پاکستان کا قرضہ: ریکارڈ کی درستگی کے لئے عرض ہے (دوسری اور آخری قسط)

پاکستان کا قرضہ: ریکارڈ کی درستگی کے لئے عرض ہے (دوسری اور آخری قسط)
پاکستان کا قرضہ: ریکارڈ کی درستگی کے لئے عرض ہے (دوسری اور آخری قسط)

  

ان بھاری ادائیگیوں کے باوجود ملک کے فارن کرنسی ذخائر 23ارب ڈالر سے زائد ہیں۔ان میں سے 18.1ارب اسٹیٹ بنک کے پاس ہیں جو کہ پانچ ماہ سے زیادہ کی درآمدات کے لئے کافی ہیں۔ اس کے مقابلے میں جون 2013ء میں تقریباً ایک ماہ کی درآمدات کے لئے 4ارب ڈالر کے ذخائر موجود تھے۔ اس وقت کچھ مبصرین اسی وجہ سے یہ پیش گوئی کر رہے تھے کہ پاکستان کے بیرونی وسائل غیرملکی قرضے کی ادائیگیوں کے لئے ناکافی ہیں اور اس لئے ملک جون 2014ء میں ڈیفالٹ کر جائے گا۔ذخائر کی اہمیت اجاگر کرنے کے لئے آخر میں مَیں ایک سادہ صورت حال آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔فرض کیجئے اگر ملک کے پاس فارن کرنسی کے تسلی بخش ذخائر نہ ہوں تو لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ ملک کے بین الاقوامی رسک پروفائل۔۔۔ Risk Profile ۔۔۔کو شدید دھچکا پہنچے گا۔ تمام بین الاقوامی ترقیاتی ادارے ادائیگیوں کے توازن کے لئے دی جانے والی امداد بند کر دیں گے اور کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیاں صفر یا انتہائی کم استطاعت کی بنا پر ہماری ریٹنگ کئی درجے نیچے کر دیں گی اور درآمد کنندگان کو غیر ملکی بنکوں سے ہوشربا نرخوں پر اپنے لیٹر آف کریڈٹ (Letter of Credit: L/C)کنفرم (Confirm)کروانے پڑیں گے۔ قصہ کوتاہ ملک کوہائی رسک (High Risk) اور منفی آؤٹ لک (Negative Outlook)قرار دیا جا سکتا ہے جیسا کہ جون 2013 ء میں تھا۔ یہ سادہ سی مثال یہ واضح کرنے کے لئے کافی ہونی چاہئے کہ مستحکم معیشت کے لئے فارن کرنسی ذخائر بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر فارن کرنسی ذخائر بڑھ رہے ہوں اورملک کی خالص بیرونی قرضداری بھی کم ہو رہی ہو تو یہ دہرا فائدہ ہے، جیسا کہ پچھلے تین سال میں پاکستان کے معاملے میں دیکھا جا سکتا ہے۔

