انسدادِ دہشت گردی فورس اور قانون نافذکرنے والے اداروں کی استعداد کار

انسدادِ دہشت گردی فورس اور قانون نافذکرنے والے اداروں کی استعداد کار

  

وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ قوم، فوج اور ادارے متحد ہیں، دہشت گردوں کے عبرتناک انجام کا وقت قریب آ گیاہے، جنرل راحیل شریف اور مَیں بہت جلد کوئٹہ جائیں گے، سیاسی اور عسکری قیادت سے ملیں گے، مُلک کو دہشت گردی کی لعنت سے پاک کر کے رہیں گے، جب تک اس دھرتی کو دہشت گردی سے پاک نہیں کیا جائے گا، مُلک ترقی نہیں کر سکتا اب قوم نے عہد کر لیا ہے کہ وہ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے گی، پنجاب حکومت نے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے عملی اقدامات کئے ہیں، انسداد دہشت گردی فورس کا قیام اس کی ایک مثال ہے اور یہ فورس انسدادِ دہشت گردی کے لئے ہر اوّل دستہ ثابت ہو گی۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے پاک فوج کے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ مُلک میں امن و امان اور سلامتی کے لئے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تربیت اور استعدادِ کار میں اضافے کے لئے خاطر خواہ اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ وزیراعظم کے ساتھ ایلیٹ پولیس ٹریننگ سکول لاہور میں ایلیٹ پولیس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے جنرل راحیل شریف نے کہا کہ ہمیں مُلک بھر میں اپنے تربیتی پروگرام کو مزید وسعت دینا ہو گی اور تربیتی استعداد کو بڑھانا ہو گا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ آرمی چیف کی انسدادِ دہشت گردی فورس کے پہلے دستہ کی پاسنگ آؤٹ پریڈ میں شرکت اس عزم کی عکاس ہے کہ فوج قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد بڑھانا چاہتی ہے اور سیکیورٹی و امن و امان کی صورتِ حال بہتر بنانے کے لئے ہم سب مل کر کام کر رہے ہیں، ہم نے مُلک بھر میں اپنی تربیتی سرگرمیوں کا دائرہ کار بڑھا دیا ہے تاکہ قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں کی صلاحیت بڑھا کر مُلک میں امن و استحکام قائم کیا جا سکے۔

اگرچہ دہشت گردی کا عفریت تو پورے مُلک میں پھیلا ہوا ہے اور کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ دہشت گرد کب اور کہاں واردات کرنے کے لئے پہنچ جائیں تاہم پنجاب پہلا صوبہ ہے،جہاں انسدادِ دہشت گردی کی فورس باقاعدہ طور پر قائم کر دی گئی ہے اور لاہور میں اس فورس کے پہلے تربیت یافتہ دستے کی پاسنگ آؤٹ پریڈ بھی ہو گئی ہے، جس دستے نے تربیت مکمل کی ہے اُس نے تربیت پانے کے بعد اپنی عملی مہارت کا مظاہرہ بھی کر کے دکھا دیا ہے اور امید کی جانی چاہئے کہ یہ نئی تربیت یافتہ فورس دہشت گردوں کا چیلنج قبول کرے گی اور وزیراعظم نے ہر حالت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے کے جس عزم کا اظہار کیا ہے اُس میں ممدو معاون ثابت ہو گی۔ مُلک میں دہشت گردی کی وارداتوں کا سلسلہ نائن الیون کے تھوڑے ہی عرصے بعد امریکہ کے افغانستان میں حملوں اور وہاں سے طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد ہی شروع ہو گیا تھا اور پھر بہت جلد اس کا دائرہ اتنا وسیع ہو گیا کہ پاکستان میں جگہ جگہ دہشت گردی کی وارداتیں ہونے لگیں اگر اُسی وقت ایسی کوئی فورس بنانے کا سوچا جاتا، تو ممکن ہے ہمارے جسدِ قومی پر دہشت گردی کے وہ چرکے نہ لگتے جنہوں نے ہمیں لہولہان کر کے رکھ دیا، پاکستان کی روایتی پولیس دہشت گردوں کے مقابلے میں اس انداز میں تربیت یافتہ نہ تھی، دہشت گردوں کے پاس جدید اسلحہ اور اسے چلانے کی پوری تربیت تھی، وہ جنگ کے ایک اہم اصول ناگہانیت سے بھی بھرپور استفادہ کرتے تھے اور انہوں نے تحرک کا اصولِ جنگ بھی اپنا رکھا تھا، وہ اگر آج ایک مقام پر کارروائی کرتے تھے، تو اگلے روز اُن کا نشانہ ہزاروں میل دور کوئی دوسرا مقام ہوتا تھا، تازہ ترین دو بڑے واقعات کو ہی لے لیں۔ دہشت گردوں نے 16دسمبر 2014ء کو آرمی پبلک سکول پشاور پر حملہ کر کے پورے مُلک کو ہلا کر رکھ دیا، تو اس کے بعد اب ڈیڑھ ماہ بعد30جنوری کو اندرونِ سندھ شکارپور میں امام بارگاہ کو نشانہ بنا ڈالا ہے، جہاں60کے قریب نمازی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دہشت گرد پشاور کے واقعہ کے بعد تھک ہار کر نہیں بیٹھ گئے تھے۔ انہوں نے پورے مُلک میں کہیں حالات کو اپنے لئے سازگار نہ پایا، تو اُن کا شیطان ذہن انہیں دور دراز علاقے شکار پور لے گیا،جہاں ان کے تیار کئے ہوئے ایک دہشت گرد نے واردات کر ڈالی اس سے ثابت ہوا کہ دہشت گردوں کی مشینری، جس انداز میں کام کر رہی ہے اُن کا خاتمہ کرنے کے لئے اس سے زیادہ مہارت، تربیت اور ذہنی صلاحیتوں کی ضرورت ہے۔ انسدادِ دہشت گردی کے لئے کھڑی کی گئی تازہ ترین فورس سے توقع کی جاتی ہے کہ یہ اس کمی کو پورا کرے گی۔ اگرچہ پنجاب نے اس معاملے میں پہل کی ہے، لیکن دہشت گردی کا سامنا صرف اِسی صوبے کو تو نہیں ہے، باقی صوبوں کو بھی ہے۔ خیبرپختونخوا تو دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہے، وہاں ایسی کوئی فورس بہت پہلے بنا دی جانی چاہئے تھی، چلئے اگر اب تک نہیں بن سکی، تو اب اس کام کو ترجیحات میں شامل کر لینا چاہئے، بلکہ سرفہرست رکھا جانا چاہئے۔ وزیراعظم نے کہا ہے کہ ہر صوبے میں انسدادِ دہشت گردی فورس بنائی جائے گی، صوبوں کو اس ضمن میں جلد عملی اقدامات کا آغاز کر دینا چاہئے۔

