سعودی عرب پر سنگین الزام ، خود بے نظیر بھٹو نے اپنے دور حکومت میں میرمرتضیٰ بھٹو کیخلاف قاتلانہ پولیس آپریشن کی اجازت دی تھی :غنویٰ بھٹو کا انکشاف، پیپلزپارٹی کی تردید

سعودی عرب پر سنگین الزام ، خود بے نظیر بھٹو نے اپنے دور حکومت میں میرمرتضیٰ ...
سعودی عرب پر سنگین الزام ، خود بے نظیر بھٹو نے اپنے دور حکومت میں میرمرتضیٰ بھٹو کیخلاف قاتلانہ پولیس آپریشن کی اجازت دی تھی :غنویٰ بھٹو کا انکشاف، پیپلزپارٹی کی تردید

  

کراچی (خصوصی رپورٹ) پیپلزپارٹی بھٹوگروپ کی چیئرپرسن اور میرمرتضیٰ بھٹو کی بیوہ غنویٰ بھٹونے انکشاف کیاہے کہ اپنے بھائی کے خلاف آپریشن کی اجازت سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے دی تھی جس کا انکشاف خود بے نظیر نے اپنی زندگی میں ہی اُن کے ساتھ کیاتھا اور مرتضیٰ کی موت کے بعد بے نظیر زاروقطار اس اجازت نامے پر رویاکرتی تھیں ۔اُنہوں نے کہاکہ پاکستان میں دہشتگردی کا ذمہ دار سعودی عرب ہے جبکہ پاکستانی سیاست امریکی سفارتخانہ چلارہاہے تاہم پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماﺅں نے غنویٰ بھٹو کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہاکہ یہ محض قیاس آرائیاں ہیں ۔

ڈان نیوز کو دیئے گئے انٹرویو میں غنویٰ بھٹو نے کہاکہ میر مرتضیٰ کے قتل کا انصاف نہ ملنے کا ذمہ دار سسٹم ہے ، بے نظیر بھٹو نے اپنی وزارت عظمیٰ کے دوران خود ہی اپنے بھائی میرمرتضیٰ بھٹو کے خلاف آپریشن کی اجازت دی تھی لیکن موت کے بعد زاروقطار رویا کرتی تھیں جس کا اعتراف خود بے نظیر بھٹو نے غنویٰ بھٹو سے کیاتھا۔ غنویٰ بھٹو کاکہناتھاکہ پولیس حکام میرمرتضیٰ کی گرفتاری کے لیے آپریشن کرنا چاہتے تھے جس کی اجازت اُنہوں نے بے نظیر بھٹو سے مانگی، وہ خود اس سسٹم سے متاثرتھیں جس کی وجہ سے حمایت پر مجبور ہوگئیں ۔ غنویٰ بھٹونے کہاکہ بدقسمتی ہے کہ آج بھی وہی سسٹم چلاآرہاہے ، خود بے نظیر بھی اُسی سسٹم کی بھینٹ چڑھ گئیں ، سسٹم اور حکمران اپوزیشن کو برداشت نہیں کرتے ، سانحہ کلفٹن کی ذمہ داربھی اُس وقت کی حکومت تھی جبکہ سانحہ کلفٹن کے شواہد بھی سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی طرح ضائع کردیئے گئے ، وہ سوال کرتی ہیں کہ جوڈیشل کمیشن کی فائنڈنگز رپورٹس عدالتوں میں پیش کیوں نہیں کی جاتیں ؟بے نظیر اپوزیشن میں تھیں ، مشرف کی حکومت تھی اور اُنہی کے حکومتی نمائندے سانحہ کلفٹن کے بھی ذمہ دارہیں ۔

غنویٰ بھٹوکاکہناتھاکہ سعودی عرب پاکستان میں دہشتگردی کی بڑی وجہ ہے ، عمران خان کے دھرنے کی وجہ حکومت مشکلات میں تھی اور اُن کا پلان سی کافی حدتک کامیاب رہا، سعودی عرب ہرمشکل گھڑی میں نوازشریف کی مدد کرتاہے ، پیسے بھی دیتاہے اور دوسری طرف طالبان کو بھی سپورٹ کرتاہے جبکہ پاک آرمی ’ضرب عضب‘ شروع کرتی ہے ،عمران خان کی حکومت والے صوبے خیبرپختونخواہ میں سکول کے بچوں اور مسلح افواج کے جوانوں پر حملے کے بعد عمران خان دھرنا ختم کردیتے ہیں اور حکومتی مشکلات قدرے کم ہوجاتی ہیں ۔

اُن کاکہناتھاکہ پاکستان میں سیاست امریکی سفارتخانہ چلارہاہے ، بلاول نے تعاون مانگایا کچھ اوررابطہ ہواتو پیشکش قبول کریں گے ۔

پراسرارپولیس مقابلہ ، میرمرتضیٰ بھٹو کے قتل کی خبر پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں ۔

غنویٰ بھٹو کے دعویٰ پر بے نظیر بھٹو کی دیرینہ ساتھی ناہید عباسی کاکہناتھاکہ وہ غنویٰ بھٹو کا احترام کرتی ہیں لیکن یہ باتیں وہ دل سے تسلیم نہیں کرسکتیں کیونکہ دونوں بہن بھائیوں میں کافی قربت تھی اور آپسی اختلافات ختم ہوچکے تھے ، بے نظیر کی ایسی فطرت نہیں تھی کہ کسی کی موت کی اجازت دیں ۔ اُن کاکہناتھاکہ یہ بھٹوخاندان کے خاندانی معاملات ہیں اور زیادہ کچھ کہنانہیں چاہتیں تاہم وہ یقین سے کہہ سکتی ہیں کہ اگر بے نظیر بھٹوزندہ ہوتیں تو وہ میرمرتضیٰ کے قتل کی ضرورتحقیقات کراتیں ، وہ یہ بھی واضح کرناچاہتی ہیں کہ چھ نومبر کو بے نظیر کی حکومت ختم کرنے کے لیے بھی میرمرتضیٰ بھٹو کے قتل کو استعمال کیاگیا۔ ناہیدعباسی کاکہناتھاکہ مائنس بھٹو فارمولااسٹیبلشمنٹ اور دیگر لوگوں نے شروع کیا جس کے بعد اب پیپلزپارٹی جیسے چل رہی ہے ، سب کے سامنے ہے ۔

وزیراطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن کاکہناتھاکہ یہ محض قیاس آرائیاں ہیں ، ان میں کوئی حقیقت نہیں ، بھائی اور بہن کا رشتہ مقدس ترین رشتوں میں ہیں ۔

غنویٰ بھٹو کا انٹرویو مذکورہ چینل پر پیرکی شام کو نشر کیاجائے گا۔

مزید :

قومی -Headlines -