فکشن میں مذہب کی آمیزش

فکشن میں مذہب کی آمیزش
 فکشن میں مذہب کی آمیزش

  

برصغیر کا اْردو ادب بہت گھمبیر اور ستم رسیدہ ہے۔ تقریباً ہر بڑے لکھاری نے انگریزی ادب کی مبادیات نقل کرکے اْردو فکشن لکھتے وقت مذہبی تڑکہ لگایا تبلیغ اور ناول نگاری میں جوہری فرق ہے آپ دعوتِ دین کے لئے الگ سے موضوعات منتخب کر سکتے ہیں، مگر یہ ضروری نہیں کہ آپ افسانہ اور ناول میں تبلیغ شروع کر دیں، وہ جو کل ہمارے جید لکھاری کرتے چلے آ رہے تھے۔ بالکل وہی آج بھی ہو رہا ہے مذہب ایک مقدس روحانی تجربہ ہے اسے کسی بھی صورت کمرشلائز کرکے فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ ہمارے اْردو ادب میں دل سوز اضافہ وہ چند قدیم ناول اور موجودہ اَن گنت ناول ہیں، جن کی بنیاد مذہبی عقائد کو کمرشلائز کرکے رکھی گئی ہے۔ خدا اور انسان کا انفرادی معاملہ اس قدر لچر نوعیت کا نہیں ہوتا کہ اْْسے سرِ عام رسوا کیا جائے مذہب کی عظمت اور اہمیت لابدی ہے، مگر ایک افسانہ نگار اور ناول لکھنے والے کا اس قسم کے انتہائی حساس اور انفرادی معاملات سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہوتا مجھے آج کے نوجوان لکھاریوں کے ناول پڑھ کر شدید دکھ ہوتا ہے کہ یہ لوگ کس دیدہ دلیری سے رگوں میں خون کی سرگرداں عقائد کو فکشن میں لپیٹ کمرشلائز کرکے بیچ رہے ہیں۔ عقیدت کاروباری نوعیت کی چیز نہیں ہوتی کہ اسے بیچ کر معاشی مسائل حل کئے جائیں۔ میں اکثر اپنے ذہین طلبہ سے عرض کرتا رہتا ہوں کہ اگر کمانا ہو تو پوری ایمانداری کے ساتھ محنت کرو زندگی، جس قدر بھی مشکل کیوں نہ ہو انسان کو کوئی نہ کوئی کام ایسا ضرور مل جاتا ہے، جسے کرکے وہ کامیابی حاصل کر لیتا ہے۔ ہر نظریہ اور عمل کا ایک مخصوص مقام ہوتا ہے جب آپ کسی نظریہ یا عمل کو اْْس کے اپنے مقام سے گرا دیتے ہیں تو اس کا وقوع باطل ہو جاتا ہے۔ ماضی میں بھی ہمارے بڑے بڑے نامور لکھاریوں نے عقائد کو خوب فروخت کیا بڑا نام کمایا بڑا پیسہ کمایا، مگر ایسی شہرت اور دھن کس کام کی جو کسی نظریہ یا عمل کا استحصال کرکے کمائی جائے۔ فکشن کا سادہ مطلب ہے کہ وہ چیز یا کام جو مسلمہ حقائق پر مبنی نہ ہو ادب میں افسانے کی یہی تعریف کی جاتی ہے مثال کے طور پر جل پری اور کوہ قاف وغیرہ جیسے استعارات جن کا کوئی فطری وجود نہیں افسانہ اور ناول کی بنیاد ٹھہرتے ہیں، جبکہ یہی فکشن کی حدود بھی ہیں۔ اب اگر اس سے تجاوز کیا جائے گا تو وہ فکشن کے زمرے میں ہرگز شمار نہیں ہو گا۔ ہر چیز اپنے ایک خاص دائرے میں تیر رہی ہے چنانچہ ادب کی ہر صنف اپنا ایک مخصوص دائرہ رکھتی ہے ہم شعر اْْسے کہتے ہیں جس میں وزن اور تخیل کی پابندی کی گئی ہو محض تخیل ہے تو وہ نثر میں شمار ہو گا ناول میں کردار نگاری ایک بنیادی حیثیت رکھتی ہے، اسی طرح فکشن میں فینٹسی، ادب کی ہر صنف کی اپنی ایک حد ہے، جس کی اطاعت کی جائے تو وہ صنف زندہ رہتی ہے اب غزل میں آپ تخیل بیان کریں یا واقعہ، مگر وزن، قوافی اور ردائف کی تابعداری ضروری ہے نہیں تو وہ سرے سے غزل شمار ہی نہیں ہو گی۔ لکھنے میں تو کوئی پابندی نہیں آپ کچھ بھی لکھیں، مگر آپ جب اپنی تحریر کو کسی مخصوص ادبی صنف کے ساتھ جوڑ کر پیش کریں تو عین لازمی ہے کہ آپ اْْس ادبی صنف کے ہر ہر اصول کی اطاعت کر چکے ہوں نہیں تو جاننے والے اْسے پڑھے بغیر ردی کی ٹوکری میں ڈال دیں گے ہمارے ہاں لوگوں کا چونکہ عوامی سطح پر ادب سے اس قدر مضبوط تعلق تو نہیں رہا، مگر پھر بھی جاننے والے ہر کہیں موجود ہوتے ہیں معیار پر سمجھوتہ کرکے لکھنے والے بہت جلد کافور بھی ہو جاتے ہیں ۔

