل نواز اور تابناک پہلو(8)
قاضی حسین احمد کی ہمہ جہت شخصیت اور زندگی کے چند دل نواز اور تابناک پہلو(8)

  



  قاضی حسین احمد اتحاد اُمت کے نقیب کی حیثیت سے: قاضی حسین احمد نے بحیثیت امیر جماعت ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد جہاں دوسری دینی جماعتوں کے ساتھ روابط پیدا کر کے جماعت اسلامی اور ان جماعتوں میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دُور کیا، وہاں پاکستان کے مختلف مکاتب فکر، خصوصاً شیعہ، سنی کے درمیان محاذ آرائی کو ختم کرنے کے سلسلے میں اہم کردار ادا کیا۔ اِس سلسلے میں قاضی حسین احمد نے مختلف دینی و مذہبی جماعتوں اور مسالک کے قائدین سے ذاتی تعلقات پیدا کر کے انہیں ایک پلیٹ فارم پر متحد اور منظم کرنے کی کوشش کی۔ اِس سلسلے میں قاضی حسین احمد نے جس حکمت عملی کو اپنے مقصد زندگی کے طور پر اپنایا، وہ اتحاد الامہ علی الکتاب والسنہ کا شعار ہے۔ مختلف مکاتب فکر کے درمیان اتحاد و یکجہتی کو فروغ دینے کے سلسلے میں قاضی حسین احمد نے مختلف مکاتب فکر کے جن قائد ین سے ربط و تعلق استوار کیا، ان میں بریلوی مکتب فکر کے قائد مولانا شاہ احمد نورانی، دیوبندی مکتب فکر کے قائدین مولانا فضل الرحمن صاحب اور حافظ حسین احمد صاحب اور جماعت اہل حدیث کے صدر پروفیسر ساجد میر صاحب اور شیعہ رہنما علامہ ساجد نقوی بطور خاص قابل ذکر ہیں ۔ چنانچہ قاضی صاحب ؒکی انہی مساعی کے نتیجے میں پہلے ملی یکجہتی کونسل وجودمیں آئی، جس کے نتیجے میں شیعہ، سنی اور دیوبندی، بریلوی مکتب فکر کے درمیان جاری محاذ آرائی اور قتل و غارت کا بڑھتا ہوا سلسلہ مکمل طور پر رک گیا ۔ اگرچہ درمیان میں کچھ عرصے کے لئے ملی یکجہتی کونسل بوجوہ فعال نہ رہ سکی، لیکن اپنی وفات سے کچھ پہلے انہوں نے اس مقصد کے لئے ملی یکجہتی کونسل کو فعال کر کے اس کے زیر اہتمام اسلام آباد میں پوری دُنیائے اسلام کے علماءو مشائخ اور قائدین کی ایک عظیم کانفرنس منعقد کی، جس میں ملائشیا ، ترکی ، تاجکستان ، افغانستان ، ایران اور دُنیا کے دیگر مسلمان ممالک سے سینکڑوں کی تعداد میں علماءو مشائخ اور اسلامی تحریکوں کے قائدین نے شرکت کی۔ یہ کانفرنس اتحاد عالم ا سلامی کی طرف ایک اہم قدم کی حیثیت رکھتی ہے ۔ امید ہے کہ قاضی حسین احمد کی وفات کے بعد اس سلسلے میں کی جانے والی کوششوں کا سلسلہ جاری رہے گا، انشا اللہ ۔متحدہ مجلس عمل کا قیام :دینی قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد اور منظم کرنے کے لئے قاضی حسین احمد نے ملی یکجہتی کونسل کے علاوہ متحدہ مجلس عمل کے نام سے ایک انتخابی اتحاد بھی تشکیل دیا، اس اتحاد کے نتیجے میں 2002ءکے انتخابات کے دوران متحدہ مجلس عمل پاکستان ،خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں برسر اقتدار آئی اور وہاں اس نے اپنے منشور کے مطابق صوبے کی تعمیر و ترقی اور خوشحالی کے سلسلے میں جو اقدامات کئے ، دُنیا کے کئی بین الاقوامی اداروں نے انہیں مثالی قرار دیا ۔ بعد میں بدقسمتی سے بوجوہ یہ انتخابی اتحاد قائم نہ رہ سکا۔

