سول سروس میں اصلاحات:غیر روایتی سوچ کی ضرورت

سول سروس میں اصلاحات:غیر روایتی سوچ کی ضرورت

  

پاکستان سول سروس کو درکار اصلاحات پر بہت کچھ لکھا اور کہا جاچکا ۔ اڑتیس کمیشنز اور کمیٹیوں (جن کی سربراہی زیادہ تر ریٹائرڈ سرکاری افسران کے پاس ہے ) کے قیام سے لے کر سروس کے کئی ایک ناموں کی تبدیلی تک اٹھائے گئے بے شمار اقدامات بامقصد اصلاحات لانے میں ناکام رہے ہیں، تاہم ریٹائر ہونے والوں سے لے کر نوجوان افسران تک، سب اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اس سروس میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔ ضروری ہے کہ اصلاحات کے عمل کاسرکاری افسران کی جامد دنیا سے باہر نکل کا جائزہ لیا جائے ۔ اس عمل میں سول سروس کے حتمی صارفین، جو شہری ہیں، کی خواہش کو بھی مدِ نظر رکھا جائے ، کیونکہ عام شہریوں کے لئے سول سروس کی فعالیت ہی اس کامیابی یااس کے برعکس کا تعین کرتی ہے۔ برطانوی راج کے دور میں ’’فولادی ڈھانچہ‘‘ کہلانے والی ’’امپیریل سول سروس‘‘(آئی سی ایس)کو دوسو سال پہلے ، نوآبادیاتی دور میں برِ صغیر کے تین سوملین عوام پر راج کرنے کے لئے تشکیل دیا گیا تھا۔ ایک ہزار برطانوی افسران کی موجودگی رکھنے والی ناقابلِ یقین حد تک مضبوط اور منظم سروس نے برطانوی راج کو کم و بیش ایک صدی تک وسیع وعریض انڈیا پر کامیابی سے حکومت کرنے کے قابل بنا دیا۔ چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ انگریزوں کے چلے جانے کے ستر سال بعد بھی یہ سروس حیران کن حد تک اپنی اصلی حالت میں اپنا وجود برقرار رکھنے میں کامیاب ہے۔ اس میں حیرت کی بات نہیں کہ انڈیا کی آزادی کے بعد، 1947 ء میں برطانیہ واپس لوٹنے والے آئی سی ایس افسران کو یہ کہہ کر جبری طور پر ریٹائر کردیا گیا کہ وہ برطانوی روایات کے مطابق عوام کی خدمت کرنے کی مطلوبہ تربیت نہیں رکھتے۔۔۔ (حوالہ : برٹش انڈیا آف ریکارڈ)

آئی سی ایس کے اس نظام نے قانون کے نفاذ کی طاقت اور ’’وفاداری‘‘ پر ملنے والے انعام کے ذریعے برطانوی راج کو مقامی آباد ی پر تسلط قائم کرنے کے قابل بنا دیا۔ دراصل مقامی آبادی کو سروسز کی فراہمی اس نظام کا اصل مقصد کبھی نہ تھا۔ سروس کو انڈینز کے لئے قابلِ قبول بنانے کے لئے برطانیہ نے مقامی افسران کو بھرتی کرنا اور تربیت دینا شروع کردیا۔ یہ افسران دیکھنے میں مقامی آبادی جیسے تھے، انہی کی زبان بولتے تھے، لیکن ان کی سوچ کا سرچشمہ برطانوی فکرکی سرزمین سے ہی پھوٹتا تھا ۔ برِ صغیر میں معیاری تعلیمی اداروں کی قلت کو دیکھتے ہوئے سروس نے ایسا امتحانی نظام وضع کیا جو امیدواروں کے علم، ذہنی استعداد اور شخصیت کی جانچ کرتا۔ کامیاب امیدواروں کو ’’جنرل ‘‘ مینجمنٹ کی مہارت سکھانے کے لئے سخت ٹریننگ کے مراحل سے گزارا جاتا، یہاں تک کہ یہ مشق اُنہیں ذہنی طور پر ’’انا پرست اشرافیہ ‘‘ بنادیتی۔۔۔ (گھڑ سواری اور پولو کھیلنا اسی کلاس کا اظہار تھا)۔۔۔ اس نظام کی پیداوار افسران کا ایسا طبقہ تھا(اور ہے) جس کے ذہن میں نوآبادیاتی نظام کے پرانے دور کا فخر جاگزیں ہے کہ وہ ہر میدان میں ذہنی طور پر برتر ہیں۔ اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کہ ہم ایسے افسران کو دیکھتے ہیں جو طویل عرصے تک ایک شعبے کی سربراہی کررہے ہوتے ہیں، لیکن پھر اُنہیں کسی اور ڈپارٹمنٹ کا انچارج بنادیا جاتا ہے جس کے لئے بالکل مختلف مہارت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ہمارے سامنے ایسی بہت سی مثالیں آتی ہیں کہ ایک میڈیکل ڈاکٹر ایک تعلیمی ادارہ، ایک انجینئر ہیلتھ ڈپارٹمنٹ اور ایک انگریزی ادب میں ماسٹر ڈگری رکھنے والا انفراسٹرکچر ڈپارٹمنٹ چلا رہا ہے۔ یہ پالیسی ہمارے سرکاری افسران کو ’’ہرفن مولا‘‘ تصور کرتی ہے ، حالانکہ وہ کسی بھی فن کے ماہر نہیں ہوتے۔یہی وجہ ہے کہ جب بھی اُنہیں اپنے ادارے کے لئے حقیقی ماہرین کی ضرورت ہو تو پھر وہ بھاری مشاہرے پر مقامی یا غیر ملکی کنسلٹنٹ افراد کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔

نوآبادیاتی دور کی وراثت ، سول سروس آف پاکستان خود کو ایک جدید سروس، جس کا مقصد شہریوں کو سروسز کی فراہمی ہو، کی صورت میں ڈھالنے میں ناکام رہی۔ آج سول سروس کی کارگزاری شہریوں کو سروسز کی فراہمی کی بجائے افسران اور ان کے ماسٹرز( چاہے ان کاتعلق سیاست دانوں سے ہو یا فوجی حکمرانوں سے) کی منشا کے گرد گھومتی ہے۔ سرکاری افسران کو ایک ایسی دنیا میں داخل کردیا جاتا ہے جو اُنہیں ، اُن کی سیٹ کے مطابق، مختلف درجے کے اختیارات تو دیتی ہے ، لیکن اُن کی بنیادی ضروریات پوری نہیں کرتی۔۔۔(جیسا کہ اُن کے خاندانوں کی معیاری کفالت کے لئے معقول تنخواہ)۔۔۔ اس کی وجہ سے سرکاری افسران کو اپنے ماسٹرز کی خوشنودی کی حاجت رہتی ہے تاکہ وہ پُرکشش مقامات پر تقرری کے ثمرات سے مستفید ہوں۔ اکثر اوقات ایک عہدے سے وابستہ اختیارات سرکاری افسران کے مالی فوائد اور سہولتوں کا سامان کردیتے ہیں،جنہیں عرفِ عام میں بدعنوانی قرار دیا جاتا ہے۔ یہ کلچر افسران کو ترغیب دیتا ہے کہ وہ بہتر مالی مفاد کو یقینی بنانے والے پُر کشش عہدوں پر ٹرانسفر کی کوشش کرتے رہیں، چنانچہ اُن کی خدمات اپنے ماسٹرز کی خوشنودی حاصل کرنے تک محدود ہوجاتی ہے، اور وہ اُن کے احکامات کی تعمیل کرتے ہیں۔۔۔(چاہے یہ احکامات سروس کے حتمی صارفین، شہریوں،کے مفاد سے ٹکراتے ہوں)۔۔۔ اسی سے متعلق ایک اور الجھن کا تعلق ترقی (پرموشن) سے ہے ۔ چونکہ ترقی کا انحصار ’’پرفارمنس اویلیو ایشن رپورٹس‘‘ (پی ای آر) پر ہوتا ہے، جن پر سپروائزنگ سرکاری افسران کے دستخط ہوتے ہیں، چنانچہ ترقی کے طالب اپنے سینئر ز کو خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تاوقتیکہ اُن کے ہاتھ کوئی شارٹ کٹ لگ جائے اور بگ باس کے منظورِ نظر ہوجائیں۔۔۔(ایسی صورت میں اُنہیں پی ای آر کے معیار سے بالا ہی بالا ترقی کی سیڑھی مل جاتی ہے )۔۔۔آخرمیں، جب اس نظام کی نگرانی ہی اسی نظام سے گزر کر آنے والے سینئر افسران نے کرنی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس میں کوئی احتساب نہیں ہوگا ،لہٰذا کارکردگی دکھانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ مندرجہ بالا وجوہ اس امرکی متقاضی ہیں کہ سول سروس کے ڈھانچے کو ’’مناسبت‘‘ اور ’’مہارت‘‘ کے جدید اصولوں کی بنیاد پر استوار کیا جائے ۔ آج کی سپیشلائزیشن کی دنیا میں عمومی صلاحیت رکھنے ، یا ہرفن مولا ہونے کی کوئی گنجائش نہیں۔ جدید ممالک نے اپنی سول سروس کو ٹیکنالوجی کے تیز تر ارتقا کے متوازی خطوط میں ترقی دی ہے تاکہ عوام کی ضروریات کوپورا کیا جاسکے ۔ بھاری بھرکم افسر شاہی اور لاحاصل دفتری کارروائی کی بجائے ان ممالک نے ’’مناسبت ‘‘ کو یقینی بنانے کے لئے ’’ڈپارٹمنٹل بیوروکریسی‘‘ کو متعارف کرایا ہے۔