ادب بنیادی طور پر بے ضرر اور انتہائی ذمہ دارانہ شعبہ ہے قلم کو آپ فساد اور دل آزاری کے لئے بھی استعمال کر سکتے ہیں، جبکہ یہ محبت و شعور کے لئے بھی استعمال ہو سکتا ہے اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اپنے قلم کا رخ کس طرف موڑتے ہیں ایک کہنہ مشق اور راست باز ناول نگار سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ اپنی تحریر کے ذریعے لوگوں کے جذبات سے کھیل کر اپنے مقاصد میں کامیاب ہو جائے۔ بالفرض اگر وہ ایسا کر بھی لے تو حقائق تک رسائی کے حامل اْس کی تحریر میں چھپی آلائش کو عیاں کر ہی لیتے ہیں افسانہ لکھیں ناول لکھیں یا پھر غزل پس ہر صنف کے بنیادی اصول آپ کو ازبر بھی ہونے چاہئیں اور ان کی اطاعت کا احساس بھی ہونا چاہئے ایریتھیمیٹک کے اصول آپ ناول میں نہیں اپنا سکتے اس طرح ایک خالص مذہبی تحریر میں آپ گل و بلبل کے قصے نہیں چھیڑ سکتے فکشن میں آپ حساس فقہی مسائل نہیں بیان کر سکتے یہ وہ چند ایک بنیادی ذمہ داریاں ہیں، جن کی تکمیل ہر لکھاری پر واجب ہے نہیں تو پھر فکشن، مذہب، نفسیات، تاریخ اور فلسفہ سب کچھ گڈ مڈ ہو جائے گا اور پڑھنے والے کو تحریر میں کنفیوژن کے سوا کچھ نہیں ملے گا اگر آپ لکھاری ہیں اور چاہتے ہیں کہ اپنی تحاریر سے لوگوں کو مذہب کی طرف راغب کریں تو یہ ایک بہت عظیم ذمہ داری ہے۔ اس کے لئے آپ افسانہ یا ناول کی اصناف منتخب نہ کریں سادہ اور دوٹوک مذہبی مضمون باندھ لیں، تاکہ سمجھنے والا بغیر کسی ابہام اور گھمن پھیری کے آپ کے پیغام تک پہنچ جائے کیونکہ اصول یہی کہتا ہے، جبکہ اس طرح ادب کی کسی بھی صنف کا استحصال بھی ممکن نہیں ہو پائے گا اور لکھنے والے کا واضح سٹینڈ بھی پڑھنے والے کو نظر آ جائے گا کہ میرا مخاطب کس مقام پر کھڑا ہے اور مجھ سے کونسی طلب کی جستجو لئے ہوئے ہے یہ ہیں لکھنے کے چند آداب و رموز، یہاں پر مجھے جون ایلیا کا ایک انتہائی خوبصورت جملہ یاد آ رہا ہے ایک مقام پر آپ نے فرمایا تھا کہ بہت سے لوگ جنہیں پڑھنا چاہئے، وہ لکھ رہے ہیں ۔

مزید : کالم