عہد ِ سعید

عہد ِ سعید
عہد ِ سعید
کیپشن: dr amjad saqib

  

وہ ایک خوبصورت شام تھی.... ہمدرد منزل میں اس روز بہت سے لوگ جمع تھے ۔ یہ سب منتخب لوگ تھے، لیکن جس شخص کی یاد انہیں یہاں کھینچ لائی تھی، وہ منتخب تر تھا۔ حکیم محمد سعید، ایک سوچ، ایک فکر، ایک عہد .... ”حکیم سعید کے دنیا سے رخصت ہوتے ہی اس خوبصورت عہد کا خاتمہ ہو گیا، جسے لوگ ” عہد ِ سعید“ کہتے ہیں“۔ ایک مقرر نے جب یہ بات کہی تو بہت سے لوگوں نے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ عہد ِ سعید ابھی ختم نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑے لوگ رخصت ہو جاتے ہیں، لیکن ان کا عہد بر قرار رہتا ہے۔

ہمہ جہت، ہمہ صفت، نادرِ روزگار.... وہ جو کسی نے کہا کہ بڑے لوگ انعام کے طور پر ملتے ہیں اور سزا کے طور پر واپس لے لئے جاتے ہیں۔ حکیم محمد سعید واقعتا ایک انعام تھے۔ وہ انعام کے طور پر ملے اور سزا کے طور پر واپس لے لئے گئے۔ جب وہ تقسیم ہند کے بعد پاکستان پہنچے تو ان کے پاس دام و درہم نام کی کوئی شے نہیں تھی اور جب شہید ہو کر دنیا سے رخصت ہوئے، تو کروڑوں نہیں اربوں کے مالک بن چکے تھے۔ مال و دولت، مرتبہ و جائیداد، لیکن وہ اپنے ساتھ کچھ بھی لے کر نہیں گئے۔ دمِ رخصت اپنی تمام دولت ایک ٹرسٹ کی صورت میں غریبوں کے لئے وقف کر گئے۔ صرف یہ کہا کہ مَیں نے اس مٹی سے، جو کچھ کمایا، اس پر اسی مٹی کا حق ہے۔ ایک دانا شخص نے کہا حکیم محمد سعید طبیب نہیں، حکیم تھے۔ طبیب وہ ہوتا ہے، جسے طب میں کمال حاصل ہو۔ حکیم وہ ہوتا ہے، جو طب کے ساتھ ساتھ حکمت میں بھی ید ِ طولیٰ رکھتا ہو، فہم و فراست کا پیکر، دانشمندی کا مظہر، حکیم سعید دیدہ ور تھے ۔ حسن ِ نظر سے مزین۔

وہ ادیب بھی تھے اور مقرر بھی۔ بولتے تو پھول جھڑتے اور لکھتے تو چمن کھلا دیتے۔ لہجے میں گداز اور لفظوں میں خوشبو۔ انہوں نے اپنی زندگی میں ہزاروں تقریریں کیں اور بیسیوں کتابیں لکھیں۔ ان کی تقریریں بھی کمال، ان کی تحریریں بھی کمال۔ اخلاص ان کی عادت تھی اور انکسار ان کا وطیرہ۔ وہ ایک عظیم منتظم بھی تھے۔ ہمدرد کے نام سے ملک بھر میں پھیلا ہوا کاروباری ادارہ ان کی انتظامی صلاحیتوں کا مُنہ بولتا ثبوت ہے۔ کیا یہ بات معجزہ نہیں کہ ایک شخص نے طب اور مشروبات کو بھی تہذیب اور ثقافت کا حصہ بنا دیا۔ حکیم سعید نے طب کا علم اس وقت اُٹھایا، جب لوگ اس سے مُنہ موڑ رہے تھے۔ بڑا آدمی وہ نہیں جو خود عظمت سے ہمکنار ہو۔ بڑا آدمی تو وہ ہے،جو نئے راستوں کا تعین کر لے اور پھر لوگ ان راستوں کو اپنی منزل بنا لیں۔ حکیم سعید نے ہمدرد پاکستان کی صورت میں ایک راستے کا تعین کیا اور پھر بہت سے لوگ اس راستے پر چلنے لگے۔

