عطاء الحق قاسمی ، سیاستدانوں اور دانشوروں کی نظر میں

عطاء الحق قاسمی ، سیاستدانوں اور دانشوروں کی نظر میں
عطاء الحق قاسمی ، سیاستدانوں اور دانشوروں کی نظر میں

  


آج عطاء الحق قاسمی کی72ء ویں سالگرہ ہے جن کے بارے میں اشفاق احمد کہہ گئے ہیں کہ عطاء کو بات کرنے اور بات بنانے کا بڑا اچھا ڈھنگ آتا ہے ،اس نے جگت اور ٹھٹھول کے درمیان ایک نہایت ہی خوشگوار نمناک سرسبز ٹھنڈی ٹھنڈی پگڈنڈی تلاش کی ہے ،بڑی سٹرک اور چھوٹی شاہراہ پر معزز گروہوں اور نجیب الطر فین کنبوں کو گزرتے دیکھ کریہ اپنی چور پگڈنڈی سے لمحہ بھر سر نکالتا ہے اور’’بلے اوئے‘‘کے انداز میں ایک چرانتی پھینک کر پھر اپنے نرسلوں کے اندر ہر نوٹے کی طرح غائب ہوجا تا ہے ،اس کی بات پرانے کوزے کی وہ ببری ہے جو وقت کی ساکن سطح پر سات سات گرداب پیدا کرکے پھر بھی ڈوبتی نہیں بلکہ دوسرے کنارے پراتر جاتی ہے، اس کنارے پر جہاں اس کا وجود اسی طرح موجود ہوتا ہے جیسے اس کنارے پر تھا۔اسی طرح دنیا شاعری کا ایک کا اہم نام احمد ند یم قا سمی بھی عطاء الحق قاسمی سے متعلق کہتے ہیں کہ یہ شخص مجسم بے قراری ہے ،وہ ایک پل بھی جم کر نہیں بیٹھ سکتا، اچھی خاصی سنجیدہ گفتگو کے دوران میں بھی وہ یکا یک اس زور کا قہقہہ صادر کرتا ہے کہ یار لوگوں کے ہاتھوں سے چائے کی پیا لیاں چھوٹ جاتی ہیں، اس کے چابک کے سے فقرے کی چوٹ سے مقابل بلبلااٹھتاہے اوروہ مقابل کا فقرہ اتنے سکون سے سنتا اور جھٹک دیتا ہے جیسے اسے کسی بچے نے چھیڑا ہے۔۔۔۔ پھر جب وہ کالم لکھنے پر آتا ہے تو وہ اتنا شائستہ ہو جاتا ہے کہ وہ جن لوگوں کی کھال اتار رہا ہوتا ہے ،وہ بھی آسودگی کے ساتھ مسکرارہے ہوتے ہیں جیسے کھال کسی دوسرے کی اتر رہی ہے۔ طنز و مزاح میں شا ئستگی کا یہ معیار برقرار رکھنا جان جوکھوں کاکام ہے ۔ میری سمجھ میں اس کے صرف دو اسباب آتے ہیں۔ ایک سبب اس کے گھر کی تر بیت ہے اوردوسرا سبب اس کی افتا د مزاج ہے۔۔۔۔ وہ مزاج جس میں خلوص ، محبت اور دوستی کے سمند ر ٹھاٹھیں ماررہے ہیں چنانچہ میں نے دیکھا کہ جب کسی فرد کے معا ملے میں اس کی محبت اوردوستی کے انداز ے غلط نکلتے تو صرف رودیا۔۔۔اوراس حقیقت سے کون انکا ر کرے گا کہ کسی شدید جذبے کی شکست پر طیش میں آنے کے بجائے صرف رودیتا شائستگی کی انتہاہے۔ابن انشاء جیسا بڑا دانشور بھی عطاء الحق قاسمی کی ادب و صحافت کی اہمیت پر بات کئے بغیر نہیں رہ سکا انہوں نے کہاکہ ادب اور صحافت کے لئے فخر کی بات ہے کہ عطاء الحق قاسمی جیسے لکھنے والے ان شعبوں میں موجود ہیں۔انتظار حسین تو ہمیشہ فرماتے رہے ہیں عطاء الحق قاسمی کے کا لم اخبار کی فضاسے پھوٹے نظر نہیں آتے ،اس میں ایک رنگ کا اضافہ کرتے نظر آتے ہیں یوں سمجھئے کہ یہ کالم اس طریقے سے اخبار کے بطن سے برآمد ہوئے جیسے سالک و حسرت کے کالم برآمد ہوتے تھے یہ اس طرز پر سوچے اورلکھے گئے ہیں جس طرز پر پطرس بخاری نے اپنے مضامین لکھے تھے یاہمارے دور میں مشتاق احمد یوسفی نے لکھے ہیں۔مشتاق احمد یوسفی کے بقول آپ پر رشک آتا ہے کہ اتنا لکھتے ہیں اور شگفتگی اورتازہ کاری میں ذرا فرق نہیں آتا۔موضوعات کی وسیع ر ینج اور لہجے کے تنوع سے ایک پر تفنن سنجید گی،احساس فکر اورقدرت رکھنے والے قلم کا ثبوت ملتا ہے۔ آپ اس رمزکو پاگئے ہیں کہ قلم کی ساری توانائی اس کی سچائی میں مضمر ہے۔اسطرح منو بھائی نے عطاء الحق قاسمی کی شخصیت کو کچھ یوں بیان کیا ہے کہ عطاء الحق قاسمی کو حق ،کشمیر جنت نظیر اوران کے قاسمی گھرانے نے جو حسن و جمال عطا فرمایا ہے،وہی حسن وجمال انہوں نے اپنی تحریروں میں بھی اپنایاہے اور شگفتگی کو اپنا بے ساختہ اظہار بنایا ہے۔ چنانچہ ان کا شمار ایسے چند قلم کاروں میں ہوتا ہے جن کا ظاہر و باطن ایک ہے اوریہی خوبی انہیں’’ایکسپورٹ ایبل ‘‘کوالٹی بنا دیتی ہے۔شفیق الرحمان نے عطاء الحق قاسمی سے متعلق بہت اہم بات بیان کی ہے کہ عطاء الحق قاسمی پاکستان کا آرٹ بکوالڈہے۔اب سید ضمیر جعفری کے زبانی عطاء الحق قاسمی کی شخصیت سے متعلق یہ راز بھی جانیئے،انھوں نے کہا کہ ہمارے کھیتوں میں اگنے والی کپاس کے پھولوں کی طرح ہنستا ہوا کالم عطاء الحق قاسمی کے سوا شاید کسی نے نہیں لکھا۔کرنل محمد خان نے ان سے متعلق کہاکہ سدابہا رمزاح نگار عطاء الحق قاسمی اپنی تحریروں اور طبیعت کی وجہ سے پاکستان کے بے بہا قدرتی وسیلوں سے ایک وسیلہ ہے۔ ہمارے سیاستدان بھی ان کی ادب وصحافت دوستی کا اعتراف کئے بغیر نہیں رہ سکے ان میں ایک نام بے نظیر بھٹو شہید کا بھی ہے انھوں نے کہا کہ عطاء الحق قاسمی نے صنف ادب میں جو اہم مقام بنایا ہے وہ بہت کم ادبیوں کے حصے میں آتا ہے شاعری ہو یا نثر نگاری ،قاسمی صاحب کا اپنا انداز ہے۔ ان کی نگارشات روز مرہ زندگی کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان کے مزاح میں کاٹ بھی ہے اور مٹھاس بھی۔ انکے سفر نامے جہاں قاری کو غیر ممالک کی سیر کراتے ہیں ،وہاں ان ممالک کی ثقافت ،عوام کے طرززندگی اورمعاشر ے سے بھی روشناس کراتے ہیں۔ عطاء الحق قاسمی نے ڈرامہ نگاری میں بھی کمال حاصل کیا ہے ۔

