حزب اللہ کمانڈر کو سی آئی اے اور موساد نے قتل کیا تھا ٗواشنگٹن پوسٹ

حزب اللہ کمانڈر کو سی آئی اے اور موساد نے قتل کیا تھا ٗواشنگٹن پوسٹ

واشنگٹن (این این آئی) امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ فروری 2008ء میں شام میں لبنانی مسلح تنظیم حزب اللہ کے ایک اہم کمانڈر کا قتل امریکہ اوراسرائیل کی خفیہ ایجنسیوں کی مشترکہ کارروائی تھی۔واشنگٹن پوسٹ کے مطابق بعض سابق انٹیلی جنس حکام نے اخبار کو بتایا کہ امریکہ کی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) اور اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد نے مشترکہ طور پر حزب اللہ کی بین الاقوامی کارروائیوں کے سربراہ عماد مغنیہ کے قتل کی سازش تیار کی تھی۔اخبار کی ویب سائٹ پر جاری کی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا کہ مغنیہ کو شام کے دارالحکومت دمشق میں اس وقت ایک بم دھماکے کا نشانہ بنایا گیا تھا جب وہ اپنی کار کی جانب بڑھ رہے تھے۔رپورٹ کے مطابق بم حزب اللہ کمانڈر کی گاڑی کے پچھلے پہیے پر نصب کیا گیا تھا جس کے پھٹنے سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے تھے۔واشنگٹن پوسٹ نے دعویٰ کیا کہ بم دھماکہ اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب میں موجود موساد کے ایجنٹوں نے ریموٹ کے ذریعے کیا تھا جو مغنیہ کی نقل و حرکت کی نگرانی کرنے والے سی آئی اے کے ایجنٹوں کے ساتھ رابطے میں تھے۔اخبار کے مطابق اس کارروائی کے لیے امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے درمیان غیر معمولی قریبی تعاون سے ہدف کی اہمیت کا اظہار ہوتا ہے۔واشنگٹن پوسٹ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ امریکی حکام مغنیہ کو \'سی آئی اے \' کے آٹھ اہلکاروں سمیت سیکڑوں امریکی شہریوں کے قتل کا ذمہ دار بھی سمجھتے تھے۔

ایک سابق انٹیلی جنس اہلکار نے اخبار کو بتایا ہے کہ حزب اللہ کمانڈر کو قتل کرنے کی اجازت حاصل کرنا ایک انتہائی مشکل اور دقت طلب عمل تھا جس کے لیے سی آئی اے کو متعلقہ حکام کے سامنے یہ ثابت کرنا پڑا کہ اس کا ہدف امریکی شہریوں کے لیے ایک مستقل خطرہ\" ہے۔واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ایک ایسے ملک میں قاتلانہ حملے کے لیے جس کے ساتھ امریکہ حالتِ جنگ میں نہیں تھاسی آئی اے کو اس وقت کے صدر جارج ڈبلیو بش، اٹارنی جنرل، \'نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر، قومی سلامتی کے مشیر اور محکمہ انصاف کے دفتر برائے قانونی معاونت کے سربراہ سے تحریری اجازت لینا پڑی تھی۔اخبار نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ امریکہ نے عماد مغنیہ کے قتل کی کارروائی میں اپنے کردار سے متعلق ہمیشہ خاموشی اختیار کیے رکھی جبکہ حزب اللہ نے بھی اس قتل کا الزام صرف اسرائیل پر عائد کیا تھا۔

مزید : عالمی منظر