حکیم سعید نے دنیا بھر کی سیر کی اور کئی ایک سفر نامے بھی لکھے۔ کچھ منتخب تحریریں۔ زندگی آمیز اور زندگی آموز ادب۔ یہ ایسا ادب ہے جو قلب و جاں کو راحت بھی دیتا ہے اور ایک کسک بھی بیدار کرتا ہے۔ یہ کسک جستجو سے عبارت ہے۔ تبدیلی کی طرف آمادہ کرتی ہے۔ کسی بڑے آدرش سے جوڑتی ہے۔ ذات سے بلند کر کے انسانیت کی طرف لے جاتی ہے....حکیم سعید نے اپنی زندگی میں عوامی اور سیاسی عہدے بھی قبول کئے۔ جب گورنر بنے تو تنخواہ،گاڑی اور دیگر مراعات لینے سے انکار کردیا۔ کوئی ہے جو ایثار کی یہ مثال قائم کر سکے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں،جو صدر یا سپیکر بن کر قومی دولت سے مستفید ہوتے ہیں، پھر تاحیات انہی مراعات کے ساتھ زندہ رہتے ہیں اور ایک طرف حکیم سعید ہیں جو کہتے ہیں کہ جس قوم نے مجھے گورنر بنا دیا، مَیں اس قوم سے مزید کیا مانگوں۔

اس عظیم شخص کی یاد میں ہونے والی اس خوبصورت تقریب میں بہت سے لوگ موجود تھے۔ محترمہ ذکیہ شاہنواز، جسٹس نذیر احمد غازی، ابصار عبدالعلی، حکیم سعید کی نواسی.... مشہور قانون دان ایس ایم ظفر اس تقریب کے منتظم تھے۔ انہوں نے بے حد خوب صورت باتیں کیں۔ رُلا دینے والی۔ ان باتوں کے دوران انہوں نے یہ سوال بھی پوچھا کہ” کیا کوئی قوم حکیم سعید کو بھی شہید کر سکتی ہے“۔کچھ لوگوں نے اس کا جواب دینے کی کوشش کی....”جب حرص اور طمع کے اندھیرے پھیلنے لگیں، جب تعصب اور جہالت وطیرہ بن جائیں، جب شرافت اور اقدار منہ موڑ لیں، جب کم ظرف کرسی ¿ اقتدار کی طرف دیکھنے لگیں، جب سیاست اور خدمت کاروبار بن جائیں تو قدرت اپنا انعام واپس لے لیتی ہے۔ اس گھٹی ہوئی فضا میں حکیم سعید زندہ نہیں رہتے شہید ہو جاتے ہیں“۔

کچھ مقررین نے بہت سی ایسی باتیں کیں، جن پر لوگوں کی آنکھیں بھیگنے لگیں،لیکن آنسو اظہارِ ندامت ہیں، جرم کا مداوا نہیں۔ حکیم سعید کا خون ہمارے قومی ضمیر پر بدنما داغ ہے۔ اس خون سے ہماری بزدلی اور بے حسی کی بو آتی ہے۔ اٹھو اے اہل ِ پاکستان اٹھو....نفرت اور تشدد، حرص اور طمع، تعصب اور جہالت.... ان کا خاتمہ کرو.... وطن کی مٹی سے یہ سوال نہ پوچھو کہ اس نے تمہیں کیا دیا۔ اپنے آپ سے یہ سوال پوچھو کہ تم نے اس مٹی کو کیا دیا۔ تقسیم اور تخریب یا ایثار اور قربانی، محبت اور بھائی چارہ.... ”بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا“.... حکیم محمد سعید ہر روز جنم نہیں لیتے۔ انہوں نے جو کمایا، وہ وطن ِ عزیز کو لوٹا دیا۔ دولت ہی نہیں، زندگی بھی دے دی، شاید اس لئے کہ کچھ اور لوگوں کو زندگی مل سکے۔ اے اہل ِ وطن! تم بھی تو کچھ دو کہ جودیتا ہے وہی بقا سے ہم کنار ہوتا ہے۔ حکیم سعید کی شہادت پر بہت سی آنکھیں اشکبار ہوئیں، لیکن ان کے بھائی حکیم عبدالحمید نے دلی سے جو پیغام بھیجا وہ امر ہو گیا۔ انہوں نے لکھا.... ”سعید! مَیں کوفہ میں بھی محفوظ رہا اور تم مدینہ میں ماردیئے گئے“.... یہ فقرہ صرف حکیم سعید کا مرثیہ نہیں پوری قوم کا مرثیہ ہے....وہ ایک خوبصورت شام تھی۔

