شعبہ صحت کا معیار ناقص ہے ،سپریم کورٹ نے بہتری کے لئے عوام الناس ،ماہرین سے تجاوزیز مانگ لیں

شعبہ صحت کا معیار ناقص ہے ،سپریم کورٹ نے بہتری کے لئے عوام الناس ،ماہرین سے ...
شعبہ صحت کا معیار ناقص ہے ،سپریم کورٹ نے بہتری کے لئے عوام الناس ،ماہرین سے تجاوزیز مانگ لیں

  


لاہور(نامہ نگار خصوصی)سپریم کورٹ نے ملک میں شعبہ صحت کی بہتری کے لئے عوام الناس، ماہرین اور ڈاکٹروں سمیت ہر مکتبہ فکر کے لوگوں سے تجاویزطلب کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ صحت کے شعبہ میں بہتری نہ لائی گئی تو مستقبل میں ہمارے بچے ہم سب کواس کوتاہی کا ذمہ دار سمجھیں گے ۔عدالت نے محکمہ صحت پنجاب سے ڈسڑکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال سرگودھا میں شیر خوار بچوں کی ہلاکتوں اور ناقص سہولیات پر تفصیلی رپورٹ بھی طلب کر لی ہے ۔سپریم کورٹ لاہوررجسٹری میں مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار، مسٹر جسٹس اقبال حمید الرحمن اور مسٹر جسٹس عمر عطاءبندیال پر مشتمل تین رکنی بنچ نے شعبہ صحت کی ناقص صورتحال پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے ڈپٹی رجسٹرار ڈاکٹر محمد رشید نے ملٹی میڈیا پروجیکٹر پر بنچ کو میڈیکل کالجز کے الحاق کے لئے معیار اور طریقہ کار سے متعلق بریفنگ دی، بنچ کو بتایا گیا کہ ملک بھر میں 92جبکہ پنجاب میں 46 میڈیکل کالجز پی ایم ڈی سی سے الحاق شدہ ہیں اور تمام شرائط پوری کرنے کے بعد ہی میڈیکل کالجز کا الحاق منظور کیا جاتا ہے ، بنچ کے استفسار پر پی ایم ڈی سی نے بتایا کہ میڈیکل کالجز کے لئے باقاعدہ چیک اینڈ بیلنس سسٹم بھی موجود ہے جس پر بنچ نے ریمارکس دیئے کہ بظاہر تو پی ایم ڈی سی کے رولز اور بریفنگ ٹھیک لگتی ہے مگر اس کی عملی تصویر ٹھیک نہیں ہے، اگر پی ایم ڈی سی کے قواعد و ضوابط بہت اعلیٰ ہیں تو پھر پاکستان کا شعبہ صحت عالمی معیار کے مطابق کیوں نہیں ہے ، کئی واقعات سامنے آئے ہیں جن میں ڈاکٹروں کی غلط ٹریٹمنٹ کی وجہ سے بچوں اور شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں،ڈاکٹروں کی تعلیم اور تربیت کو عالمی معیار کے مطابق کرنے کی ضرورت ہے.
عدالتی سماعت میں شرکت کے لئے آئے شیخ زید ہسپتال کے اسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عمران انور نے بنچ کی معاونت کرتے ہوئے بتایا کہ نجی میڈیکل کالجز ڈاکٹر پیدا کرنے والی منڈیاں بن چکے ہیں جس کی وجہ سے میڈیکل ایجوکیشن بری طرح متاثر ہو رہی ہے، اکثر نجی میڈیکل کالجز کسی بھی ٹیچنگ ہسپتال سے منسلک نہیں ہیں جس کے باعث ان کالجز کے طالب علموں کو عملی طور پر کام کرنے کا موقع نہیں ملتا جس کے نتیجے میں ڈاکٹروں کی تعلیم میں نقص رہ جاتے ہیں ، ڈاکٹر عمران انور نے سپریم کورٹ معاونت کرتے ہوئے مزید بتایا کہ اگر نجی میڈکل کالجز میں تعلیم دینے کا موجوہ طریقہ کار جاری رہا تو آئندہ 5،6 برسوں میں صورتحال انتہائی خراب ہو جائے گی ، بنچ کو بتایا گیا کہ پنجاب میں شعبہ صحت کی صورتحال کا عالم یہ ہے کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال سرگودھا میں آلات کی کمی کے باعث شیر خوار بچوں کی بڑی تعداد جاں بحق ہو گئی مگر کسی نے کوئی نوٹس نہیں لیا اور نہ ہی آلات کی کمی پوری کرنے کی کوشش کی گئی ۔
جس پر بنچ نے محکمہ صحت پنجاب کو حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرہسپتال سرگودھا میں شیرخوار بچوں کی ہلاکتوں سے متعلق تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے ،سپریم کورٹ نے عوام الناس، ماہرین، ڈاکٹروں سمیت ہر مکتبہ فکر کے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ ملک میں شعبہ صحت کی بہتری کے لئے اپنی تجاویز عدالت کو دیں، فاضل بنچ نے ریمارکس دیئے کہ صحت کا نظام بہتر نہ کر سکے تو ہمارے بچے ہم سب کواس کا ذمہ دار سمجھیں گے ، عدالت یہ سمجھنا چاہتی ہے کہ ملک میں میڈیکل ایجوکیشن معیاری دی جا رہی ہے یا نہیں، عدالت نے شیخ زید ہسپتال سے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عمران انور کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایسے ماہرین کی ٹیم تجویز کریں جو بے خوف ہو کر شعبہ صحت میں بہتری کے لئے کام کر سکیں،سپریم کورٹ نے ازخودنوٹس کیس پر مزید سماعت 11فروری تک ملتوی کر دی۔

مزید : لاہور