یہ حکومتیں کسی ملازمت کا اشہار دیتی ہیں جس میں کام کی نوعیت اور درکار مہارت کا ذکر ہوتا ہے۔ (بالکل جس طرح نجی ادارے کام کرتے ہیں)۔۔۔ اہل امیدوار آن لائن درخواست کے مندرجات پُر کرتے ہیں، جبکہ کمپیوٹر پروگرام درخواستوں کا جائزہ لیتے ہوئے فیصلہ کرنے ، یا محکمہ جاتی امتحان لینے کے لئے امیدواروں کو شارٹ لسٹ کرتا ہے۔ اس حقیقت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کہ آج کے پاکستان میں ایک سو اسّی کے قریب یونیورسٹیاں ہیں،جہاں سے فنونِ لطیفہ سے لے کر ایئروناٹیکل انجینئرنگ اور دھات سازی تک ،بے شمار مضامین میں سالانہ 150,000 طلبہ نکلتے ہیں، تو آج ہمیں دوسوسال پرانی روایت کو بنیاد بنا کر امیدواروں کاعلم ، معلومات ،ذہنی استعداد اور شخصیت کا جائزہ لینے کے لئے مقابلے کے امتحان کی ضرورت نہیں۔ حکومتوں کو ڈویژنوں/محکموں کی تعداد کو معقول حد تک کم کرنا چاہیے۔۔۔ (مثالی تعداد بیس ، جبکہ موجودہ تعداد چالیس ہے )۔۔۔ ہر ڈویژن یا محکمہ ملازمت کی ضرورت، اہلیت اور قابلیت کی تشہیر کرتے ہوئے امیدواروں سے درخواستیں طلب کرے، جنہیں کمپیوٹر پروگرام کے طے شدہ پراسیس کے ذریعے منتخب کیا جائے یا محکمہ جاتی امتحان لیا جائے۔ موجودہ وفاقی پبلک سروس کمیشن کو مختلف ماہرین،جو ہر محکمے کی نمائندگی کرتے ہوں، ریٹائرڈ سرکاری اور فوجی افسران اور اہم کاروباری افراد کوشامل کرکے تقویت دی جاسکتی ہے۔ ہر محکمے کی نمائندگی ایف پی سی ایس ذیلی کمیٹی کرسکتی ہے جس میں متعلقہ محکموں کے ماہرین بھی شامل ہوں۔ یہ نیا تجویز کردہ نظام باصلاحیت امیدواروں کو سامنے لاتے ہوئے موجودہ خامیوں پر قابو پانے میں مدد دے گا اور صرف مطلوبہ اہلیت اور مہارت کے حامل امیدوار(کیونکہ کمپیوٹر پروگرام کے ذریعے صرف وہی افراد درخواست دینے کے اہل ہوں گے جو مطلوبہ اہلیت رکھتے ہوں گے)۔۔۔ درخواست دینے کے اہل ہوں گے ۔ ایک محکمے سے دوسرے محکمے میں تبادلے یا تقرری نہیں کی جاسکے گی۔۔۔(چنانچہ سرکاری افسران کو اپنے کام پر توجہ دینا ہوگی۔ وہ بہتر تقرریوں یا تبادلوں کے چکرمیں نہیں پڑیں گے)۔۔۔ اس طرح وہ اپنے عہدے کے بل بوتے پر مالی فوائد حاصل نہیں کرسکیں گے ۔ بطور ایک قوم ہمیں احساس کرنا ہوگا کہ ہم تنہائی میں، عالمی برادری سے کٹ کر، نہیں جی سکتے ، چنانچہ ضروری ہے کہ ہم خود کو دنیا کے کامیاب ماڈل کے مطابق ڈھالیں۔ کسی بھی مہذب ملک کی حکومتیں عوام کی خدمت۔۔۔ (نہ کہ عوام پر راج)۔۔۔ کرنے کے لئے ہوتی ہیں۔ہمیں دقیانوسی روش سے ہٹ کر تخلیقی طرزِ فکر کی ضرورت ہے۔ ہمیں مزید وقت ضائع کرنے کی بجائے اپنے گورننس سسٹم کو عوام کے ساتھ مربوط کرنا ہوگا۔ اس کی فعالیت کا معیار عوام کو سروسز کی فراہمی ہو۔ صرف اسی صورت میں ہم اپنی مایوسی کا شکار قوم کو قومی تعمیر و ترقی کے دھارے میں لاسکتے ہیں۔۔۔(صاحبِ مضمون فیلوچارٹرڈ اکاؤنٹنٹ، انگلینڈ، اور ’’پاکستان فریڈم موومنٹ‘‘ کے چیئرمین ہیں)

مزید :

کالم -