بھارت پسندیدہ کیسے ہو سکتا ہے؟

بھارت پسندیدہ کیسے ہو سکتا ہے؟
بھارت پسندیدہ کیسے ہو سکتا ہے؟

  



قائداعظم محمد علی جناحؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔شہ رگ کے بغیر کسی ذی روح کا زندہ رہنا ممکن نہیں۔جب شہ رگ پر دشمن کا انگوٹھا ہوتو زندگی کا دارومدار اسی کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔بانیءپاکستان نے دشمن کے قبضے سے اپنی شہ رگ چھڑانے کی کوشش کی۔ انہوں نے پاکستان کے انگریز آرمی کمانڈر جنرل گریسی کو کشمیر پر قبضے کی ہدایت کی۔جنرل گریسی نے یہ کہہ کر کشمیر میں فوجی طاقت سے گریز کیا کہ بھارتی آرمی چیف، فیلڈ مارشل ایکنلک اس کا بھی کمانڈر ہے۔ایک ہی کمانڈر کے ماتحت دو فوجوں کے مابین تصادم خطرناک ہوگا۔ کشمیر کے حوالے سے قائداعظمؒ کی کمٹمنٹ کا اندازہ اس بات سے بھی سے لگایا جا سکتا ہے کہ آزادی کے بعد ابھی فوج پوری طرح منظم اور مسلح نہیں ہوئی تھی کہ قائداعظمؒ نے فوجی قوت کے ذریعے کشمیر کی آزادی کاحکم دے دیا تھا۔جنرل گریسی کے انکار یا گریز پر یہی کام مجاہدین نے کیا اور کشمیر کا بڑا حصہ آزاد کرالیا جو آج آزاد کشمیر کی حیثیت سے موجود ہے۔بعید نہیں تھا کہ مجاہدین پوری وادی کو آزاد کرا لیتے کہ بھارت نے اقوام متحدہ میں واویلا شروع کیا،جس پر سیز فائر ہوا اور اقوام متحدہ نے مسئلہ کشمیر کا حل کشمیریوں کے لئے حق خودارادیت کی صورت میں تجویز کردیا، اسے بھارت نے بھی تسلیم کیا، لیکن آج 64سال بعد بھی بھارت کشمیریوں کو یہ حق دینے پر تیار نہیں۔اس دوران بھارت نے آئین میں ترمیم کرتے ہوئے مقبوضہ وادی کو اپنی ریاست کا درجہ دے دیا اور پورے کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دینے کی پالیسی اختیار کرلی....افسوسناک امر ہے کہ قائد کے بعد آنے والے حکمرانوں نے کشمیر پر وہ کمٹمنٹ نہیں دکھائی جس کا اظہار قائداعظمؒ نے زبانی اور عملی طور پر کیا تھا۔ہر آنے والے حکمران نے کشمیر کے معاملے میں پسپائی اختیار کی۔ہم کشمیر تو کیا لیتے، پاکستان کا ایک بازو مشرقی پاکستان ہی کٹوا بیٹھے۔موجودہ اور گزشتہ حکمرانوں نے تو پاکستان کے اصولی موقف ”مسئلہ کشمیر یو این قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے“ سے واضح انحراف کیا ہے۔ پرویز مشرف خودمختاری سمیت کئی حل تجویز کررہے تھے، اس کے علاوہ بھارت کے ساتھ تعلقات، تجارت اور دوستی کو فروغ دیتے رہے۔موجودہ حکومت پرویز مشرف کی مسئلہ کشمیر کے حوالے سے صحیح جانشین ثابت ہوئی ہے۔اس نے تو مسئلہ کشمیر کویکسر فراموش کردیاہے۔ تجارت، تعلقات اور دوستی کو اس حد تک فروغ دیا کہ بھارت کو تجارت کے حوالے سے پسندیدہ ترین قرار دینے پر تلی ہوئی ہے۔پاکستان، بھارت کے مابین ہزاروں اشیاءکی درآمد اور برآمد ممنوع ہے۔ہمارے حکمران ہر طرح کی تجارت پر کمربستہ ہیں۔پاکستان اور بھارت کے مابین کبھی خوشگوار تعلقات نہیں رہے۔تقسیم کے موقعہ پر لاکھوں مسلمانوں کو بڑی بیدردی اور بے رحمی سے قتل کیا گیا۔یہ سلسلہ آج کشمیر میں بھارت کی سات لاکھ مسلح افواج جاری رکھے ہوئے ہیں۔وہاں خواتین کی بے حرمتی بھی معمول ہے۔لاپتہ افراد کی اجتماعی قبریں دریافت ہوتی ہیں۔غیرجانبدار اور عالمی تنظیمیں،حتیٰ کہ اقوام متحدہ بھی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیوں کی رپورٹیں مرتب کرچکی ہے۔یہ سب کچھ پاکستان کی شہ رگ میں ہورہا ہے اور مظلوم کشمیریوں پر ستم ڈھایاجا رہا ہے،جبکہ ہماری حکومت اسے پسندیدہ ترین قوم قرار دینے کے لئے تیار ہے، جس کا کوئی جواز نہیں ہے۔دو ہمسایوں کو اچھے طریقے سے رہنا چاہیے، ان کے مابین دوستی بھی ہونی چاہیے، تعلقات اور تجارت بھی ہو، لیکن کشمیر جیسے تنازع کے ہوتے ہوئے یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟اکثر پاکستانی بھارت کو یہ سٹیٹس دینے پر تیار نہیں، اس کی وجہ جذباتی بھی ہے اور حقائق کا ادراک بھی۔ بھارت کو پسندیدہ قوم قرار دینے سے پاکستان کی معیشت پر بُرے اثرات مرتب ہوں گے۔اس فیصلے کی عوامی سطح پر کاروباری طبقات اورمختلف شہروں کے چیمبر آف کامرس کی طرف سے شدید مخالفت کی جارہی ہے ۔ وزارت صنعت کی طرف سے بھی بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے کے فیصلے پر تحفظات ظاہر کئے گئے ہیں۔وفاقی کابینہ نے گو وزارت تجارت کو فوری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، لیکن لگتا ہے کہ حکمران عوامی دباﺅ کے باعث اتنا بڑا فیصلہ کرنے سے ہچکچا رہے ہیں ، پھر انتخابات میں عوامی ووٹروں کے ردعمل کا بھی ان کو سامنا کرنا پڑے گا، اس لئے وہ یہ فیصلہ شائد متوقع نگران حکومت کے لئے چھوڑ دیں۔ حکمران تذبذب سے باہر نکلیں اور بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے کے بجائے اس پر مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے دباﺅ ڈالیں۔ حکمران جو اپنی آئینی مدت کے خاتمے کی دہلیز پر قدم رکھ چکے ہیں،قومی اہمیت کا اتنا بڑا فیصلہ نہ کریں جو عوام اور کشمیریوں کے لئے قابل قبول نہ ہو۔جو بھی حکومت ہو، پہلے مسئلہ کشمیرکے حل کا اہتمام کرے، اس کے بعد وہ بھارت کے ساتھ تجارت کرے اور حالات بہتر ہوں تو اسے پسندیدہ بھی قرار دے دیں۔ ٭

مزید : کالم