پانی ہی زندگی ہے

پانی ہی زندگی ہے

تحریر: عبدالباسط

سابق سینئر نائب صدر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری

پانی انسانی زندگی کا بہت اہم جزو ہے ،قدرت نے ان دونوں کے درمیان بہت ہی گہرا رشتہ جوڑ رکھا ہے جس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اگر کرہ ارض کے 66فیصد حصے پر پانی ہے تو انسانی جسم کا 66فیصد حصہ بھی پانی پر ہی مشتمل ہے ۔ آہ کاش کہ پانی کو بے دردی سے ضائع کرتے ہوئے ہمیں یہ احساس ہو جائے کہ پوری دنیا میں پانی کتنی تیزی سے ناپید ہو رہاہے اور ہم یہ سبق بھی سیکھ لیں کہ دوسرے ممالک اسے محفوظ کرنے کے لیے کیا کیا اقدامات اٹھارہے ہیں۔ پانی کی نعمت اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی زندگی کی حفاظت کے لیے عطا کی ہے ،جو کوئی کسی بھی صورت میں پانی ضائع کررہا ہے وہ کفران نعمت کا مرتکب ہورہا ہے اور کفران نعمت کی سزا بہت سخت ہے۔ کس قدر بدقسمتی کی بات ہے کہ ایک ہی ملک میں کہیں تو پانی بے دردی سے ضائع کیا جارہا ہے تو کہیں لوگ پانی نہ ہونے کی وجہ سے بھوک اور پیاس کی وجہ سے موت کے منہ میں جارہے ہیں۔ اگرچہ اس وقت دنیا کے 66فیصد سے زائد رقبے پر پانی ہے لیکن ساری دنیا میں موجود میٹھا پانی اس کا صرف 2.5فیصد ہے جسے روئے زمین پر موجود پانی کی زکوۃ کہا جاسکتا ہے۔ یعنی ساری دنیا کا نظام سمندری پانی کی زکوۃ پر چل رہا ہے۔ یہ اڑھائی فیصد پانی زیر زمین، ہوا میں نمی ، گلیشیئر، برف، جھیلوں اور اور دریاؤں کی صورت میں مخلوق خدا کے لیے زندگی بنا ہوا ہے۔ کل میسر پانی کا 96.5فیصد حصہ سمندر میں جبکہ ایک فیصد حصہ زیر زمین کھارے یا کڑوے پانی کی صورت میں موجود ہے۔ میٹھے پانی کا 68.6فیصد حصہ گلیشیئر جبکہ 30.1فیصد حصہ زیر زمین موجود ہے۔ بقیہ 1.3فیصد میٹھے پانی کا 73.1فیصد حصہ برف کی جبکہ 20.1فیصد جھیلوں کی شکل میں پایا جاتاہے۔ باقی 6.8فیصد میں سے 3.52فیصد زمین کی نمی جبکہ 0.46فیصد دریاؤں میں بہتا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ دریاؤں میں بہنے والا میٹھا پانی کل میٹھے پانی کا صرف 0.00015فیصد بنتا ہے۔ آسان الفاظ میں یہ کہ اگر کل پانی کے دس لاکھ گیلن ہوں تو دریاؤں میں بہنے والا میٹھا پانی صرف ڈیڑھ گیلن ہوگا۔ اب یہ ڈیڑھ گیلن بھی سمندر میں بہاکر ضائع کردیا جائے تو یہ سوچیں کہ یہ کتنا بڑا جرم ہے اور اس مجرمانہ غفلت کی سزا بہت سخت ہونی چاہیے کیونکہ یہ انیس کروڑ کے لگ بھگ عوام کو بھوکے مارنے کی سازش ہے۔ اگر آج پانی سٹور کرنے کے لیے ڈیموں کی تعمیر شروع کی جائے تو سارے پانی کا ضیاع روکنے اس سارے پانی کو خوراک کی پیدا وار کے لیے استعمال میں لانے کے لیے کئی دہائیاں درکار ہوں گی ۔ ان کئی دہائیوں کے بعد جو آبادی بڑھ چکی ہو گی ان کاپیٹ بھرنے کے لیے اس پانی کا استعمال بے حدضروری ہے ۔جس تیزی سے دنیا کی آبادی بڑھی ہے اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگائیں کہ 1820 میں دنیا کی آبادی 1 ارب تھی جو بڑھ کر اگلے 110 سالوں میں یعنی 1930 میں 2 ارب ہوئی پھر اگلے 44 سالوں میں یعنی 1974 میں 3 ارب ہوگئی، اگلے 35 سالوں میں یعنی 2010 میں 7 ارب ہوگئی اور اب تقریباً سات ارب تک پہنچ چکی ہے اور توقع کی جارہی کہ 2050میں یہ بڑھ کر دس ارب تک پہنچ جائے گی جس میں سے آٹھ ارب سے زیادہ ترقی پذیر ممالک میں ہوگی۔ ہے اگر ان سازشیوں نے اپنا رویہ نہ بدلہ تو پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی بھوک کے ذمہ داریہی لوگ ہونگے۔ حالانکہ اگر وسائل کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان ساری دنیا کو خوارک مہیا کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے لہٰذا دنیا کو سوچنا ہو گا کہ پاکستان میں ڈیموں کی مخالفت صرف پاکستان کے عوام کے خلاف سازش نہیں بلکہ پوری دنیا کے لوگوں کی خوارک کے خلاف سازش ہے ۔آج بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے کی جانب آچکی ہیں اور مزید نیچے آرہی ہیں ۔ قدرت نے پاکستان کو ایک موقع فراہم کیا ہے کہ وہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت گرنے کا بھرپور فائدہ اٹھائے اور تھرمل ذرائع سے پید ا شدہ سستی بجلی اپنی صنعت و زراعت کو فراہم کرے تاکہ وہ بین الااقوامی سطح پر اپنی پیدا وار ایکسپورٹ کرکے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ کماسکے ، اسی دوران حکومت ہنگامی بنیادوں پر پن بجلی منصوبوں پر کام شروع کرے تاکہ جب دوبارہ تیل کی قیمتیں بڑھنا شروع ہوں تو ہماری صنعت اور زراعت اس وقت دوبارہ مہنگی بجلی کے مہلک اثرات سے بچی رہے اور ہماری برآمدات کا گراف مستقل بنیادوں پر اوپر جاتا رہے ۔ معروف جریدے دی اکانومسٹ نے اپنے نومبر کے شمارے میں South Asia Hydropathicsکے عنوان سے انڈیا ،پاکستان ،نیپال اور بھوٹان کے پن بجلی کے ذرائع اور ان کے استعمال کے متعلق ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق پاکستان اپنے 59000 MW کے موجود ذرائع (جو بعض دیگر رپورٹوں کے مطابق ایک لاکھ میگاواٹ سے بھی زیادہ ہیں)کے ذریعے صرف6600 میگاواٹ یعنی صرف 11فیصد بجلی پیدا کررہا ہے۔ بھارت کے پاس 84000 میگاواٹ کے ذرائع ہیں اور وہ 40000 میگاواٹ یعنی 48فیصدبجلی پیدا کر رہا ہے ۔ قصہ مختصر یہ کہ ہمارے سو مسئلوں کا ایک ہی حل کالاباغ ڈیم ہے جو پاکستان کے لیے لائف لائن کی حیثیت رکھتا ہے۔ صرف کالاباغ ڈیم کے ذریعے ہی ڈیرہ اسمعیل خان کا وہ آٹھ لاکھ ایکڑ رقبہ سیراب کیا جاسکتا ہے جس سے اگر سال میں دو فصلیں حاصل کی جائیں تو 30من فی ایکڑ کے حساب سے 2.40کروڑ من گندم حاصل ہوگی جس کی قیمت 1300روپے فی من کے حساب سے 31ارب روپے بنتی ہے۔اسی طرح اسی رقبے سے 20من فی ایکڑ کے حساب سے 1.60کروڑ من کپاس لی جاسکتی ہے جس کی قیمت 36ارب روپے بنتی ہے۔ اگر کالاباغ ڈیم 1993ء میں مکمل ہوگیا ہوتا تو اب تک ڈیرہ اسمعیل خان کو 1500ارب روپے کا فائدہ پہنچ چکا ہوتا لیکن مجرمانہ غفلت کی وجہ سے اتنا بڑا نقصان ہوا۔ کالاباغ ڈیم کی سب سے زیادہ ضرورت خیبرپختونخوا اور پھر سندھ کو ہے جبکہ بدنام پنجاب ہورہا ہے۔ ہر سال سیلاب سے سینکڑوں لوگ جاں بحق اور ہزاروں بے گھر ہوجاتے ہیں جبکہ کئی سو ارب روپے کا نقصان معیشت کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔

