فرقہ وارانہ ہم آہنگی ،جمعیت اہلحدیث کاحکومت کو 21نکاتی ضابطہ اخلاق پیش

فرقہ وارانہ ہم آہنگی ،جمعیت اہلحدیث کاحکومت کو 21نکاتی ضابطہ اخلاق پیش

 لاہور(آئی این پی)مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستا ن کے سربراہ سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور باہمی روادری کے فروغ کے لیے حکومت کو21 نکاتی مجوزہ ضابطہ اخلاق پیش کیا ہے جس کے تحت فرقہ،سیاست، زبان اور علاقائیت کے نام پر دہشت گردی اور قتل و غارت کو خلاف اسلام قرار دیا گیا ہے۔ضابطہ اخلاق کے مزید نکات کے مطابق نبی اکرم ؐکی عظمت و حرمت ہمارے ایمان کی بنیاد ہے اور آنحضور ؐکی کسی طرح کی توہین کے مرتکب فرد کے شرعاً، قانوناً موت کی سزا کا مستحق ہے علاوہ ازیں جھوٹا الزام لگانے والے بھی قابل گرفت ہونے چاہیے۔عظمت صحابہؓ اہل بیت اطہار و عظمت ازدواج مطہرات اور عظمت خلفاء راشدین ایمان کا جز ہے۔شرانگیز تحریر و تقریر سے گریز کیا جائے ۔تمام مسالک کے اکابرین کا احترام کیا جائے ۔تمام مکاتب فکر کے مقامات مقدسہ اور عبادت گاہوں کا احترام و تحفظ یقینی بنایا جائے ۔جلسے جلوسوں اور عبادت گاہوں میں اسلحہ کی نمائش پر پابندی لگائی جائے۔عوامی اجتماعات میں اتحاد و وحدت کو فروغ دینے والی تقاریر کی جائیں گی۔عوامی سطح پر ملی یکجہتی کو فروغ دینے والے اجتماعات کئے جائیں گے۔مختلف مکاتب فکر کے متفقات اور مشترکہ عقائد کی نشر و اشاعت کا اہتمام کیا جائے گا۔ باہمی تنازعات کو افہام و تفہیم اور تحمل و رواداری سے حل کیا جائے گا۔ مختلف ایام اور تہواروں پر نکلنے والے جلوسوں کو چاردیواری تک محدود کیا جائے۔ سابقہ اور لاحقہ کے بغیرصرف مسنون آذان کا اہتمام کیاجائے ۔لاؤڈ سپیکر کے ناجائز استعمال پر پابندی پر عمل درآمد کے ساتھ اسکی خلاف ورزی پر سخت سزا دی جائے۔فرقہ وارانہ مدد کے تمام بیرونی( غیر ملکی) ذرائع اور راستے بندکیے جائیں۔سرکاری تعلیمی اداروں میں مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کی مہم چلائی جائے۔ تمام وفاق المدراس کے علماء ایک دوسرے کے مدارس میں خیر سگالی دورے اور اتحاد امت کے عنوان پر سیمینارز کا انعقاد کریں۔یونین کی سطح پر تمام مسالک کے علماء کی مذہبی ہم آہنگی کے لیے کمیٹیاں قائم کی جائیں۔الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر مذہبی ہم آہنگی کے خصوصی پروگرامز کرائے جائیں۔فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینے والے علماء کا سماجی بائیکاٹ کیا جائے۔فرقہ وارنہ کشیدگی میں شہید ہونے والوں کی مدد کے لیے خصوصی فنڈ کا اجراء کیا جائے۔ملک گیر سطح پر ناجائز اسلحہ کے خلاف تحریک چلائی جائے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ فرقہ وارانہ دہشت گردی ملک کے لیے زہر قاتل ہے۔سانحہ شکار پور کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔تمام تر ریاستی اقدامات کے باوجود دہشت گرد ی کے واقعات ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔علماء کو باہمی رواداری کی تحریک شروع کرنا ہو گی۔ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ کے لیے متحدہ مجلس عمل کا پلیٹ فارم فعال کرنے کی ضرورت ہے۔ 21نکاتی ضابطہ اخلاق

مزید : صفحہ آخر