دفاع ،خارجہ پالیسی فوج کے حوالے نہیں کی ،چند لوگ جان بوجھ کر غلط فہمیاں پھیلا رہے ہیں،وزیر اعظم نواز شریف کی روزنامہ پاکستان سے خصوصی گفتگو

دفاع ،خارجہ پالیسی فوج کے حوالے نہیں کی ،چند لوگ جان بوجھ کر غلط فہمیاں ...
دفاع ،خارجہ پالیسی فوج کے حوالے نہیں کی ،چند لوگ جان بوجھ کر غلط فہمیاں پھیلا رہے ہیں،وزیر اعظم نواز شریف کی روزنامہ پاکستان سے خصوصی گفتگو

  


لاہور (عمر شامی / عثمان شامی ) بھارت جانے سے ایک ماہ پہلے امریکی صدر باراک اوباما نے فون کر کے بتایا تھا کہ وہ بھارت جا رہے ہیں اور اس سلسلے میں مجھے اعتماد میں لینا چاہتے ہیں۔ یہ انکشاف وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف نے لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر روزنامہ پاکستان کے مدیران سے خصوصی گفتگو کے دوران کیا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جب اقتدار سنبھالنے کے بعد صدر اوباما سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے پاکستان کیلئے نیک جذبات کا اظہار کیا تھا۔ باراک اوباما کا کہنا تھا کہ انہوں نے بھی پاکستان میں وقت گزارا ہے اور اس کے ساتھ ان کی بہترین یادیں وابستہ ہیں۔

یوم کشمیر کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وہ 5 فروری کو آزاد کشمیر جائیں گے۔ '5 فروری کو یوم کشمیر بھی ہمارے ہی دور میں قرار دیا گیا تھا اور کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو مکمل طور پر سپورٹ کرتے ہیں۔ اس معاملے میں ہر موقع پر ہم نے کشمیریوں کے حق میں آواز اٹھائی ہے۔ یہ بات بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جب واجپائی پاکستان آئے تو جس معاہدے پر دستخط کئے گئے اس میں خاص طور پر یہ بات لکھی ہوئی تھی کہ بات چیت کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو بھی حل کیا جائے گا۔ اس پر میں نے اور واجپائی صاحب نے نہ صرف دستخط کئے تھے بلکہ اس موضوع پر تفصیلی بات چیت بھی ہوئی تھی۔ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ”بیک چینل“ بنایا گیا تھا اور اس سلسلے میں دونوں ممالک کے ذمہ داران کے درمیان دبئی اور لندن میں کئی ملاقاتیں بھی ہوئیں۔ اگر درمیان میں کارگل کا تنازعہ کھڑا نہ ہو جاتا تو شائد ہم بہت اچھے انداز میں اس مسئلے کو حل کرنے میں کامیاب ہو جاتے'۔

بھارت کے ساتھ تعلقات کے بارے میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اقتدار میں آنے کے بعد نریندر مودی کو حکومتی معاملات سمجھنے اور دیگر امور نمٹانے کیلئے وقت درکار ہے، بے شک وہ پہلے ان کاموں کو نمٹا لیں۔وزیر اعظم کا کہنا تھا ’ جب بھارت گیا تھا تو یہی ارادہ لے کر گیا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اچھے ہونے چاہئیں۔ ون ٹو ون ملاقات کے دوران میں نے کہا کہ دونوں جماعتوں کو اس مرتبہ بھاری مینڈیٹ ملا ہے اور یہ دونوں ممالک کے مابین تمام تنازعات حل کرنے کا سنہری موقع ہے۔ یہ بات طے ہوئی تھی کہ جامع مذاکرات کی بحالی سے قبل دونوں ممالک کے سیکرٹری خارجہ کے درمیان ملاقات ہونی چاہئے لیکن پھر اس ملاقات سے چند روز قبل انہوں نے یکطرفہ طور پر اسے منسوخ کر دیا جس کا ہمیں کافی افسوس ہوا‘۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پہلے لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کا تبادلہ ہوتا تھا لیکن اب ورکنگ باﺅنڈری پر بھی یہ سلسلہ چل پڑا ہے۔ دوسری جانب سے فائرنگ کی جائے تو جواب دینا ایک قدرتی رد عمل ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ معصوم شہری اس میں نشانہ بنتے ہیں۔ بھارتی وزیراعظم نے مجھے بلایا اور میں ان کی دعوت پر وہاں گیا، یہ ایک اچھی ابتداءتھی۔یہ اچھا موقع تھا کہ ان کا اقتدار ابھی شروع ہوا تھا لیکن جس طرح ہم نے آگے قدم بڑھایا دوسری طرف سے ایسا جواب نہیں آیا۔ تاہم امید ہے کہ جلد ایسا موقع آئے گا جب بھارت کی جانب سے بھی مثبت رویہ اپنایا جائے گا۔