عہد ِ سعید

وہ ایک خوبصورت شام تھی.... ہمدرد منزل میں اس روز بہت سے لوگ جمع تھے ۔ یہ سب منتخب لوگ تھے، لیکن جس شخص کی یاد انہیں یہاں کھینچ لائی تھی، وہ منتخب تر تھا۔ حکیم محمد سعید، ایک سوچ، ایک فکر، ایک عہد .... ”حکیم سعید کے دنیا سے رخصت ہوتے ہی اس خوبصورت عہد کا خاتمہ ہو گیا، جسے لوگ ” عہد ِ سعید“ کہتے ہیں“۔ ایک مقرر نے جب یہ بات کہی تو بہت سے لوگوں نے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ عہد ِ سعید ابھی ختم نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑے لوگ رخصت ہو جاتے ہیں، لیکن ان کا عہد بر قرار رہتا ہے۔

ہمہ جہت، ہمہ صفت، نادرِ روزگار.... وہ جو کسی نے کہا کہ بڑے لوگ انعام کے طور پر ملتے ہیں اور سزا کے طور پر واپس لے لئے جاتے ہیں۔ حکیم محمد سعید واقعتا ایک انعام تھے۔ وہ انعام کے طور پر ملے اور سزا کے طور پر واپس لے لئے گئے۔ جب وہ تقسیم ہند کے بعد پاکستان پہنچے تو ان کے پاس دام و درہم نام کی کوئی شے نہیں تھی اور جب شہید ہو کر دنیا سے رخصت ہوئے، تو کروڑوں نہیں اربوں کے مالک بن چکے تھے۔ مال و دولت، مرتبہ و جائیداد، لیکن وہ اپنے ساتھ کچھ بھی لے کر نہیں گئے۔ دمِ رخصت اپنی تمام دولت ایک ٹرسٹ کی صورت میں غریبوں کے لئے وقف کر گئے۔ صرف یہ کہا کہ مَیں نے اس مٹی سے، جو کچھ کمایا، اس پر اسی مٹی کا حق ہے۔ ایک دانا شخص نے کہا حکیم محمد سعید طبیب نہیں، حکیم تھے۔ طبیب وہ ہوتا ہے، جسے طب میں کمال حاصل ہو۔ حکیم وہ ہوتا ہے، جو طب کے ساتھ ساتھ حکمت میں بھی ید ِ طولیٰ رکھتا ہو، فہم و فراست کا پیکر، دانشمندی کا مظہر، حکیم سعید دیدہ ور تھے ۔ حسن ِ نظر سے مزین۔

وہ ادیب بھی تھے اور مقرر بھی۔ بولتے تو پھول جھڑتے اور لکھتے تو چمن کھلا دیتے۔ لہجے میں گداز اور لفظوں میں خوشبو۔ انہوں نے اپنی زندگی میں ہزاروں تقریریں کیں اور بیسیوں کتابیں لکھیں۔ ان کی تقریریں بھی کمال، ان کی تحریریں بھی کمال۔ اخلاص ان کی عادت تھی اور انکسار ان کا وطیرہ۔ وہ ایک عظیم منتظم بھی تھے۔ ہمدرد کے نام سے ملک بھر میں پھیلا ہوا کاروباری ادارہ ان کی انتظامی صلاحیتوں کا مُنہ بولتا ثبوت ہے۔ کیا یہ بات معجزہ نہیں کہ ایک شخص نے طب اور مشروبات کو بھی تہذیب اور ثقافت کا حصہ بنا دیا۔ حکیم سعید نے طب کا علم اس وقت اُٹھایا، جب لوگ اس سے مُنہ موڑ رہے تھے۔ بڑا آدمی وہ نہیں جو خود عظمت سے ہمکنار ہو۔ بڑا آدمی تو وہ ہے،جو نئے راستوں کا تعین کر لے اور پھر لوگ ان راستوں کو اپنی منزل بنا لیں۔ حکیم سعید نے ہمدرد پاکستان کی صورت میں ایک راستے کا تعین کیا اور پھر بہت سے لوگ اس راستے پر چلنے لگے۔