عالمی اسلامی تحریکوں کے ممتاز قائد کی حیثیت سے: قاضی حسین احمد کی عظیم دینی اور ملی خدمات کا یہ تذکرہ نامکمل رہے گا ،اگر ہم اس میں قاضی حسین احمد کے عالمی اسلامی تحریکوں میں مقام اور اس حوالے سے ان کے کردار کا تذکرہ نہیں کریں گے۔ قاضی حسین احمد نہ صرف اسلام کی ایک عظیم تحریک جماعت اسلامی کے سربراہ کی حیثیت سے عالمی اسلامی تحریکوں کے قائدین میں ایک ممتاز مقام رکھتے تھے، بلکہ ذاتی حیثیت میں بھی ان کا ان تحریکوں کے قائدین میں ایک ممتاز مقام تھا، جس کا اندازہ صرف اسی شخص کو ہو سکتا ہے، جسے قاضی حسین احمد کے ہمراہ عالمی اسلامی تحریکوں کے زیراہتمام مختلف عالمی کانفرنسوں میں شرکت کی سعادت حاصل رہی ہو۔ ان عالمی اسلامی کانفرنسوں میں قاضی حسین احمد کو ہمیشہ مہمان خصوصی کی حیثیت حاصل ہوتی تھی۔

قاضی حسین احمد القدس فا¶نڈیشن کے بانی ممبران آف ٹرسٹیز میں سے تھے۔ اس فا¶نڈیشن کے سربراہ عالم اسلامی کے ممتاز مفکر اور سکالر علامہ ڈاکٹر یوسف القرضاوی ہیں ۔ مجھے بھی اس فا¶نڈیشن کے بورڈ آف ٹرسٹیز کا رکن ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ مجھے با رہا قاضی حسین احمد کے ہمراہ القدس فا¶نڈیشن کے اجلاسوں میں شرکت کی سعادت حاصل رہی ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ ان اجلاسوں میں قاضی حسین احمد کو ایسی خصوصی حیثیت حاصل ہوتی تھی جو ان کے علاوہ کسی دوسرے عالمی رہنما کو حاصل نہیں ہوتی تھی۔ اسی طرح قاضی حسین احمد انٹرنیشنل یونین آف مسلم سکالرز کی مجلس اساسی کے ممبربھی تھے۔ اس مجلس کے سربراہ بھی ڈاکٹر علامہ یوسف القرضاوی ہیں، مجھے اس مجلس کی جنرل کونسل کا رکن ہونے کا شرف بھی حاصل ہے ۔ مَیں نے اس عالمی تنظیم کے اجلاسوں میں بھی ہمیشہ قاضی حسین احمد کے خصوصی احترام و مقام کا مشاہدہ کیا ہے۔ اسی طرح مجھے ایک بار سوڈان میں بھی قاضی حسین احمد کے ہمراہ ایک عالمی اسلامی کانفرنس میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی ۔ اس کانفرنس میں سوڈان اسلامی تحریک کے رہنما ڈاکٹر حسن ترابی اور سوڈانی صدر عمر بشیر کی طرح قاضی حسین احمد کو بھی خصوصی پروٹوکول حاصل تھا۔ مزید برآںاسی طرح مجھے قاضی حسین احمد کے ہمراہ ترکی کی سعادت پارٹی کے زیر اہتمام سلطان محمد فاتح کے ہاتھوں استنبول کی فتح کے سلسلے میں منعقدہ ایک کانفرنس میں شرکت کی سعادت بھی حاصل رہی ہے۔ وہاں مَیں نے اس بات کا مشاہدہ کیا کہ قاضی صاحب رحمہ اللہ کو اس کانفرنس میں مہمان خصوصی کی حیثیت حاصل تھی۔ عالمی اسلامی تحریکوں کے قائدین میں قاضی حسین احمد کے مقام و مرتبے کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جب کہیں دُنیا میں مختلف عالمی اسلامی تحریکوں کے درمیان کوئی اختلاف پیدا ہوتا تو اس سلسلے میں ثالثی کے لئے ہمیشہ قاضی حسین احمد کی طرف رجوع کیا جاتا رہا۔ اس کا اندازہ اس بات سے بھی کیا جا سکتا ہے کہ آج سے کچھ عرصہ پہلے جب سوڈان میں وہاں کی اسلامی تحریک کے دو رہنماﺅں ڈاکٹر حسن ترابی اور صدر عمر بشیر کے درمیان اختلاف پیدا ہوا تو اس وقت ثالثی کے لئے قاضی حسین احمد کو دعوت دی گئی۔ اسی طرح جب ترکی میں ملی سلامت پارٹی کے بانی سربراہ پروفیسر نجم الدین اربکان مرحوم اور موجودہ وزیراعظم رجب طیب اردگان کے درمیان اختلاف پیدا ہوا تو اس سلسلے میں بھی ثالثی کے لئے قاضی حسین احمد کو تکلیف دی گئی۔ اسی طرح جب افغانستان میں جناب گلبدین حکمت یار اور پروفیسر برہان الدین ربانی کے درمیان اختلاف رائے پیدا ہوا تو اس موقع پر بھی قاضی حسین احمد کو دونوں کے درمیان ثالثی کے لئے تکلیف دی گئی۔ عالمی اسلامی تحریکوں کے قائدین کی طرف سے قاضی صاحب رحمہ اللہ کی وفات پر خراج عقیدت:عالمی اسلامی تحریکوں کے قائدین میں قاضی حسین احمد کے خصوصی مقام و مرتبے کا کچھ اندازہ ان تعزیتی پیغامات سے بھی لگایا جا سکتا ہے جو ان کی وفات کے موقعہ پر عالمی اسلامی تحریکوں کے مختلف قائدین نے دیئے۔ ان میں اخوان المسلمین کے مرشد عام ڈاکٹر محمد بدیع، ترک وزیر اعظم طیب اردگان، انٹرنیشنل یونین آف مسلم سکالرز کے سربراہ علامہ یوسف القرضاوی، اخوان المسلمون اردن کے سربراہ ڈاکٹر ہمام سعید، سوڈان کے صدر عمر البشیر، نائب صدر علی عثمان، سوڈان کی تحریک اسلامی کے سربراہ ڈاکٹر حسن ترابی، افغانستان کی حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار، حماس کے سربراہ خالد مشعل، فلسطین کے صدر محمود عباس اور تحریک آزادیءکشمیر کے قائد سید علی گیلانی، ایران سے آیت اللہ محسن الاراکی، امیر جماعت اسلامی ہند مولانا جلال الدین عمری، جماعت اسلامی سری لنکا کے امیر رشید حج الاکبر، یورپی مسلم کونسل کے صدر میاں عبدالحق قابل ذکر ہیں۔ علاوہ ازیں امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منور حسن سے ٹیلی فون ، ای میلز او رخطوط کے ذریعے اسلامی تحریکوں کے دیگر کئی سربراہان، سیاسی زعمائ، علمائے کرام اور قومی و عالمی شخصیات نے اظہار تعزیت کیا اور قاضی حسین احمدؒکی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی بلندی درجات کی دعا کی۔ ترک وزیر اعظم طیب اردگان نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان کے لئے ان کی خدمات اور پاک ترک دوستی مضبوط کرنے کے لئے ان کا کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ قائم مقام ترک سفیر سلیمان سوہا نے منصورہ میں امیر جماعت اسلامی سید منورحسن کو ترک وزیراعظم کا تعزیتی خط پہنچایا۔ مصر کی حکمران جماعت اور دنیائے اسلام کی مشہور اسلامی تحریک اخوان المسلمون کے مرشد عام ڈاکٹر محمد بدیع نے اپنے تعزیتی پیغام میں جماعت اسلامی پاکستان اور قاضی حسین احمدکے اہل خانہ نیز عزیز و اقارب سے تعزیت کرتے ہوئے کہا:"ہم عظیم مجاہد قاضی حسین احمد کی وفات پر جماعت اسلامی پاکستان اور قاضی حسین احمد کے اہل خانہ، نیز پاکستانی بھائیوں سے دل کی گہرائیوں سے تعزیت کرتے ہیں ۔ قاضی حسین احمد نے دعوت و جہاد اور اسلام کی عظمت و سربلندی نیزمسلم امہ کو درپیش مسائل کے حل کے حوالے سے جو عظیم کوششیں کی ہیں، ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ان کوششوں کو قبول فرمائے اور قاضی حسین احمد کوجنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔"انٹرنیشنل یونین اور مسلم سکالر کے سربراہ اور عظیم اسلامی مفکر علامہ ڈاکٹر یوسف القرضاوی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا:”ہمیں قاضی حسین احمد کی وفات کی خبر سن کر بے پناہ صدمہ ہوا ہے ۔ قاضی حسین احمد کا شمار مسلم امہ کے ممتاز قائدین میں ہوتا ہے، وہ انٹرنیشنل یونین آف مسلم سکالر کی مجلس تاسیسی کے ممتاز رکن تھے۔ ہم ان کی وفات پر جماعت اسلامی پاکستان اور ان کے اہل خانہ، نیز عزیز و اقارب سے دل کی گہرائیوں سے تعزیت کرتے ہیں۔ قاضی حسین احمد پانچ بار سے زیادہ عرصہ تک عالم اسلام کی عظیم اسلامی تحریک جماعت اسلامی کے،جس کے بانی مولانا سیدابو الاعلیٰ مودودی تھے، سربراہ رہے ہیں ،اور وہ پاکستان کی پارلیمنٹ اور سینٹ کے بھی رکن رہے ہیں۔ قاضی حسین احمد عالم اسلام کو درپیش مسائل، خصوصاً مسئلہ فلسطین ، مسئلہ کشمیر ، مسئلہ شیشان اور برما کے مسلمانوں کے مسائل کے حل کے لئے پوری زندگی مصروف جہاد رہے ہیں۔ قاضی حسین احمد کی وفات کی صورت میں مسلم امہ ایک ایسے عظیم رہنما سے محروم ہو گئی ہے جو ہمیشہ اور ہر پلیٹ فارم پر کلمہ حق کہتا تھا۔ ہماری اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ راہ حق میں ان کی کوششوں کو قبول فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے ، نیز جماعت اسلامی کے کارکنوں اور قاضی حسین احمد کے اہل خانہ اور عزیز و اقارب کو صبر جمیل عطا فرمائے "۔