مختلف خبروں کے برعکس سستی ڈویلپمنٹ فنڈنگ میں اضافہ:گزشتہ تین سالوں میں بہت سے نکتہ چین تجزیہ کار بیرونی قرض میں اضافے کی بنیادی وجہ IMFکا اور تجارتی بنیادوں پر لیا جانے والا قرضہ قرار دیتے رہے ہیں جو درست بات نہیں ہے۔ بیرونی قرضوں میں سب سے زیادہ حجم کثیر جہتی قرضہ جات(multilateral debt) کا ہے جو کہ جون 2016ء کے اختتام تک 26.4ارب ڈالر ہیں اور پیرس کلب قرض جو کہ 12.7ارب ڈالر ہیں جو مجموعی طور پر بیرونی قرض کا 68فیصد ہیں،جبکہ سب سے زیادہ خبروں کا حصہ بننے والے IMFکے قرضہ جات اور یورو بانڈ (Euro Bond) اور SUKUKکی مقدار بالترتیب صرف 6ارب ڈالر اور 4.6ارب ڈالر ہیں جو کہ کل بیرونی قرض کا 18فیصد ہیں۔بقیہ 8ارب ڈالر باہمی اور تجارتی قرضہ جات ہیں۔اس امر کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے کہ ان قرضہ جات کا ایک بڑا حصہ پرویز مشرف کے تاریک دور میں جاری کئے گئے 500ملین ڈالر کے یورو بانڈ اور گزشتہ حکومتوں کے IMFسے حاصل کئے گئے قرضہ جات کی ادائیگیوں کی مد میں استعمال ہوا۔کثیر الجہتی قرضہ جات میں عالمی بینک (World Bank) اور ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) سے حاصل کردہ رقوم کا ایک بڑا حصہ شامل ہے۔یہاں اس امر کی یاد دہانی بہت اہم ہے کہ ان بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے ملک کی غیر متوازن اقتصادی صورت حال،High Risk Factorاور زرمبادلہ کے انتہائی قلیل ذخائر کے پیشِ نظر پاکستان سے سال 2013ء کے شروع میں عملی طور پر لین دین ختم کر دیا تھا، لیکن ملکی معاشی صورت حال میں موجودہ حکومت کی بنیادی اصلاحات کی وجہ سے آنے والی بہتری کے باعث گزشتہ تین سالوں سے یہ تعلقات پھر سے بحال ہو چکے ہیں۔ ان شراکت داریوں کا بنیادی مقصد پاکستانی معیشت کو درپیش رکاوٹوں کو ختم کرنے کے علاوہ ملک میں توانائی، محصولات، کاروباری آسانی،تجارتی سہولت کاری اور تعلیم کے شعبہ جات میں مدد فراہم کرنا اور چھوٹے اور درمیانے درجہ کے کاروباروں کو فروغ دینا شامل ہے۔ یہ قرضہ جاتی پروگرام کارکردگی اور پیداوار میں اضافے کے ذریعے پاکستان کی ممکنہ اہلیت میں اضافے کا سبب ہو گا، لہٰذا یہ پروگرام قرضہ جات کی واپسی کی ملکی صلاحیت میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ یہاں یہ بتانا بھی اہم ہے کہ یہ قرضہ جات رعائتی اور طویل المدتی ہیں اور ملک کے ادائیگیوں کے بوجھ میں زیادہ اضافے کا باعث نہیں بنیں گے۔یہ رعائتی بیرونی قرضہ جات نسبتاً مہنگے اندرونی قرضوں کی ادائیگیوں میں استعمال ہوئے ہیں۔ آنے والی ادائیگیاں ہماری استطاعت کے مطابق ہیں: 2021ئتک ہماری بیرونی قرضوں کی ادائیگیاں اوسطاً 5ارب ڈالر سالانہ سے زیادہ نہیں ہیں۔ملک کی گزشتہ روایت کے پیشِ نظر ادائیگیوں کی یہ مقدار پریشان کن نہیں ہونی چاہیے۔ مالی سال 2013ء اور2014ء میں پاکستان نے بڑی کامیابی سے 6ارب ڈالر سالانہ سے زیادہ کی ادائیگیاں ایسی صورت حال میں کیں، جب زرمبادلہ کے ذخائر بھی بہت کم تھے۔جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہوا ہے کہ اتنی بڑی ادائیگیاں پچھلی حکومتوں کے لئے گئے قرضہ جات کی مد میں کی گئیں۔اس وقت ملکی زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 23 ارب ڈالر ہیں جو کہ تاریخی اعتبار سے بلند ترین سطح پر ہیں اور اسی لئے طے شدہ ادائیگیاں قابل انتظام ہیں۔ اس سے قبل ذخائر کی بلند ترین سطح -18.2ارب ڈالر جولائی 2011ء میں تھی۔جس میں IMFکی سٹینڈ بائی سہولت (Standby Facility) کے تحت حاصل ہونے والے -7.5ارب ڈالر بھی شامل تھے۔