ان کے ڈرامے ہرخاص و عام میں مقبول ہوئے۔ ان کے ڈراموں کے کردارزندہ ہیں اور یوں لگتا ہے جیسے یہ ہمارے اردگرد پائے جاتے ہیں۔ وہ معاشرے کی خرابیوں کی نشاند ہی بڑی بے باکی سے کرتے ہیں وزیراعظم پاکستان محمد نواز شریف ، عطاء الحق قاسمی کی صلاحتیوں کا اعتراف کچھ اس انداز میں کرتے ہیں کہ ایک ہمہ جہت شخصیت ہیں ،وہ ممتاز کالم نگار ہیں، انہوں نے ٹیلی ویژن کے لئے بعض یاد گا ر ڈرامہ سیر یل لکھے ہیں ،طنزہ مزاح ان کا خصوصی میدان ہے،اس موضوع پر ان کی متعدد کتا بیں ادب کے قارئین سے سند قبولیت حاصل کر چکی ہیں، ان کے سفر نامے بھی خاص وعام میں مقبول ہیں،ان کی شاعرانہ حیثیت بھی مستحکم ہے تاہم ان کی شخصیت کا سب سے مضبوط پہلو ، ان کی پاکستان کے حوالے سے غیرمشروط محبت اور اصولوں سے لازوال وفاداری ہے، ان کی تمام دوستیاں اور دشمنیاں پاکستان کے حوالے سے ہیں،سچ لکھنا ان کے خمیر میں شامل ہے اور ایسا کرتے ہوئے وہ بڑے بڑے خطر ے کو بھی خاطر میں نہیں لاتے ، انہیں ان کے موقف سے دھمکی یا لالچ کے ذریعے نہیں ہٹایا جاسکتا ،وہ وہی لکھتے ہیں جو وہ محسوس کر تے ہیں خواہ انہیں اس کی بڑی سے بڑی قیمت ہی کیوں نہ ادا کرنی پڑے، ان کی شخصیت کی انہی خوبیوں نے ان کی تحریر کو دلکش بنا یا ہے اور وہ اپنی شخصیت او ر فن کے اس حسین امتراج کی وجہ سے پاکستانی عوام کے دلوں میں گھر کر چکے ہیں۔

مزید : کالم