سعودی عرب کی اسلامی تحریک کے رہنما ڈاکٹر عوض بن محمد القرنی نے قاضی صاحب رحمہ اللہ کی وفات پر اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ:” قاضی حسین احمد پوری مسلم امہ کے رہنما تھے ، جن کی وفات سے ایک بہت بڑا خلاءپیدا ہو ا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ راہ حق میں ان کی کوششوں کوقبول فرمائے ، انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے اور مسلم امہ میں ان کا کوئی ایسا نعم البدل پیدا کر ے جو اس عظیم خلاءکو پورا کرے“۔کشمیری رہنما سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور دیگر نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ قاضی حسین احمد کا انتقال امت مسلمہ اور پاکستانی قوم کے لئے بڑا نقصان ہے۔ سابق امیر جماعت اسلامی دینی قوتوں کے اتحاد کی علامت تھے، امہ کو ہر مشکل وقت میں قاضی حسین احمد کی یاد آتی رہے گی۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما¶ں نے جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر قاصی حسین احمد کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے، جبکہ سید علی گیلانی نے اعلان کیا ہے کہ سفری دستاویزات فراہم ہونے کی صورت میں مرحوم کے اہل خانہ اور دیگر لواحقین سے اظہار تعزیت کرنے کے لئے پاکستان جائیں گے۔ 

سرینگر سمیت مقبوضہ وادی کے کئی حصوں میں مرحوم کی غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کی گئی۔ اپنے ایک بیان میں حریت کانفرنس (گ) کے رہنما سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ قاضی حسین احمدکا انتقال میرے لئے ذاتی طور پر انتہائی رنجیدہ اور روح فرساءہے۔ انہوں نے کہا کہ مَیں ایک شفیق بھائی سے محروم ہوگیا ہوں۔انہوں نے کہا کہ مولانا مودودی کے بعد قاضی حسین احمد ہی جماعت اسلامی پاکستان کے ایسے قائد تھے، جنہوں نے مملکت خداداد پاکستان میں اسلام کے انقلابی تصور کو عام کرنے کے لئے انتھک محنت کی۔ ان کے سینے میں پوری ملت کا درد چھپا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مَیں نے حج کے موقع پر مرحوم کے ساتھ متعدد ملاقاتیں کیں۔مَیں نے ان کو کشمیریوں کی حالت زار پر تڑپتا ہوا پایا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کشمیر کاز کو اپنی جان سے زیادہ عزیز سمجھتے تھے اور انہوں نے اس کے لئے اندرون و بیرون ملک ناقابل فراموش خدمات سرانجام دیں۔انہوں نے کہا کہ قاضی حسین احمد کی رحلت پوری کشمیری قوم کے لئے بھی ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ ادھر تحریک حریت کے صدر دفاتر واقع حیدر پورہ میں قائم مقام چیئرمین محمد اشرف صحرائی کی زیر صدارت ایک ہنگامی تعزیتی اجلاس بلایا گیا، جس میں تحریک حریت کے کئی زعماءنے شرکت کی۔ اجلاس میں مرحوم قاضی حسین احمد کی تحریک اسلامی اور کشمیریوں کی تحریک آزادی کے لئے خدمات کو یاد کیا گیا اور انہیں شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا گیا۔