معاشرتی برائیوں کا بڑھتارجحان اور ہماری ذمہ داریاں !

معاشرتی برائیوں کا بڑھتارجحان اور ہماری ذمہ داریاں !

امرواقعہ یہی ہے کہ ہماری نسل کی ایک غالب اکثریت تیزی سے پستی کی طرف بڑھ رہی ہے جس میں انٹرنیٹ پر پایا جانے والا غیراخلاقی مواد کلیدی کردار ادا کررہا ہے یہ درست ہے کہ الیکٹرانک میڈیا تعلیم کے فروغ اور تعمیری سرگرمیوں کے لئے بھی کارآمد ہے جس کے درست استعمال سے ہماری نوجوان نسل نہ صرف اپنے مستقبل کو سنوارنے بلکہ قوم وملک کے لئے بھی بہتری کا سامان میسر کرسکتی ہے ایک وقت تھا کہ ڈش نئی نسل کے بگاڑ میں ایسے مواد سے لداپڑا تھا کہ جس سے نوعمر بچوں میں منفی رجحانات تیزی سے سرایت کررہے تھے مگر اب تیز رفتار الیکٹرانک میڈیا نے ڈش کو بھی پس پشت ڈال کر انٹرنیٹ کی جگہ لے کر نوجوانوں نسل کو بے راہ روی پر ڈالنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی ہے جس پر حکام بالا کو نظر کی ضرورت ہے کیونکہ نئی نسل کسی بھی معاشرے کا قیمتی سرمایہ تصور کیا جاتا ہے ایسے میں بھارتی فلموں کی ہمارے ہاں ہونے والی نمائش کی یلغار نے بھی جلتی پر تیل کا کام کردکھایا ہے بھارت کے اندر تیار ہونے والی فلمیں بے حیائی کے فروغ میں بہت مشہور ہیں جس کی بنیادی وجہ وہاں رقص دکھانے اور ہیجانی مناظر کی عکس بندی پر کوئی قدغن نہ ہے المیے کی بات یہ ہے کہ بھارتی فلموں کی وڈیوکیسٹیں بھی اب ہمارے ہاں ہر جگہ بآسانی دستیاب ہیں جو ایک اسلامی معاشرے میں غیراخلاقی گراوٹ میں تیزی لانے کا باعث بن رہی ہیں یادرہے بھارت کا مطمح نظر ہی یہی رہا ہے کہ پاکستان کی نئی نسل اور اس کی داخلی اساس کو کمزور کرنے کے لئے وہ تمام حربے اختیار کئے جائیں جس سے اس کے مکروہ ارادوں کی تکمیل میں اسے آسانی ہوچنانچہ بھارتی فلموں کی یلغار نے جہاں ہماری فلمی صنعت کو کھوکھلا کرنے میں مرکزی کردار اداکیا ہے وہاں ان کی فلموں میں پائے جانے والے ہیجان انگیز مناظر ہماری نئی نسل کو تباہ وبرباد کرنے میں بھی کوئی کسر اٹھا نہ رکھے ہوئے ہیں بدقسمتی سے جس پر ہمارے ارباب اختیار نے مکمل خاموشی تان رکھی ہے خطرہ لاحق ہے کہ اگر بھارتی فلموں کی ہمارے ہاں آمد کا سلسلہ یونہی جاری رہا تو ہماری نئی نسل مزید گمراہی کا شکار نہ ہوجائے ویسے بھی ہمارا معاشرہ تیزی سے اخلاقی ابتری کی طرف جارہا ہے جس کی نمایاں وجوہات میں بیروزگاری سرفہرست ہے ہمارے ہاں روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں پڑھا لکھا طبقہ حصول روزگار کے لئے مارا مارا پھر رہا ہے جس سے نوجوانوں میں فرسٹریشن جنم لے رہی ہے مگر یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ طبقہ اشرافیہ کے لئے ہرجگہ روزگار کے وسیع مواقع آج بھی موجود ہیں یہی عدم مساوات ہماری معاشرتی جڑوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے ۔

