میڈیکل سائنس کا حیران کن کارنامہ ، بانجھ خاتون دو بچوں کی ماں بن گئی

میڈیکل سائنس کا حیران کن کارنامہ ، بانجھ خاتون دو بچوں کی ماں بن گئی
میڈیکل سائنس کا حیران کن کارنامہ ، بانجھ خاتون دو بچوں کی ماں بن گئی

  


برمنگھم (نیوز ڈیسک) برطانوی لڑکی ہیلی ہینز جب 19 سال کی تھیں تو ڈاکٹروں نے انہیں بتایا کہ وہ جینیاتی طور پر مرد ہیں کیونکہ ان کے جسم میں بیضہ دانی نہیں ہے اور ان کے کروموسرم بھی مردانہ ہیں مگر تقریباً4 سال بعد وہ دو جڑواں بیٹیوں کی ماں بن چکی ہیں۔

ہیلی کہتی ہیں کہ ڈاکٹروں نے ان کے تفصیلی معائنے کے بعد بتایا کہ وہ نہ صرف بیضہ دانی سے محروم ہیں بلکہ فلوپین ٹیوب بھی نہیں رکھتیں اور ان کے جسم میں مردانہ xx کروموسوم پیدا ہو رہے ہیں نا کہ زنانہ XY کروموسوم۔ یہ سن کر انہیں شدید دھچکا لگا کیونکہ ان کا ماں بننے کا خواب چکنا چور ہو گیا تھا۔ انہوں نے ایک مدت اسی دکھ میں گزاری کہ وہ آدھی عورت آدھی مرد ہیں اور کبھی اولاد کی نعمت حاصل نہ کر سکیں گی۔

کیا آپ کو معلوم ہے گوانتا موبے کےعوض امریکہ ہر سال کیوبا کو چیک بھیجتا ہے مگر اسے کیش نہیں کروایا جاتاکیونکہ۔۔۔۔۔

پھر جب وہ 20 سال کی تھیں تو ایک ڈاکٹر نے ان کے ٹیسٹ کئے اور نہایت ننھی بیضہ دانی کا سراغ لگا لیا۔ ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ ہارمون علاج سے بیضہ دانی کا سائز بڑھایا جا سکتا ہے۔ ہیلی نے بتایا گیا علاج بھی جاری رکھا اور اپنے بچپن کے دوست سیم کے ساتھ مل کر حصول اولاد کی کوشش بھی شروع کر دی۔ رائل ڈربی ہسپتال کے ڈاکٹروں کی مدد سے ان کا فرٹیلٹی علاج جاری رہا اور بالآخر انہوں نے ٹیسٹ ٹیوب بے بی کے طریقہ کو استعمال کرتے ہوئے دو صحتمند جڑواں بچیوں کو جنم دے دیا ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ہیلی کے جسم میں بیضہ دانی ابتداءسے ہی موجود تھی مگر نہایت چھوٹی ہونے کی وجہ سے اس کا پہلے پتہ نہ چل سکا تھا اور اسے مرد قرار دے دیا گیا تھا۔ بچیوں کا نام ایوری اور ڈارسی رکھا گیا ہے اور ماں اور بچیاں مکمل صحتمند ہیں۔

مزید : تعلیم و صحت