افغان حکومت اور طالبان میں مذاکرات کیلئے کوششیں تیز

افغان حکومت اور طالبان میں مذاکرات کیلئے کوششیں تیز

 اسلام آباد(آن لائن)افغان حکومت اور افغان طالبان کے مابین من مذاکرات کے لئے کوششوں کا آغاز ہو گیا ہے تاہم طالبان نے افغان حکومت کے ساتھ براہ راست رابطہ انکار کیا ہے۔ آن لائن کو پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے بتایا ہے کہ پاکستان افغان حکومت اور طالبان کے مابین مذاکرات شروع کرنے کیلئے سہولت کار کا کردار ادا کرنے پر تیار ہے تاہم اب تک دونوں کے مابین ہونے والی پیش رفت سے لاعلمی ظاہر کی ہے۔ تسنیم اسلم نے بتایا کہ بہت سے ممالک نے بھی طالبان اور افغان حکومت کے مابین پر امن مذاکرات کا مطالبہ کر رہے ہین اور اس مقصد کے لئے طالبان کا ایک سطحی وفد نے چین کا بھی دورہ کیا ہے۔ افغان حکومت نے بھی افغانستان میں امن کے قیام کے لئے تمام کوششوں کو سراہا ہے۔ چین کے دفتر خارجہ نے بھی افغان ہکومت اور طالبان کے مابین مذاکرات کی حمایت بارے بیان جاری کیا ہے۔ افغان حکومت ذرائع نے آن لائن کو بتایا ہے کہ پاکستان کی حمایت سے افغان حکومت اور افغان طالبان کے مابین مذاکرات کا اہم دور دبئی میں ہوا ہے ان مذاکرات میں طالبان کے سابق وزیر ملا گل آغا‘ ملا عباس‘ ملا جلیل کے علاوہ دیگر اہم طالبان رہنما شامل تھے۔ افغان صدر اشرف غنی کے دورہ پاکستان کے وقت وزیراعظم نواز شریف نے بھی افغان حکومت اور افغان طالبان کے مابین من مذاکرات کی حمایت کی تھی۔ نواز شریف نے افغان صدر سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ان مذاکرات کے لئے سہولت کار کا کردار ادا کرنے پر راضی ہے۔ افغانستان کے صدر اشرف غنی نے اپنے دورہ چین کے دوران بھی طالبان پر زور دیا تھا کہ وہ امن مذاکرات میں شامل ہوں اور امن مذاکرات کے لئے طالبان کو دعوت دی تھی۔ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ افغان طالبان اور افغان حکومت کے نمائندے مذاکرات اور باہمی مسائل کے حل کے لئے ایک خفیہ ملاقات بھی ہو چکی ہے۔

مزید : صفحہ اول