کچھ Sustainabilityکے بارے میں:قرضوں کی Sustainability کے حوالے سے وزارتِ خزانہ میں Debt Management Office ہے جو کہ Liquidity اور Solvency کے معیاری اعداد و شمار کی روشنی میں بیرونی قرضوں پر نظر رکھتا ہے۔ مَیں نے پہلے ہی مارچ 2016ء کے آرٹیکل میں کچھ اشارئیے پیش کئے ہیں،تاہم کچھ دیگر اعداد و شمار کا تذکرہ بھی ضروری ہے۔Liquidityکے حوالے سے جس شرح کو دیکھنا سب سے ضروری ہے، وہ ایک سال میں واجب الادا قرض اور ہمارے فارن کرنسی ذخائر کی شرح ہے۔ اس شرح میں نمایاں بہتری آئی ہے جو جون 2013ء کے 69فیصد سے کم ہو کر جون 2016ء کے اختتام تک صرف 32فیصد رہ گئی ہے۔اس میں مزید اہمیت کی حامل بات یہ ہے کہ ایک سال کے دوران واجب الادا ہونے والے قرضوں اور اسٹیٹ بینک کے خالص بین الاقوامی ذخائر(Net International Reserves) میں قابلِ ذکر بہتری آئی ہے، کیونکہ اب یہ تناسب مثبت 77فیصد ہے، جبکہ جون 2013ء میں جب ہم نے حکومت سنبھالی تو یہ تناسب منفی (Negative) میں تھا۔ اس بات کو بھی مدِنظر رکھنا چاہیے کہ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے جسے بلند شرح نمو کے حصول کے لئے اپنی استعداداور روزگار کے مواقع میں اضافہ ، فی کس آمدنی میں بہتری،غربت میں کمی اور مسابقت میں بہتری لانے کی ضرورت ہے نتیجتاً بجٹ خسارہ ایک ضرورت بن جاتا ہے۔ایک دوسرا حل ترقیاتی اخراجات میں کمی سے نموکا گلا گھونٹنا ہے جس سے اقتصادی و معاشرتی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ہر سال فنانس بل کے ذریعے یہ مالی خسارہ پہلے ہی پارلیمنٹ سے منظور کیا جاتاہے، تاہم یہ بات بھی یاد رہے کہ یہ خسارے والا بجٹ خود بہ خود سرکاری قرض میں اضافے کا سبب بنتا ہے،اسی لئے سرکاری قرضے کی قطعی مقدار میں تب تک کمی ممکن نہیں، جب تک پاکستان ایک بجٹ خسارے والا ملک رہے گا۔ قومی قرضے میں گذشتہ تین سال کے دوران 4,342ارب کا خالص (Net) اضافہ ہوا جو بنیادی طور پرپارلیمنٹ سے منظور شدہ مالی خسارے والے بجٹ کا لازمی نتیجہ ہے۔ یہ خسارہ جون 2016ء کے اختتام تک تین سالوں میں 4195ارب روپے رہا ہے۔ بقایا خسارہ دیگر غیر بجٹ خساروں کی وجہ سے ہے جیسا کہ Net Exchange Losses جو کہ کرنسی کے اندرونی و بیرونی اتار چڑھاؤ کی وجہ سے پیش آ تے ہیں۔

