قرض دہندگان کے ساتھ نیا معاہدہ طے پاسکتا ہے،یونانی وزیراعظم

قرض دہندگان کے ساتھ نیا معاہدہ طے پاسکتا ہے،یونانی وزیراعظم

ایتھنز(اے این این)یونان کے وزیراعظم الیکسس تسیپراس نے کہا ہے کہ قرض دہندگان کے ساتھ نیا معاہدہ طے پاسکتا ہے،اس حوالے سے یورپی شراکت کاروں کے ساتھ بات چیت شروع ہو گئی ہے، کبھی بھی ہمارا یک طرفہ فیصلہ کرنے کا ارادہ نہیں تھا ۔ غیرملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق یونان کی وزیراعظم نے یونانی معیشت پر لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ قرض دہندگان کے ساتھ نیا معاہدہ طے پا سکتا ہے انہوں نے کہا کہ کبھی بھی یک طرفہ طور پر فیصلہ کرنے کا ارادہ نہیں تھا۔تسیپراس نے کہا کہ یونان یورپی سینٹرل بینک اور آئی ایم ایف کو قرض ادا کر دے گااور یورو زون کی ممالک کے ساتھ ایک معاہدہ کرے گا اس حوالے سے یورپی شراکت کاروں کے ساتھ بات چیت شروع ہو گئی ہے۔اس مسئلے پر اختلافات موجود ہیں، لیکن مجھے بھرپور اعتماد ہے کہ ہم کسی باہم مفید معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جس کا یونان اور یورپ دونوں کو فائدہ ہو گا۔دوسری جانب جرمن چانسلر انگلیلا میرکل نے قرض کے خاتمے کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قرض دہندگان نے پہلے ہی رعایتیں دے رکھی ہیں۔یونان کے نئے وزیر خزانہ یانس واروفیکس نے اس تکون کے ساتھ کام کرنے سے انکار کر دیا تھا جس نے گذشتہ یونانی حکومت کو مالیاتی بحران سے نکالنے کے لی 270 ارب ڈالر کا قرض دیا تھا۔

اس تکون میں یورپی کمیشن، یورپی سینٹرل بینک اور بین الاقوامی مالیاتی ادارہ آئی ایم ایف شامل ہیں۔2012 میں کچھ قرض دہندگان نے بعض قرضے معاف کر دیے تھے لیکن اس کے باوجود یونان پر اس کی کل قومی پیداوار سے 175 فیصد زیادہ قرض ہے۔

مزید : عالمی منظر