سینیٹ انتخابات، پیپلز پارٹی ،اے این پی کو بڑا دھچکا لگے گا

سینیٹ انتخابات، پیپلز پارٹی ،اے این پی کو بڑا دھچکا لگے گا

  

کراچی (سٹاف رپورٹر)سینیٹ کے انتخابات کی تیاریاں زوروں پر ،سینیٹ میں نمائند گی حاصل کرنے والی جماعتوں کی تعداد 10بڑھ کر 13ہونے کا واضح امکان ہے،درجنوں امیدواروں نے کاغذات نامزدگی حاصل کر لئے اور مختلف پارٹیوں کو سیکڑوں درخواستیں موصول ہوگئی ، صوبوں ،وفاق اور فاٹا میں کہاں کس سے کس کے کتنے ارکان ریٹائر ہونگے اور کس کو کتنی نشستیں ملیں گی ،دلچسپ اعدادوشمار۔11مارچ 2015ء کو 10سیاسی جماعتوں کے 52ارکان ریٹائر ہونگے ۔جن میں عوامی نیشنل پارٹی کے خبیر پختونخوا سے6سینیٹرز عبدالنبی بنگش ،حاجی محمد عدیل خان ،محمد زاہد خان ،افراسیاب خٹک ،فرح عقیل اور امر جیت ریٹائر ہونگے اور خبیر پختونخوا سے عوامی نیشنل پارٹی کو کوئی مزید نشست ملنا بہت مشکل ہے کیونکہ خیبر پختونخوا میں ایک جنرل نشست کے لئے کم سے کم 1560پوائنٹ چائے اورعوامی نیشنل پارٹی کے پاس صرف 500پوائنٹ ہیں۔بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی)کے بلوچستان سے 2ارکان میر محمد علی رند اور کلثوم پروین ریٹائر ہونگے ،جبکہ بلوچستان سے بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی)کو سخت بارگینگ کے بعد ہی ایک نشست مل سکتی ہے کیونکہ بلوچستان میں ایک جنرل نشست کے لئے کم سے کم 813پوائنٹ درکار ہیں اور بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے پاس صرف400پوائنٹ ہیں ۔جمعیت علماء اسلام (ف)کے 3سینیٹرز ریٹائر ہو رہے ہیں جن میں سے خبیر پختونخوا سے حاجی غلام علی اور ہمن داس اور بلوچستان سے مولانا عبدالغفور حیدری شامل ہیں ۔جمعیت علماء اسلام (ف) کو بلوچستان دیگر جماعتوں سے اتحاد کے بعد ہی دو اور خبیر پختونخوا سے مسلم لیگ (ن) اور قومی وطن پارٹی سے اتحاد کی صورت میں دو نشستیں ملنے کا امکان ہے ۔متحدہ قومی موومنٹ کے سندھ سے عبدالحسیب خان ،بابر خان غوری اور شیرالہ ملک ریٹائر ہو رہے ہیں ۔متحدہ قومی موومنٹ کودو جنرل نشستیں آسانی کے ساتھ مل جائیں گی تاہم مزید ایک سے دو نشستوں(ایک خاتون اور ایک ٹیکنو کریٹ ) کے لئے کم سے کم بھی 468پوائنٹ درکار ہیں ۔نیشنل پارٹی کے بلوچستان واحد سینیٹر میر حاصل خان بزنجو ریٹائر ہونگے ،تاہم بلوچستان سے نیشنل پارٹی کو ایک جنرل اور ایک مخصوص نشست ملنے کا واضح امکان ہے ۔پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے بلوچستان سے واحد رکن عبدالراؤف بھی ریٹائر ہونگے تاہم پختونخوا ملی عوامی پارٹی بلوچستان سے 2سے 3نشستیں حاصل کر سکتی ہے ۔پنجاب سے مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین ریٹائر ہو رہے ہیں اور مسلم لیگ(ق) کو مزید کوئی نشست ملنے کا کوئی امکان نہیں ہے ۔مسلم لیگ (ن) کے8ارکان ریٹائر ہو رہے ہیں جن میں پنجاب سے چوہدری محمد جعفر اقبال ،مشاہداللہ خان ،پرویز رشید ،راجہ ظفر الحق ،سید ظفر علی شاہ، علامہ ساجد میر اور بیگم نجمہ حمیداور بلوچستان سے سردار محمد یعقوب خان ناصرشامل ہیں ۔مسلم لیگ (ن) کو پنجاب سے تمام 11،خبیر پختونخوا سے 2،بلوچستان سے 4سے 5اور وفاق سے 2 نشستیں ملنے کاواضح امکان ہے،تاہم سندھ میں ایک نشست کے لئے بڑی محنت کی ضرورت ہوگی ۔ اور پیپلزپارٹی کے21سینیٹر ریٹائر ہو رہے ہیں جن میں سندھ سے عبدالقیوم سومرو،گل محمد لاٹ،اسلام الدین شیخ، مولا بخش چانڈیو،سلیم مانڈی والا ،عبدالرحمان ملک ،فاروق حمید نائک ،الماس پروین ،پنجاب سے ڈاکٹر محمد جہانگیر بدر ،محمد کاظم خان اور سیدہ صغریٰ امام، خیبر پختونخوا سے گلزار احمد خان ،سردار علی خان ،وقار احمد خان ،عدنان خان ،فرحت عباس ،بلوچستان سے ،میر محمد یوسف بادینی ،صابر بلوچ اور سریا امیر الدین ،وفاق سے سید نیئرحسین بخاری اور سعیدہ اقبال شامل ہیں پیپلزپارٹی کو سندھ سے 6نشستیں ملنا یقینی ہے تاہم ایک سے دو نشستوں کے لئے سخت محنت کی ضرورت ہوگی ۔آزاد 6ارکان میں فاٹا سے عباس خان افریدی ،انجینئر ملک محمد رشید احمد خان ،حاجی خان افریدی،محمد ادریس خان صافی اور بلوچستان سے نوابزادہ محمد اکبر اور انجینئر محمد ہمایوں خان شامل ہیں ۔مسلم لیگ(ف) سندھ سے مسلم لیگ (ن) ،تحریک انصاف اور نیشنل پیپلزپارٹی کے تعاون سے ہی ایک نشست حاصل کر سکتی ہے ۔تحریک انصاف خبیر پختونخوا سے 5نشستیں یقینی طور پر حاصل کر سکتی ہے تاہم ایک نشست کے لئے جماعت اسلامی سے قربانی مانگنی ہوگی ۔ جماعت اسلامی خیبر پختونخوا سے تحریک انصاف کی حمایت سے ہی ایک نشست حاصل کر سکتی ہے ۔قومی وطن پارٹی مسلم لیگ(ن) اور جمعیت علماء اسلام (ف) کے تعاون سے ایک نشست حاصل کرسکتی ہے ۔تین جماعتوں تحریک انصاف ،جماعت اسلامی اور قومی وطن پارٹی کی اس وقت ایوان بالا میں نمائندگی نہیں ہے اور انہیں نمائندگی ملے گی ۔

مزید :

صفحہ اول -