پٹرولیم مصنوعات کی کم قیمتوں کو دہری کمائی کا ذریعہ نہ بنائیں

پٹرولیم مصنوعات کی کم قیمتوں کو دہری کمائی کا ذریعہ نہ بنائیں

  

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کرتے ہوئے ان پر جنرل سیلز ٹیکس کی شرح میں مزید 5فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے۔ یوں اب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جی ایس ٹی کی مجموعی شرح 27فیصد ہو گئی ہے، یکم جنوری کو بھی قیمتیں کم کرتے وقت5فیصد سیلز ٹیکس بڑھایا گیا تھا۔ اس مد میں حکومت نے جنوری کے مہینے میں16ارب روپے کمائے، اندازہ ہے کہ اب فروری میں حکومت کو مزید12ارب روپے حاصل ہو جائیں گے۔ جنرل سیلز ٹیکس(جی ایس ٹی) بڑھانے کا سادہ الفاظ میں مطلب یہ ہے کہ تیل کی عالمی منڈی میں کم ہوتی ہوئی قیمتوں کا پورا فائدہ صارفین کو منتقل نہیں کیا جا رہا۔ حکومت کو ایک طرف تو تیل کی درآمد میں زبردست بچت ہو رہی ہے اور تیل کا درآمدی بل ایک تہائی رہ گیا ہے۔ دوسری جانب حکومت نے دو اقساط میں جی ایس ٹی کی شرح میں 10فیصد اضافہ کر کے اپنے اس ریونیو کو پورا کرنے کا اہتمام کر لیا ہے،جو کم قیمتوں کی وجہ سے کم حاصل ہوتا۔عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا جو سلسلہ چار پانچ ماہ پہلے شروع ہوا تھا وہ اب تک جاری ہے اور تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اِس وقت خا م تیل کی قیمت ساڑھے43ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے، جبکہ کمی سے پہلے یہی قیمتیں120ڈالر فی بیرل تک چلی گئی تھیں۔ اگر یہ قیمتیں اِسی سطح پر کھڑی رہتیں ،تو پاکستان کو موجودہ قیمت سے تقریباً تین گنا زیادہ رقم ادا کر کے خام تیل درآمد کرنا پڑتا۔ تیل کی کم قیمت کی وجہ سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ گئے، روپیہ دباؤ سے نکل گیا اور ڈالر کے مقابلے میں اس کی قیمت مستحکم ہو گئی۔ درآمدی بل سے بچنے والی رقم سے ہم دوسرے اخراجات پورے کرنے کے قابل ہوئے۔ باالفاظ دیگر ملک کے وسائل بڑھ گئے، ورنہ شاید اس رقم کے مساوی قرضے حاصل کرنے پڑتے اور یوں پہلے سے مقروض مُلک قرضوں کے مزید بوجھ تلے دب جاتا۔ نئے قرضے حاصل کرنے کے لئے نہ جانے کتنی کڑی شرائط کا کڑوا گھونٹ بھی پینا پڑتا۔

قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے ٹیکس میں اضافے پر نکتہ چینی کی ہے اور کہا ہے کہ حکومت کو ٹیکسوں میں اضافے کے سوا کوئی کام نہیں۔ یہ حکومت کے لئے کوئی اچھا سرٹیفکیٹ نہیں، حکومت اگر تیل کی کم قیمتوں کا فائدہ دیانت داری سے عوام کو منتقل کرتی تو نہ صرف نیک نامی کماتی، بلکہ گرانی کے بوجھ تلے دبے ہوئے عوام کچھ عرصے کے لئے ہی سہی سُکھ کا سانس لیتے، لیکن بنیا ذہنیت اور ایف بی آر کے بابوؤں کی وجہ سے شاید ایسا نہیں ہو پا رہا، حکومت کا کام کاروبار کر کے منافع کمانا نہیں، عوام کی دُکھی زندگیوں میں بہتری لانا ہے، کاروباری حکومتوں کو کبھی نیک نامی حاصل نہیں ہو پاتی۔

مزید :

اداریہ -