سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری کے ساتھ ایک مکالمہ

سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری کے ساتھ ایک مکالمہ
 سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری کے ساتھ ایک مکالمہ

  

 پاکستان کی خارجہ پالیسی پر اس وقت شدید تنقید ہو رہی ہے۔ اقتدار کے در و دیوار بتاتے ہیں سابق گورنر پنجاب چودھری سرور کے جانے کی وجہ بھی ان کا وہ بیان ہی بناء جس میں انہوں نے امریکی صدر اوباما کے پاکستان نہ آنے کو حکومت کی سفارتی نا کامی قرار دیا تھا۔ حالانکہ ان کے حالات کافی عرصہ سے خراب جا رہے تھے۔ سفارتکاری کوئی آسان کام نہیں ہے۔ تا ہم امریکی صدر اوباما کے دورہ بھارت ۔پاکستان افغانستان تعلقات۔ اور پاک چین تعلقات کی موجودہ صورتحال جاننے کے لئے پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری کیساتھ ایک طویل مکالمہ ہوا۔ بہت سے سوال جواب ہوئے۔ اور معاملات کی حقیقت کو جاننے کی کوشش کی گئی۔ بھارت کے سیکیورٹی کونسل کے مستقل رکن بننے اور اس حوالہ سے امریکی حمائت پر مختلف سوالات کے جواب میں خورشید قصوری نے کہا کہ صدر اوباما پہلے امریکی صدر نہیں ہیں جنہوں نے بھارت کے سیکیورٹی کونسل کے مستقل رکن بننے کی حمائت کی ہے۔ یہ اعلان تو اس سے پہلے امریکی صدر بش بھی اپنے دورہ بھارت کے دوران کر چکے ہیں۔ یہ بات چونکہ بھارت کو سننے میں اچھی لگتی ہے۔ بھارتی حکومت خوش ہو جاتی ہے۔ اور کہنے والے کا کچھ جاتا بھی نہیں۔اس لئے کہ دی جاتی ہے ۔ورنہ امریکہ کو بھی پتہ ہے کہ بھارت کبھی بھی سیکیورٹی کونسل کا مستقل رکن نہیں بن سکتا۔ اور خود بھارت کو بھی پتہ ہے کہ وہ کبھی بھی سیکیورٹی کونسل کا مستقل رکن نہیں بن سکتا۔ پہلی بات یہ معاملہ جب بھی سیکیورٹی کونسل میں آئے گا تو خطہ کی خاص صورتحال کی وجہ سے چین اس کو ویٹو کر دے گا۔ اور جب موجودہ پانچ مستقل ارکان میں سے کوئی ایک رکن ویٹو کر دے تو معاملہ زیر غور ہی نہیں آسکتا۔ اس پر مزید بات ہی نہیں ہو سکتی۔ بات ختم۔دوسرا اگر یہ معاملہ ویٹو نہ ہو توپھر اس کے لئے اقوام متحدہ کا چارٹر تبدیل کرنا پڑے گا ۔ جس کے لئے دو تہائی اکثرئیت درکار ہے۔ جو بھی عملا نا ممکن ہے۔اس وقت اقوام متحدہ کے جن پانچ ممالک کے پاس سیکیورٹی کونسل کی مستقل رکنیت ہے یہ پانچوں جنگ عظیم دوئم کے فاتح ہیں۔ یہ فاتحین کا کلب ہے۔ اور بھارت نے ابھی کسی سپر پاور کو شکست نہیں دی ہے۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ اب جب تک کوئی چھٹا ملک فاتح نہ بن جائے اس کو مستقل رکنیت کیسے دی جا سکتی ہے۔ اس لئے یہ سب خیالی پلاؤ ہیں ۔ حقیقت میں دہلی دور است۔ انہوں نے کہاکہ اس حوالہ سے میں ایک واقعہ بتاتا ہوں جس سے یہ معاملہ اور بھی سمجھنا آسان ہو جائے گا۔ جب امریکی صدر بش نے بھارت کے سیکیورٹی کونسل کے مستقل رکن بننے کی حمائیت کی تو میں نے وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں ان سے اس پر گلہ کیا۔ اس کے جواب میں انہوں نے جو جواب دیا۔ وہ میں نے اپنی کتاب میں لکھا اور وہ کافی دلچسپ ہے۔ ضرور پڑھئے گا ۔ خورشید قصوری کافی اصرار پر بھی جواب بتانے کے لئے تیار نہیں تھے اور بضد تھے کہ جواب کے لئے کتاب پڑھوں۔ لیکن طویل گفتگو کی روشنی میں میرا انداذہ ہے کہ صدر بش نے کہا ہو گا کہ جب آپ کو حقیقت پتہ ہے کہ یہ ممکن نہیں۔ تو گلہ کیوں کرتے ہیں۔ بھارت بیوقوف بن رہا ہے تو بننے دیں۔ انہوں نے کہاکہ صدر اوباما کا دورہ بھارت اتنا بھی کامیاب نہیں رہا جتنا کہا جا رہا ہے۔ دیکھیں وہ ایک دن دورہ میں کم کر کے سعودی عرب چلے گئے۔ اگردورہ اتنا ہی کامیاب ہو تا تو وہ ایک دن کم کر کے سعودی عرب نہ جاتے ۔ بعد میں دورہ مکمل کر کے بھی جا یا جا سکتا تھا۔ سفارکاری میں یہ چیزیں بہت اہم ہوتی ہیں۔ اور یہ وہ اشارہ بھی دیتی ہیں جو کہے نہیں جا سکتے۔ پٹرول کی قیمتیں کم ہونے کے حوالہ سے انہوں نے کہا کہ یہ بھی عالمی جنگ کی ایک شکل ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے روس کو بہت کہا کہ وہ شام کے حوالے سے اپنی پالیسی تبدیل کرے۔ لیکن روس کے صدر پوٹن نہ مانے۔ اسی طرح ایران نے بھی بات نہ مانی۔ یو کرائن والے معاملے پر امریکہ اور یورپ بھی روس سے ناراض ہو گئے۔ دونوں معاملے اکٹھے ہو گئے۔ تو روس کے دشمن بھی اکٹھے ہو گئے۔اس لئے سعودی عرب اور عربوں نے روس اور ایران کو ان کی پالیسی کا مزہ چکھانے کے لئے اپنی پیداوار بڑھا دی ہے۔ اور تیل کی قیمتیں کم ہو گئی ہیں۔ اس کا واحد مقصد روس اور ایران کو معاشی طور پر کمزور کرنا ہے۔سوال سادہ تھا کہ کیا سعودی عرب اپنے مقاصد میں کامیاب ہو جائے گا۔ وہ مسکرائے اور کہنے لگے بڑے ممالک اپنی پالیسیوں کی قیمت چکانا جانتے ہیں۔ میرے انداذے کے مطابق روس اس بحران سے نکل آئے گا۔ اسے نقصان ضرور ہو گا ۔ لیکن یہ نقصان ایسا نہیں کہ وہ گھٹنے ٹیک دے۔ اس کے علاوہ تیل کی قیمتیں کم ہونے کی ایک اور بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ تیل کی قیمتیں بڑھ جانے سے توانائی کے متبادل ذرائع پر تحقیق بہت تیز ہو گئی تھی اور فریک گیس میں کافی کامیابی ہو ئی تھی۔ اور یہ کہا جانے لگا تھا کہ تیل کے متبادل ذرائع کامیاب ہونگے۔ اس لئے تیل کمپنیوں نے ان متبادل ذرائع کو ناکام بنانے کے لئے تیل اتنا سستا کر دیا ہے کہ متبادل ذرائع مہنگے لگنے لگیں۔ یہ تیل مافیا کی بقاء کی جنگ ہے۔ اس سوال پر کہ سعودی عرب میں نئے بادشاہ آئے ہیں۔ وہ بہت سی تبدیلیاں بھی کر رہے ہیں۔ کیا تیل کی پالیسی بھی تبدیل ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بظاہر ممکن نظر نہیں آتا۔ لیکن دنیا میں کوئی بھی ایک بڑا واقعہ پالیسیوں کی تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔ اس لئے کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن فی الحال کوئی امکان نظر نہیں آرہا۔ بھارتی وزیر اعظم موودی پر بھی تفصیل سے بات ہوئی لیکن وہ اگلے کالم میں لکھوں گا۔

مزید :

کالم -