ضرور پڑھیں: اسد عمر کی چھٹی

تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو 30جون 2008ء کو پاکستان کا کل (Gross) سرکاری قرضہ 6,126 ارب روپے تھا، جبکہ خالص (Net) سرکاری قرضہ 5,650 ارب روپے تھا، جس میں 2,798 ارب کا خالص (Net)مقامی اور 2,852 ارب روپے کا بیرونی قرضہ شامل تھا۔مالی سال 2012-13ء کے اختتام تک کل (Gross) سرکاری قرضہ 14,318 ارب تک پہنچ چکا تھا، جبکہ خالص(Net) سرکاری قرضہ 13,483 ارب روپے تھا۔ اس طرح گزشتہ حکومت نے اپنے پانچ سالہ دور (2008-13ء) میں 19فیصد سالانہ کی شرح سے 7,833ارب روپے کاخالص(Net)قرضہ حاصل کیا۔ موجودہ حکومت نے2013ء میں اپنا پہلامالی سال 14,318ارب روپے کے کل(Gross)ملکی قرضے اور 13,483ارب روپے کے خالص (Net) ملکی قرضے سے شروع کیاجس میں48.1ارب ڈالر (4,797ارب روپے) کا بیرونی اور 8,686ارب روپے کا خالص(Net) مقامی قرضہ شامل تھا۔ جولائی 2013ء سے جون 2016ء کے درمیان کل (Gross) ملکی قرضہ19,678ارب جبکہ خالص (Net) ملکی قرضہ 17,825ارب روپے تک پہنچ گیا، جس میں سے 57.7ارب ڈالر (6,051ارب روپے) بیرونی قرضہ جبکہ 11,774ارب روپے خالص (Net) مقامی قرضہ ہے۔اس طرح سرکاری قرضے میں 4,342ارب روپے کا خالص (Net) اضافہ ہوا ہے جس میں 9.6 ارب ڈالر کا بیرونی قرضہ شامل ہے۔ اس طرح موجودہ حکومت کے پہلے تین سالوں میں خالص قومی قرضے میں سابقہ حکومت کے 19.0فیصد کے مقابلے میں 9.75فیصد سالانہ اضافہ ہوا ہے ۔جون 2008میں خالص(Net) قرضے اور مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا تناسب 53.1فیصد تھاجو جون 2013ء میں ہمارے حکومت سنبھالنے کے وقت بڑھتا ہوا 60.2 فیصد تک پہنچ گیا تھا۔ جولائی 2013ء سے جون2016ء کے درمیان خالص (Net) قرضے اور مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا تناسب 60.2فیصد پر برقرار رکھا گیا ہے، یعنی اس میں مزید ابتری نہیں آئی، جس سے پتہ چلتا ہے کہ ہماری debt sustainability بہتر ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ اس مضمون میں خالص (Net)قرضے کے اعدادوشمار بہترین عالمی طریق کاراور عالمی مالیاتی ادارے (IMF)اور متعدد ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں استعمال ہونے والے طریقے کے مطابق ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ 2013ء کے عام انتخابات کے وقت پاکستان کی معیشت کو استحکام کی اشد ضرورت تھی، لہٰذا موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی معیشت کو مستحکم کرنے کی غرض سے کئی عملی اقدامات اور بنیادی اصلاحات کیں۔ان اقدامات میں ٹیکس بیس کی بڑھوتری، غیر ضروری سبسڈیز میں کمی،زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ Public Sector Enterprises کی ساخت نو اور مالی خسارے میں کمی شامل ہے۔مالی خسارے(Budget Deficit) کو جون 2016ء تک تین سالوں میں 8.2 فیصد سے کم کر کے 4.6فیصد تک محدود کرنے کے باوجود موجودہ حکومت نے وفاقی ترقیاتی اخراجات (Development Expenditure) کو مالی سال 2013ء کے 348ارب روپے کے مقابلے میں مالی سال 2017ء کے لئے 800 ارب روپے تک بڑھایا ہے، تاکہ GDPکو مزید بڑھایا جا سکے جو کہ مالی سال 2016ء میں 8سال کی بلند ترین سطح 4.7فیصد پر رہی۔ اسی طرح غریب ترین لوگوں کو دی جانے والی مالی امداد میں تین سالوں میں مالی سال 2013ء کے 40ارب روپے کے مقابلے میں جون2016ء کے آخر تک 115ارب روپے تک اضافہ کر دیا گیا۔جب پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 2013ء میں اقتدار سنبھالا تو اوسط افراط زرDouble Digit میں تھی، جسے مالی سال 2016ء تک 3فیصد سے بھی کم کردیا گیا ہے جو کہ گزشتہ کئی دہائیوں کی کم ترین سطح ہے۔آمدنی کے حوالے سے دیکھا جائے تو گزشتہ 3سالوں میں ٹیکس محصولات میں سالانہ 20فیصد کی اوسط سے 60فیصد اضافہ ہوا ہے جو مالی سال 2013ء کے 1946ارب سے بڑھ کر مالی سال 2016ء میں 3112ارب روپے ہوا ہے جو کہ مالی سال 2013ء کے 3.38فیصد سالانہ سے6 گنا زیادہ ہے۔عالمی اداروں نے بھی پاکستان کی اقتصادی کارکردگی میں بہتری آنے کا اعتراف کیا ہے۔ حال ہی میں سٹینڈرڈ اینڈ پورز(Standard & Poor's) نے پاکستان کی طویل مدتی کریڈٹ ریٹنگ منفی Bسے بڑھا کر Bکردی ہے اور آئندہ کی صورت حال کو مستحکم قرار دیا ہے، جس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ ملکی معاشی منظرنامہ بہتر ہوا ہے اور بیرونی کھاتوں میں بہتری آئی ہے۔عالمی مالیاتی ادارے (IMF)نے مالی سال 2017ء کے لئے پاکستان کی مجموعی معاشی کارکردگی (GDP) کا تخمینہ بہتر کرتے ہوئے 4.7فیصد سے بڑھا کر 5فیصد کر دیا ہے، جبکہ ایشیائی ترقیاتی ادارے نے 2017ء کے لئے پاکستان کی GDP،5.2 فیصدسے بڑھنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔عالمی بینک کے مطابق ترقی کی شرح 2017ء میں 5.2اور 2018ء میں 5.5فیصد رہنے کا امکان ہے ۔ علاوہ ازیں ہارورڈ یونیورسٹی کے مطابق 2024ء تک پاکستان کی GDPمیں 5.07 فیصد سالانہ اضافہ ہو گا۔ہمارا ہدف یہ ہے کہ مالی سال 2017-18ء تک اقتصادی ترقی کی رفتار کو 6سے 7فیصد تک بڑھایا جائے۔