مُلک میں تعلیم یافتہ اور باصلاحیت نوجوانوں کی کوئی کمی نہیں ہے، ہر سال کالجوں اور یونیورسٹیوں سے جو نوجوان تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو کر نکلتے ہیں ان میں سے بہت کم پسند کا روزگار حاصل کر پاتے ہیں، تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی یہ نوجوان بیروزگار رہتے ہیں، تو آہستہ آہستہ ان کی صلاحیتوں کو زنگ لگنا شروع ہو جاتا ہے یا پھر ان کا ذہن بھٹک جاتا ہے اور وہ آسانی کے ساتھ تخریب کار قوتوں کا آل�ۂ کار بننے کے لئے آمادہ ہو جاتے ہیں۔ یہ جو خود کش بمبار ہیں یہ ایسے ہی بھٹکے ہوئے راہی ہیں۔ ایسے نوجوانوں کو انسدادِ دہشت گردی فورس میں بھرتی کر کے ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ پنجاب کی نسبت باقی صوبوں میں تو بے روزگاری زیادہ ہی ہے، اس لئے وہاں اس فورس کے لئے آسانی سے باصلاحیت نوجوان مل سکتے ہیں، لیکن شرط یہ ہے کہ اس فورس کے لئے جو نوجوان بھرتی ہوں وہ مُلک و قوم کی خدمت کے جذبے سے سرشار ہوں۔ نوجوانوں کا جو طبقہ ایزی لائف کے تصور سے مغلوب و متاثر ہے وہ اس کام کے لئے مفید نہ ہو گا، کیونکہ چوری کھانے والے مجنوں یہ مشقت طلب اور جان جوکھوں والا کام نہ کر سکیں گے یہ تو جان ہتھیلی پر رکھنے والوں کا کام ہے۔ امید ہے اس خصوصی فورس کے تربیت یافتہ نوجوان جب میدانِ کار زار میں اتریں گے تو دہشت گردوں کے حوصلے پست کرنے کا باعث ہوں گے۔

یوں تو دہشت گردی کے اِکا دُکا واقعات دنیا میں ہر جگہ ہو جاتے ہیں، لیکن جس منظم انداز میں پاکستان دہشت گردی کا ہدف بنا ہے، دنیا کے شاید ہی کسی مُلک کو اس کا سامنا کرنا پڑا ہو، ان مُلکوں نے اس کام کے لئے کوئی الگ فورس بنانے کی ضرورت اس لئے محسوس نہیں کی کہ وہاں کی پولیس بہتر تربیت یافتہ ہے اور دہشت گردوں سے نپٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہو سکتی ہے کہ امریکہ میں نائن الیون کے بعد دہشت گردی کا کوئی بڑا واقعہ نہیں ہوا۔ امریکہ میں ہوم لینڈ سیکیورٹی کا نیا ادارہ بنایا گیا، جس نے دہشت گردی کے خلاف اقدامات کو مربوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان میں بھی انٹیلی جنس شیئرنگ کا نظام بہتر کرنے کی ضرورت ہے،کیونکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ کسی جگہ دہشت گردی کے واقعہ کی اطلاع قبل از وقت ہوتی ہے، لیکن اداروں کے باہمی ربط کے خلا کی وجہ سے ایسی وارداتوں کی قبل ازوقت روک تھام نہیں ہو پاتی۔انسدادِ دہشت گردی فورس کے جوانوں کو جدید ترین خطوط پر تربیت دی گئی ہے اور توقع ہے کہ چند سال بعد جب اس فورس کی افرادی قوت میں اضافہ ہو گا تو یہ انسدادِ دہشت گردی میں صحیح معنوں میں ممدو معاون ثابت ہو گی، پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے اداروں کی استعداد اور تربیت میں اضافے کے جس عزم کا اعلان کیا ہے یہ وقت کی ضرورت ہے۔ اہلِ وطن کو امید ہے کہ جلد ہی پاکستان دہشت گردی کے عفریت سے نجات پا کر امن کا گہوارہ بن جائے گا (انشا اللہ العزیز)

مزید :

اداریہ -