ناانصافی ہمارے معاشرہ کا وہ سیاہ باب ہے جس نے گوناگوں جرائم کی تخلیق میں اکسیر کا کام کیا ہے سٹریٹ کرائمز میں آنے والی تیزی جس کا بین ثبوت ہے ، کراچی کے حالات ہمارے سامنے ہیں جہاں انسانی خون ارزاں ہوچکا ہے جس کے اسباب کا اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو پتہ چلے گا کہ بعض بیرونی عناصر ہمارے محروم طبقوں کو بھاری بھر کم رقوم دے کر اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ کراچی میں بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان کے کثرت سے رونما ہونے والے واقعات بھی اسی سلسلے کی کڑی ہیں ، یہ درست ہے کہ شہر کراچی کے امن کو تہہ وبالا کرنے میں دیگر بہت سی وجوہات بھی ہیں جن میں سیاسی ریشہ دوانی قبضہ مافیا اور منشیات فروش بھی اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کررہے ہیں ، اس حقیقت سے بھی ہم غافل نہیں ہیں کہ پنجاب کی صورت حال ملک کے دیگر صوبوں سے بہت حدتک بہتر ہے مگر یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ صوبہ پنجاب میں ڈاکہ زنی اور چوری کی وارداتوں میں بدرجۂ اتم تیزی آچکی ہے اسلحہ کے زور پر راہ گیروں سے ان کی گاڑیوں ، موٹرسائیکلوں اور قیمتی اشیاء کا چھین لینا ، روزمرہ کا معمول بن چکا ہے جس کی ذمہ داری ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر آتی ہے۔ جن کی عدم توجہی اور غفلت مجرمانہ سے جرائم کی شرح میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے ، پولیس کی چیرہ دستیوں کے قصے پہلے سے ہی زبان زدعام ہیں جبکہ پولیس کا نچلا طبقہ تاحال اپنی روایتی بے حسی کا ہی ثبوت پیش کررہا ہے جس میں فوری اصلاحات کی شدت سے ضرورت ہے ، جس کی جانب پولیس کی اعلیٰ قیادت کو توجہ دینی چاہئے تاکہ عوام میں پایا جانے والا عدم تحفظ کم ہو سکے۔ اس حقیقت سے بھی منہ نہیں موڑا جاسکتا کہ ہمارا کوئی شہر، گاؤں اور قصبہ ایسا نہیں جہاں منشیات فروشی کا مکروہ دھندہ پورے عروج پر نہ ہو، بلکہ اب تو یہ قبیح کاروبار محلوں اور گلیوں کی سطح تک پھیل چکا ہے اور اس مذموم کاروبار میں ملوث ناعاقبت اندیش بلا خوف وخطر اسے جاری رکھے ہوئے نئی نسل کی رگوں میں زہرگھول رہے ہیں تعجب کی بات یہ ہے کہ کھلے بندوں ہونے والے اس گھناؤنے کاروبار پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت بہت ڈھیلی ہے۔ اسی طرح عصمت فروشی کا دھندہ بھی زوروں پر ہے اور اس قبیح دھندے سے جتے افراد دیدہ دلیری سے اسے جاری رکھے ہوئے ہیں یہاں یہ کہنا بے محل نہ ہوگا کہ جب تک ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داریوں کا ادراک نہ کریں گے ، سماج سے معاشرتی برائیوں کا قلع قمع کرنا ممکن نہ ہوگا۔ افسوسناک امر یہ بھی ہے کہ قومی بچت کے مراکز کے باہر جرائم پیشہ افراد کے گروہ ایک عرصہ سے رقوم نکلواکر آنے والوں کو لوٹنے میں مصروف ہیں جن کی خبریں تواتر سے قومی اخبارات میں شائع ہوتی رہی ہیں ، مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ آج تک اس مذموم دھندے میں ملوث افراد کی ایک فوج ظفر موج میں سے کسی ایک کو بھی پکڑا نہ جاسکا ہے جو پولیس کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے یادرہے لاہور کنٹونمنٹ بورڈ جو شارع سرور پر واقع ہے کے بالمقابل مرکز قومی بچت کے باہر درجنوں افراد ان عناصر کے ہاتھوں لٹ چکے ہیں مگر اس مکروہ دھندے میں ملوث افراد تاحال قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظر سے اوجھل چلے آرہے ہیں ، جس سے ان عناصر کے حوصلے بلند ہورہے ہیں ۔

یہ بات بھی ریکارڈ پر موجود ہے کہ بینکوں کی عمارتوں میں نصب ATMسے رقم نکلواکر باہر آنے والوں کو وہیں دھر لیا جاتا ہے۔ پولیس کی اعلیٰ قیادت سے گزارش ہے کہ وہ سماج کو جرائم پیشہ افراد سے پاک کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کریں میں یہ بات بڑے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے ہاں مروج تھانہ کلچر میں رتی بھر بھی بہتری نہ آئی ہے۔ جس سے شریف شہری اپنی فریاد لے کر تھانے جانے سے کتراتے ہیں، جب تک تھانے میں موجود عملہ اپنا ناروا رویہ ترک نہیں کرے گا عوام کا پولیس پر اعتماد بحال نہ ہوسکے گا ایسے میں میری ایک تجویز ہے کہ جرائم کے بڑھتے ہوئے رجحان کے خاتمہ کے لئے متعلقہ پولیس سٹیشن کے انچارج کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے تاکہ وہ اپنے فرائض میں غفلت برتنے میں محتاط ہوجائے امید کی جاتی ہے کہ ناگزیر پولیس اصلاحات کے نفاذسے جرائم کی حوصلہ شکنی ہوسکے گی۔

مزید : کالم


loading...