بجلی بحران کے خاتمے کیلئے نہرونیشنل سولرمشن پلان پرعمل کیاجائے:فیص محمدبھٹہ

بجلی بحران کے خاتمے کیلئے نہرونیشنل سولرمشن پلان پرعمل کیاجائے:فیص ...

  

لاہور(اے پی پی)پاکستان سولر ایسوسی ایشن نے وطن عزیز سے بجلی کے بحران کے خاتمے کے لئے ہمسایہ ملک بھارت کے نہرونیشنل سولر مشن پلان کی طرز پر 20000 میگا واٹ کے ہدف پر مبنی پاکستان سولر مشن پلان (2015-26ء)بنا نے کی تجویز ددی ہے۔پاکسان سولر ایسوسی ایشن کے چیئرمین انجینئر فیض محمد بھٹہ نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کا صوبہ میں 6000 پرائمری سکولوں کو سولر پر منتقل کرنے کا اقدام قابل تحسین ہے تاہم حکومت کو چاہیے کہ اس پروگرام کو اور وسعت دے اور ہسپتالوں‘بنیادی مراکز صحت اور 18 کروڑ عوام تک اس پروگرام کو پھیلاناچاہیے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان سولر مشن پلان تین مراحل پر مشتمل ہونا چاہیے جس کا پہلا فیز (2015-18ء) ‘دوسرا فیز(2018-22 ء) اور تیسرا فیز (2022-26ء) پر مشتمل ہونا چاہیے اور اس سے شمسی توانائی کے حصول کا مجموعی ہدف 20000 میگا واٹ ہونا چاہیے۔مذکورہ پلان میں دیہی اور شہری علاقوں‘گھروں اور شاہراؤں کی سولر لائٹنگ‘سولر پمپنگ‘یوٹیلٹی گریڈ سولر پی وی اور سولر تھرمل پاور پلانٹس کے لئے سولر آف گرڈ اور ہائبرڈپاور رسائی کے اہداف شامل ہونے چاہیں۔فیض محمد بھٹہ نے کہاکہ یہ ایک جامع پلان ہونا چاہیے جس میں سٹینڈرڈائزیشن‘کوالٹی ایشورنس ،آلات کی ڈیوٹی فری درآمد‘مراعات اور سبسڈیز‘سولر افرادی قوت کی تیاری‘بنکوں کے ذریعے کم شرح سود پر قرضے اور یوٹیلٹی گریڈ پراجیکٹس کے لئے بنک فنانسنگ کے ایشوز کا حل موجود ہو۔انہوں نے کہا کہ اس پلان کی تیاری میں حکومت کو تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرنی چاہیے۔   انہوں نے کہاکہ پاکستان سولر ایسوسی ایشن سولر مشن پلان میں مکمل تعاون فراہم کرنے کے لئے تیار ہے علاوہ ازیں ورلڈ بنک پاکستان بھی متبادل توانائی کے شعبے کی ترقی کیلئے تعاون کا ارادہ رکھتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ کہ جی آئی زیڈ پاکستان جرمن حکومت کے تعاون سے ری نیوایبل پالیسی ڈویلپمنٹ اور ٹیکنیکل ووکیشنل ایجوکیشن ٹریننگ ریفارمز پروگرام میں پاکستان کی پہلے ہی مدد کر رہا ہے۔فیض محمد بھٹہ نے بتایا کہ ایشیئن ڈویلپمنٹ بنک بھی بجلی کی پہنچ سے دور علاقوں کی بجلی تک رسائی کے لئے تعاون کے لئے تیار ہے‘اسی طرح کئی دیگر ڈونرز بھی پاکستان سولر مشن پلان میں فنڈنگ کے لئے رابطہ کر سکتے ہیں۔

مزید :

کامرس -