ذرائع ابلاغ کا ایک حصہ بار بار یہ معاملہ اٹھاتا ہے کہ حکومت مہنگے نرخوں پر بیرونی قرضے لے رہی ہے،مگر یہ بات حقائق کے برعکس ہے۔ بیرونی قرضوں کا بڑا حصہ انتہائی کم نرخوں اور آسان شرائط پر حاصل کیا گیا ہے۔اس کا اندازہ موجودہ حکومت کے بیرونی قرضوں کی اوسط لاگت سے ہوتاہے جو گرانٹس کے بغیر 3.1فیصد اور گرانٹس ملا کر 2.9فیصد ہے۔علاوہ ازیں اکتوبر 2016ء میں ہماری حکومت نے 1ارب ڈالر کا بین الاقوامی سکوک 5.5فیصد کے نرخ پر جاری کیا۔یہ پاکستان کی تاریخ میں سکوک اور بانڈکا کم ترین نرخ تھا،لہٰذا موجودہ حکومت کے اٹھائے گئے بیرونی قرضے نہ صرف سستے نرخوں پر لئے گئے، بلکہ ان کی ادائیگی بھی لمبی مدت میں واجب الادا ہے۔ بیرونی قرضے اور GDPکا گرتا ہوا تناسب یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ قرض داری کی رفتار میں کمی آئی ہے۔مالیاتی اور جاری کھاتوں کا خسارہ ترقی پذیر ممالک کے لئے ناگزیر ہے۔ اچھے معاشی بندوبست کے لئے ایک اہم چیلنج یہ بھی ہے کہ ان دو خساروں کو قابل برداشت حد تک رکھا جائے، تاکہ مالیاتی خسارے میں بلا روک ٹوک اضافے سے سرکاری قرضے کے حجم میں اضافہ نہ ہو اور جاری کھاتوں کے خسارے سے ایسی بیرونی ادائیگیاں نہ جمع ہوں، جن کے لئے ممکنہ وسائل دستیاب نہ ہوں ۔ہماری قرضوں کی پالیسی دراصل ان دو خساروں کا توازن برقرار رکھنے پر مشتمل ہے۔ مالیاتی نظم و ضبط ہمارے قرضوں کے بندوبست میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے، جس کا مرکزی نکتہ بجٹ خسارے میں کمی لانا ہے۔نتائج خود بولتے ہیں۔مالی سال 2016ء میں GDPکے 4.6 فیصد ہونے والا خسارہ مالی سال 2013ء کے 8.8فیصد کا تقریباً نصف ہے، جب موجودہ حکومت نے عنانِ اقتدار سنبھالی۔موجودہ مالی سال2017ء کے اختتام تک اسے 4 فیصد تک لایا جائے گا، تاہم اس کے باوجود اب برآمدات میں اضافہ کرنے اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری ہمارا ترجیحی ایجنڈا ہے۔اس سلسلے میں لئے گئے اصلاحی اقدامات سے آنے والے برسوں میں ملک کے۔۔۔ Debt Sustainability profile۔۔۔میں بہتری آئے گی۔مجموعی طور پر اوپر بیان کئے گئے شواہد یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں کہ پاکستان اپنے قرضوں کا انتظام مناسب طریقہ کار کے مطابق کر رہا ہے۔اس سے اس تاثر کی بھی فیصلہ کن طریقے سے نفی ہوتی ہے کہ آنے والے کئی برسوں تک پاکستان قرضوں کی ادائیگیوں میں مشکلات کا سامنا کرے گا۔

(مصنف فیلو چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ اور پاکستان کے وزیر خزانہ ہیں)

مزید : کالم