حکیم سعید نے دنیا بھر کی سیر کی اور کئی ایک سفر نامے بھی لکھے۔ کچھ منتخب تحریریں۔ زندگی آمیز اور زندگی آموز ادب۔ یہ ایسا ادب ہے جو قلب و جاں کو راحت بھی دیتا ہے اور ایک کسک بھی بیدار کرتا ہے۔ یہ کسک جستجو سے عبارت ہے۔ تبدیلی کی طرف آمادہ کرتی ہے۔ کسی بڑے آدرش سے جوڑتی ہے۔ ذات سے بلند کر کے انسانیت کی طرف لے جاتی ہے....حکیم سعید نے اپنی زندگی میں عوامی اور سیاسی عہدے بھی قبول کئے۔ جب گورنر بنے تو تنخواہ،گاڑی اور دیگر مراعات لینے سے انکار کردیا۔ کوئی ہے جو ایثار کی یہ مثال قائم کر سکے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں،جو صدر یا سپیکر بن کر قومی دولت سے مستفید ہوتے ہیں، پھر تاحیات انہی مراعات کے ساتھ زندہ رہتے ہیں اور ایک طرف حکیم سعید ہیں جو کہتے ہیں کہ جس قوم نے مجھے گورنر بنا دیا، مَیں اس قوم سے مزید کیا مانگوں۔

اس عظیم شخص کی یاد میں ہونے والی اس خوبصورت تقریب میں بہت سے لوگ موجود تھے۔ محترمہ ذکیہ شاہنواز، جسٹس نذیر احمد غازی، ابصار عبدالعلی، حکیم سعید کی نواسی.... مشہور قانون دان ایس ایم ظفر اس تقریب کے منتظم تھے۔ انہوں نے بے حد خوب صورت باتیں کیں۔ رُلا دینے والی۔ ان باتوں کے دوران انہوں نے یہ سوال بھی پوچھا کہ” کیا کوئی قوم حکیم سعید کو بھی شہید کر سکتی ہے“۔کچھ لوگوں نے اس کا جواب دینے کی کوشش کی....”جب حرص اور طمع کے اندھیرے پھیلنے لگیں، جب تعصب اور جہالت وطیرہ بن جائیں، جب شرافت اور اقدار منہ موڑ لیں، جب کم ظرف کرسی ¿ اقتدار کی طرف دیکھنے لگیں، جب سیاست اور خدمت کاروبار بن جائیں تو قدرت اپنا انعام واپس لے لیتی ہے۔ اس گھٹی ہوئی فضا میں حکیم سعید زندہ نہیں رہتے شہید ہو جاتے ہیں“۔

کچھ مقررین نے بہت سی ایسی باتیں کیں، جن پر لوگوں کی آنکھیں بھیگنے لگیں،لیکن آنسو اظہارِ ندامت ہیں، جرم کا مداوا نہیں۔ حکیم سعید کا خون ہمارے قومی ضمیر پر بدنما داغ ہے۔ اس خون سے ہماری بزدلی اور بے حسی کی بو آتی ہے۔ اٹھو اے اہل ِ پاکستان اٹھو....نفرت اور تشدد، حرص اور طمع، تعصب اور جہالت.... ان کا خاتمہ کرو.... وطن کی مٹی سے یہ سوال نہ پوچھو کہ اس نے تمہیں کیا دیا۔ اپنے آپ سے یہ سوال پوچھو کہ تم نے اس مٹی کو کیا دیا۔ تقسیم اور تخریب یا ایثار اور قربانی، محبت اور بھائی چارہ.... ”بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا“.... حکیم محمد سعید ہر روز جنم نہیں لیتے۔ انہوں نے جو کمایا، وہ وطن ِ عزیز کو لوٹا دیا۔ دولت ہی نہیں، زندگی بھی دے دی، شاید اس لئے کہ کچھ اور لوگوں کو زندگی مل سکے۔ اے اہل ِ وطن! تم بھی تو کچھ دو کہ جودیتا ہے وہی بقا سے ہم کنار ہوتا ہے۔ حکیم سعید کی شہادت پر بہت سی آنکھیں اشکبار ہوئیں، لیکن ان کے بھائی حکیم عبدالحمید نے دلی سے جو پیغام بھیجا وہ امر ہو گیا۔ انہوں نے لکھا.... ”سعید! مَیں کوفہ میں بھی محفوظ رہا اور تم مدینہ میں ماردیئے گئے“.... یہ فقرہ صرف حکیم سعید کا مرثیہ نہیں پوری قوم کا مرثیہ ہے....وہ ایک خوبصورت شام تھی۔

مزید :

کالم -