معیشت کی بحالی کے لئے فیڈریشن فعال

معیشت کی بحالی کے لئے فیڈریشن فعال
معیشت کی بحالی کے لئے فیڈریشن فعال

  


یونائیٹڈ بزنس گروپ نے صرف چند ماہ کی محنت اور افتخار علی ملک کی قیادت میں حیرت انگیز کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان کامیابیوں کی فہرست تو طویل ہے،لیکن سب سے بڑی کامیابی فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز کے انتخابات میں پورے پینل کی بے مثال کامیابی ہے، جس کا خیر مقدم صدر ممنون حسین اور وزیراعظم محمد نواز شریف سے لے کر نیچے تک صنعت و تجارت کی اہم تنظیموں نے کیا ہے۔حال ہی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز کے ریجنل آفس لاہور میں نئے بجٹ کے بارے میں تجاویز اکٹھی کرنے کے لئے ایک بھرپور اور اہم سیشن منعقد ہوا، جس میں پنجاب کے تمام اہم چیمبرز کے علاوہ ایسوسی ایشنز کے عہدیداروں نے بھی شرکت کی اور صنعت و تجارت کی ترقی میں حائل رکاوٹوں کو ختم کرنے کے لئے اپنی اپنی تجاویز پیش کیں۔ پہلے تو یہ دستور تھا کہ ہر کوئی اپنی اپنی بات کر کے فارغ ہو جاتا، لیکن فیڈریشن کے نئے صدر میاں محمد ادریس نے صنعت و تجارت کی تمام تنظیموں کو بیدار کرنے کے لئے اعلان کیا ہے کہ 2015ء پاکستان میں معیشت کی بحالی کا سال ہے، جس کی وجہ سے نت نئی تجاویز سامنے آنی شروع ہو گئی ہیں۔ طے یہ پایا ہے کہ مختلف چیمبرز اور ایسوسی ایشنز کے عہدیدار اپنی مشکلات حل کروانے کے لئے صرف مسائل ہی پیش نہ کریں، بلکہ ان کا ممکنہ حل بھی تجویز کریں۔ اسی وجہ سے فیڈریشن کے ریجنل آفس میں بجٹ تجاویز نہ صرف ماضی کی نسبت ٹھوس اور تعمیری آئی ہیں، بلکہ اتنی حقیقت پسندانہ ہیں کہ حکومت بھی ان مشکلات کو خوشی خوشی ختم کرنے میں مکمل تعاون کرے گی۔

فیڈریشن کے صدر میاں محمد ادریس نے خصوصی گفتگو میں بتایا ’’وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے دو مرتبہ فون پر ڈھیروں مبارکباد دی اور کہا کہ بزنس کمیونٹی کے مسائل حل کرنے کے لئے ہماری حکومت کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں۔ آپ یہ بتائیں کہ کب ملاقات کے لئے آ رہے ہیں۔ اس پر مَیں نے وزیراعظم کو بتایا کہ ہم صرف ملاقات برائے ملاقات کے لئے نہیں آنا چاہتے، بلکہ ہماری خواہش ہے کہ پورے پاکستان کا دورہ کر کے بزنس کمیونٹی کی تمام مشکلات کا احاطہ کر کے تمام اہم مسائل اور ان کا حل لے کر آپ کے ساتھ ایک تفصیلی نشست رکھیں۔ اس پر وزیراعظم نے بہت مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے فیڈریشن کی جینوئن قیادت کے مسائل سن کر انہیں حل کرتے ہوئے خوشی محسوس ہو گی۔ آپ جب اپنی تجاویز مرتب کر لیں تو مجھے بتا دیں، مَیں خود آپ اور آپ کی ٹیم کے ساتھ ایک تفصیلی نشست رکھ لوں گا۔ چنانچہ اسی سلسلے میں فیڈریشن کی ٹیم پورے پاکستان سے بجٹ تجاویز اکٹھی کر رہی ہے اور ریجنل آفس میں ہونے والی اس اہم نشست کا مقصد بھی یہی ہے۔

پاکستان کے صدر ممنون حسین نے ہماری ٹیم کو آدھے گھنٹے کا وقت دیا تھا، لیکن جب صنعت و تجارت کے مسائل اور ان کے ممکنہ حل پرگفتگو شروع ہوئی، تو آدھے گھنٹے کی ملاقات تقریباً دو گھنٹے تک طویل ہو گئی۔ اس دوران صدرِ پاکستان نے اپنی دوسری مصروفیات ملتوی کر دیں۔ صدر ممنون حسین خود بھی کراچی چیمبر آف کامرس کے اہم عہدے پر فائز رہ چکے ہیں، اس لئے انہیں بخوبی علم ہے کہ اگر پاکستان میں خوشحالی کا دور لانا ہے، تو پھر صنعت و تجارت کے مسائل حل کرنے کی طرف خصوصی توجہ دینی پڑے گی، اسی لئے صدر ممنون حسین نے ہمیں یقین دہانی کرائی ہے کہ آپ کے تمام مسائل جن کا سامنا اس وقت بزنس کمیونٹی کر رہی ہے، حل کرنے کے لئے آپ جب بھی میرے پاس آنا چاہیں آ سکتے ہیں، کیونکہ پاکستان کو خوشحال بنانے اور غربت کے چنگل سے صرف بزنس کمیونٹی نکال سکتی ہے، اس لئے ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں گے۔

میاں محمد ادریس نے مزید بتایا کہ حکومت بیروزگاری خود ختم نہیں کر سکتی،کیونکہ حکومت کے پاس بیروز گاروں کی فوجِ ظفر موج کو کھپانے کے لئے کوئی ادارہ نہیں ہے، بلکہ حکومت کو تو اس وقت اپنی بیمار انڈسٹری سے چھٹکارہ حاصل کرنا چاہئے،جو ادارے حکومتی نگرانی میں خسارے کا شکار ہیں انہیں پہلی فرصت میں فروخت کر کے حکومت اپنے کئی سو ارب روپے ضائع ہونے سے بچا سکتی ہے۔آخر ٹیکس ادا کرنے والے اس مقصد کے لئے تو اپنے خون پسینے کی کمائی حکومت کے حوالے نہیں کرتے کہ حکومت انہیں سٹیل مل میں ڈال کر جلا دے اور فائدہ کوئی بھی نہ ہو، اس لئے حکومت کو ترجیحی بنیاد پر اس انڈسٹری سے چھٹکارا حاصل کرنے کی ضرورت ہے، جو سالانہ سینکڑوں ارب ڈبو رہے ہیں۔

بیروزگاری ختم کرنے میں سب سے اہم اور فعال کردار پرائیویٹ سیکٹر ادا کر سکتا ہے، فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری اس مقصد کے لئے خصوصی تجاویز مرتب کر رہی ہے، ہمیں یقین ہے کہ اس وقت حکومت کی نیت بھی صاف ہے اور وہ بھی 2015ء کو معاشی بحالی کے سال کے طور پر منانے کا پورا عزم رکھتی ہے، اس لئے ہماری ٹھوس تجاویز کے نتیجے میں کم از کم ایک سال میں لاکھوں افراد کو نیا روز گار میسر آ جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو وسائل سے مالا مال کیا ہے، لیکن ان وسائل سے صرف اس وقت قوم کو فائدہ پہنچ سکتا ہے جب پرائیویٹ سیکٹر کی حکومت بھرپور حوصلہ افزائی کرے اور اس کے راستے میں حائل مشکلات ختم کرے۔

مزید : کالم