فیصل آباد ،جعلی ٹیکس انوائسز کیس کی تفتیش کا دائرہ وسیع 51بڑے صنعتی ادارے زیر تفتیش

فیصل آباد ،جعلی ٹیکس انوائسز کیس کی تفتیش کا دائرہ وسیع 51بڑے صنعتی ادارے زیر ...

  

 فیصل آباد(بیورورپورٹ)فیصل آباد میں جعلی ٹیکس انوائسز کیس کی تفتیش کا دائرہ وسیع ہو گیا ہے‘ اربوں روپے کے اس سکینڈل میں ملوث ایک مرکزی ملزم کی گرفتاری کے بعد بات ابھی 51بڑے صنعتی اداروں تک پہنچ گئی ہے‘ اس کے ساتھ ہی نہ صرف فیصل آباد بلکہ ملکی سطح کی انتہائی بااثر شخصیات تفتیشی ٹیموں پر ہر قسم کا دباؤ بڑھا رہی ہیں اور ایشیاء کی سب سے بڑی سوتر منڈی میں تھرتھلی مچ گئی ہے تفصیلات کے مطابق ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو فیڈرل ہارون خان ترین کی خصوصی ہدایت پر فیصل آباد میں تعینات ڈائریکٹر محمد اعظم اور ڈپٹی ڈائریکٹر آصف رفیق نے اپنی خصوصی ٹیم کے ہمراہ کارروائی کرتے ہوئے جعلی ٹیکس انوائسز کے فراڈ میں ملوث ایک اور مرکزی ملزم کو سوتر منڈی سے گرفتار کر لیا جس نے ساڑھے 7ارب سے زائد کی گڑبڑ کا انکشاف کیا ہے. مصدقہ ذرائع کے مطابق ڈائریکٹر انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو فیصل آباد محمد اعظم اور ڈپٹی ڈائریکٹر آصف رفیق نے کچھ عرصہ قبل جعلی ٹیکس انوائسز کے فراڈ میں ملوث منیر احمد اور حبیب احمدکو گرفتار کیا تھا ملزمان نے دوران تفتیش بتایا کہ فیصل آباد میں رجسٹرڈ رحمان ٹیکسٹائل ملز کا مالک کوکیانوالہ کا رہائشی مرکزی آدمی ہے جس پر ٹیم نے اطلاع ملنے پر سوتر منڈی میں چھاپہ مار کر مرکزی ملزم نوید اقبال کو گرفتار کر لیا جس نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ اس نے ایم سی بی بنک اور میزان بنک میں تین اکاؤنٹ کھلوائے ہوئے ہیں جن کے ذریعے وہ ملک کی نامور فرمیں جن میں شادمان ملز‘ چنیوٹ ٹیکسٹائل ملز‘ نشاط ملز‘ جے کے سپننگ ملز‘ کریسنٹ ملز وغیرہ 51فرموں اور سوتر منڈی کی بڑی پارٹیوں کے ٹیکس انوائسز کا کام کرتا تھا آخری اطلاع کے مطابق ملزم نوید نے 762ملین کے غبن کاانکشاف کیا ہے جس کے بعد بڑے بڑے نام ظاہر کرنے پر شہر بھر کی بااثر شخصیات مرکزی ملزم کو بچانے کی کوششیں کر رہی ہیں.

مزید :

صفحہ اول -