امریکہ سے تعلقات کے بارے میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس وقت دونوں ممالک کے مفادات متصادم نہیں ہیں۔ ہمیں خود بھی مسائل کا ادراک ہے، ضرب عضب بھی ہم نے کسی کے کہنے پر نہیں شروع کیا۔ یہ فیصلہ ہم سب نے مل بیٹھ کر کیا تھا اور تمام فریقین کی رضامندی اس میں شامل تھی۔ اس فیصلے سے قبل ہم نے مذاکرات کا آپشن بھی دیا تھا لیکن کراچی ائیرپورٹ حملے کے بعد محسوس ہوا کہ اب مزید صبر کرنا مناسب نہیں۔  ان سے پوچھا گیا کہ کئی مبصرین سوال اٹھاتے ہیں کہ   کیا دفاع اور خارجہ پالیسی فوج کے حوالے کر دی گئی ہے تو وزیر اعظم کا کہنا تھا جو لوگ یہ کہتے ہیں ان کا مقصد صرف غلط فہمیاں پھیلانا ہے۔ ان کا ایجنڈا صرف اتنا ہے کہ آپس میں تفرقہ پڑ جائے اور ملک آگے نہ بڑھے۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے مسائل کا حل یہی ہے کہ سب کو ساتھ لے کر چلا جائے۔ کوئی فوجی ہے یا سویلین، ملک کیلئے سب کا ایجنڈا ایک ہی ہے۔ فوجی قیادت متعدد مرتبہ اے پی سی میں بھی شریک ہوئی جو وحدت کا اظہار ہے .

فوجی عدالتوں کے بارے میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ فوجی عدالتیں مستقل حل نہیں، ساتھ ساتھ سویلین عدالتوں کو مضبوط کرنے پر بھی کام ہو رہا ہے اور اس معاملے میں بھی ہم کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے ، مسائل تب ہی حل ہو سکتے ہیں جب سویلین عدالتیں مضبوط ہوں۔

انسداد دہشت گردی فورس کی تشکیل کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کئی ماہ پہلے تمام صوبوں سے درخواست کی تھی کہ اس سلسلے میں اقدامات کریں، پنجاب نے اس حوالے سے تیزی سے کام مکمل کر لیا جبکہ ایک ،دو صوبوں میں ابتداءہو چکی ہے لیکن ایک، دو صوبے ایسے بھی ہیں جنہوں نے اس سلسلے میں ابھی کام بھی شروع نہیں کیا۔

بجلی کے بحران کے بارے میں وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ آج بجلی ہوتی تو سرمایہ کاری کی سطح بے حد بلند ہوتی تاہم بجلی کی کمی اگلے تین سے ساڑھے تین سال میں دور کر دی جائے گی۔ نیلم جہلم تیاری کے مراحل طے کر رہا ہے اور1000 میگاواٹ بجلی بنائے گا، تربیلا 4 پر کام مکمل ہو گیا تو اضافی 1400 میگاواٹ بجلی ملے گی، اسی طرح نندی پور منصوبے پر بھی کام ہو رہا ہے۔ مزیدیہ کہ سندھ میں بھی ”ونڈ پاور“ پلانٹس لگ رہے ہیں اور ساتھ ہی ایل این جی کے ذریعے بھی 3600 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کیلئے مختلف منصوبوں پر کام ہورہا ہے۔اگلے چند سالوں کے دوران نہ صرف بجلی کی کمی دور ہوجائے گی بلکہ اضافی بجلی میسر ہوگی۔

پیٹرول کی قیمتوں کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پنجاب میں کرایوں اور اشیاءخور و نوش کی قیمتوں میں کمی پر بھرپور کام ہو رہا ہے اور میرا ارادہ ہے کہ آج باقی 3 صوبوں کے وزراءاعلیٰ کو فون کر کے ان کی توجہ بھی اس جانب مبذول کرواﺅں۔ ہلکے پھلکے انداز میں وزیراعظم نے فقرہ چست کرتے ہوئے کہا کہ اکثر میڈیا والوں کو خود بھی قیمتوں کاپتہ نہیں ہوتا لیکن وہ تبصرہ کرتے رہتے ہیں حالانکہ بازار میں سبزیوں کی قیمت میں خاطرخواہ کمی ہوئی ہے۔

مزید : قومی /Headlines