اجلاس میں مرحوم کے لئے اجتماعی فاتحہ خوانی کی گئی اور ان کے لواحقین کے ساتھ تعزیت بھی کی گئی۔ حریت کانفرنس کے چیئرمین میر واعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر قاضی حسین احمد کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اپنے تعزیتی بیان میں حریت چیئرمین نے کہا کہ قاضی حسین احمد مرحوم کی اچانک وفات کی خبر سن کر مَیں سکتے میں آگیا ہوں اور موصوف کی وفات سے مجھے ذاتی طور پر صدمہ پہنچا ہے۔میر واعظ نے قاضی حسین احمد کی پاکستانی عوام کی طویل دینی و ملی اور سیاسی خدمات ،خاص طور پر دیرینہ مسئلہ کشمیر کے تعلق سے واضح اور غیر مبہم موقف اور کشمیریوں کے حق و انصاف پر مبنی حق خودارادیت کی جدوجہد کی پرزور حمایت پر قاضی حسین احمد مرحوم کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیااور کہا کہ قاضی حسین احمد سے میری براہ راست ملاقات تھی اور ان کی دینداری اور اصول پسندی سے مَیں بے حد متاثر تھا ۔ مرحوم میرے ساتھ بے حد شفقت فرماتے تھے۔ حریت چیئرمین نے کہا کہ قاضی حسین احمد کے انتقال سے پاکستانی عوام اور ملت اسلامیہ ایک بیدار مغز قائد سے محروم ہوگئی ہے۔  دریں اثناءمقبوضہ وادی کے مختلف علاقوں میں جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں حریت رہنما¶ں سمیت بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ورلڈ اسلامک آرگنائزیشن کے وفد نے شیخ مظہر شفیع کی زیرقیادت اور پنجاب پریس کونسل کے صدر محمد یامین صدیقی کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی وفد نے منصورہ میں امیر جماعت اسلامی سید منور حسن اور سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ سے قاضی حسین احمدکی وفات پر تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ قاضی حسین احمد کی ملک و ملت کے لئے خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے قاضی حسین احمد کے انتقال پر ایک پیغام میں پاکستانی عوام اور حکومت کو تعزیت پیش کی ہے اور دعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے درجات کو بلند کرے۔ایرانی وزیر خارجہ نے پیغام میں کہا کہ قاضی حسین احمد بزرگ عالم دین اور آگاہ سیاستدان تھے ،انہوں نے شیعہ و سنی مسلمانوں کے درمیان اتحاد کے سلسلے میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ قاضی حسین احمد پوری عمر اتحاد بین المسلمین کے لئے کام کرتے رہے ،نیز اسلام اور امت اسلامی کی سربلندی کی راہ میں کبھی بھی کسی دھمکی اور دہشت گردی سے نہیں ڈرے، بلکہ اتحاد اسلامی کی راہ میں ہمیشہ اپنے موقف پر ڈ ٹے رہے۔عالمی مجلس تقریب مسالک اسلامی کے سربراہ آیت اللہ محسن اراکی نے اپنا تعزیتی پیغام ارسال کرتے ہوئے کہا:”عالمی مجلس تقریب مسالک اسلامی قاضی حسین احمد کی، جنہوں نے اپنی بابرکت زندگی استعمار، خاص کر امریکہ کے خلاف جہاد کرنے میں گزاری، رحلت کی خبر سن کر نہایت افسوس ہوا۔مرحوم مجاہد عالم عمر بھر اسلامی بیداری کو اجاگر کرنے اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد پیدا کرنے کے لئے کوشاں تھے۔ مَیں اپنی طرف سے اور عالمی ادارہ مجلس تقریب مسالک اسلامی کی مجلس شوری کی طرف سے مرحوم کے خاندان اور برصغیر کے مسلمان عوام کی خدمت میں تعزیت پیش کرتا ہوں اور اللہ سبحان و تعالیٰ کی بارگاہ میں پسماندگان کے لئے صبر و بردباری کے لئے دعا گو ہوں“۔(ختم شد)  ٭

مزید : کالم