تھرپارکر میں ہر سال سینکڑوں بچے بھوک کی وجہ سے انتقال کرجاتے ہیں جبکہ سینکڑوں مائیں پروٹین کی کمی کی وجہ سے زچگی کے وقت مرجاتی ہیں جس کی مثال تاریخ میں کہیں نہیں ملے گی۔ ایسے سانحات پر قابو پانے کے لیے پانی کے ڈیم بنانے کی ضرورت ہے جو ہر سال ضائع ہونے والی سینکڑوں جانوں کو بچاسکتا ہے۔ اور تو اور کراچی جیسے بڑے شہر کو پینے کے لیے پانی 1991کے معاہدہ کے مطابق تب ہی مل سکے گا جب کالاباغ ڈیم بنے گا کیونکہ باقی ذرائع یعنی حب ڈیم وغیرہ کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہر سال مٹی اور گار کی وجہ سے کم ہوتی جارہی ہے۔ یہی حال منگلا اور تربیلا ڈیموں کا ہے۔ کالاباغ ڈیم ہی کنچھر جھیل کو سارا سال تواتر سے پانی مہیا کرے گا تو سارا سال کراچی کے لوگوں کو پینے کے لیے پانی مل سکے گا ورنہ فصلیں تو دور کی بات پینے کے لیے بھی پانی میسر نہیں ہوگا۔ گوکہ فصلوں کی اہمیت بھی کم نہیں کیونکہ فصلیں ہونگی تو کھانے کے لیے روٹی مل سکے گی مگر پانی کی اہمیت اپنی جگہ ہے۔ مجموعی طور پر پورے سندھ کی بقا کالاباغ ڈیم پر منحصر ہے جو پینے اور آبپاشی کے لیے پانی فراہم کرے گا۔ لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنے حقوق کے حصول کے لیے کالاباغ ڈیم کی تعمیر کی مہم چلائیں تاکہ سندھ کا 33لاکھ ایکڑ رقبہ جو اس وقت غیر آباد ہے اسے آباد کرکے زیر کاشت لایا جاسکے ،سندھ کے غریب لوگوں کو روزگار بھی ملے اور خوراک دونوں ملیں۔ اس طرح تھر میں بھوک اور پیاس سے لوگوں کی اموات کو روکا جاسکے گا۔ وہ تمام سیاستدان جو کالاباغ ڈیم کی مخالفت کرتے ہیں ان جانوں کے ضیاع کے ذمہ دار ہیں۔ یہ قتل ہے اور خدا قتل کرنے والوں کو معاف نہیں کرتا۔ یہ سیاستدان فوری طور پر اپنے گناہوں کا ازلہ کرنے کے لیے قوم اور اْن جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے معافی مانگیں جو کالاباغ ڈیم نہ ہونے کی وجہ سے بھوکے پیاس مر گئے اور خدا کے حضور سجدہ ریز ہوکر ہوکر گڑگڑا کر اپنی غلطیوں پر نادم ہوں کیونکہ ان کا جرم بہت بڑا ہے۔ ابھی بھی وقت ہے کہ حکومت کالاباغ ڈیم بناکر اپنا نام تاریخ میں سنہرے حروف سے رقم کروالے بصورت دیگر جس جس نے کالاباغ ڈیم کو نظر انداز کیا اسے آنے والی نسلیں مجرم کی حیثیت سے یاد رکھیں گی۔ پشاور سانحے میں بچوں اور اساتذہ سمیت 150افراد کو جس حیوانیت سے شہید کیا گیا اس کی مثال پوری انسانیت کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس سانحے نے ساری قوم کو متحد کردیا، اگر یہ قوم اسی طرح کالاباغ ڈیم کے لیے بھی متحد ہوجائے تو اسے بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

مزید : ایڈیشن 1