لاہور ،اوور لوڈ ٹریکٹر ٹرالی دیوار توڑ تی گھر میں جا گھسی ،2کمسن بھائی جاں بحق ،دوست شدید زخمی

لاہور ،اوور لوڈ ٹریکٹر ٹرالی دیوار توڑ تی گھر میں جا گھسی ،2کمسن بھائی جاں ...

  

 لاہور(کرائم سیل)شفیق آباد کے علاقہ میں اوور لوڈ ٹریکٹر ٹرالی مکان کی دیوار توڑتی گھر میں جا گھسی،زد میں آ کر دو کم سن بھائی جاں بحق جبکہ ان کا ایک دوست شدید زخمی ہو گیا، ٹریکٹر ٹرالی ڈرائیور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ، پولیس اور ریسکیو ٹیم کے دیر سے پہنچنے پر بچوں کے ورثا اور اہل علاقہ کا بچوں کی نعشیں بند روڈ پر رکھ کر شدید احتجاج ،انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی ، بعد ازاں مذاکرات کے بعد مظاہرین پر امن طور پر منتشر ہو گئے۔تفصیلات کے مطابق شفیق آباد کے علاقہ مالی پورہ گلی نمبر 5میں ایک عمارت کی تعمیر کا کام ہو رہا تھا ، تعمیراتی سامان لانے کے لیے گزشتہ شام اینٹوں سے بھری ایک ٹریکٹر ٹرالی گلی میں داخل ہوئی، ٹریکٹر ٹرالی کے ڈرائیور نے زیر تعمیر گھر کے سامنے ٹریکٹر ٹرالی کو کھڑا کرنے کے لیے اسے ریورس کیا لیکن ٹریکٹر ٹرالی اوور لوڈ ہونے کی وجہ سے ڈرائیور کے قابو سے باہر ہوگئی اور زیر تعمیر عمارت کے ساتھ واقع گھر کی دیوار کو توڑتی ہوئی اندر جا گھسی۔اہل علاقہ نے نمائندہ \"پاکستان\" سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مکان کے اندر صحن میں ایک سالہ محمد حسن ،8سالہ شیر علی اور 6سالہ محمد فہد کھیل رہے تھے۔ ٹریکٹر ٹرالی کی ٹکر سے گرنے والی دیوار کھیلتے ہوئے بچوں پر گر گئی جس کے ملبے کی زد میں آ کر محمد حسن اور شیر علی موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ فہد شدید زخمی ہوگیا ۔ ٹریکٹر ٹرالی کاڈرائیور موقع سے فوری طور پر فرار ہو گیا جبکہ اہل علاقہ نے اپنی مدد آپ کے تحت زخمی بچے اور جاں بحق ہونے والوں کی نعشیں ملبے کے نیچے سے نکالیں ۔بعد ازاں اہل علاقہ اور متوفیوں کے ورثا نے بچوں کی نعشوں کو بند روڈ پر رکھ کر پولیس اور انتظامیہ کے خلاف شدید احتجاج کیا۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ پولیس کو متعدد بار کال کی گئی لیکن وہ جائے وقوعہ پر دیر سے پہنچی جبکہ ریسکیو ٹیم بھی انتہائی دیر سے پہنچی ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملزم ڈرائیور اور زیر تعمیر عمارت کے مالک کے خلاف فوری طور پر کارروائی کی جائے اور انہیں گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔مظاہرین نے پولیس اور انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی ۔سڑک دونوں جانب سے بند ہونے کی وجہ سے بند روڈ پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔ مظاہرے کی اطلاع ملنے پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور مظاہرین سے 4گھنٹے طویل مذاکرات کے بعد ملزمان کی گرفتاری اور انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی پر مظاہرین پر امن طور پر منتشر ہو گئے۔بعد ازاں پولیس نے متوفی بچوں کے والد کی درخواست پر واقعہ کا مقدمہ درج کر لیا ہے اور بچوں کی نعشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے مردہ خانہ میں جمع کروا کے فرار ڈرائیور کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔

مزید :

صفحہ اول -