علاقائی تجارت کو فروغ دے کر ملکی برآمدات میں اضافہ کیا جا سکتا ہے

علاقائی تجارت کو فروغ دے کر ملکی برآمدات میں اضافہ کیا جا سکتا ہے

راولپنڈی ( کامرس ڈیسک)علاقائی تجارت کو فروغ دے کر ملکی برآمدات میں اضافہ کیا جا سکتا ہے سارک ممالک کے ساتھ ساتھ وسطی ایشیائی ریاستوں اور افغانستان کے ساتھ باہمی تجارت کے وسیع مواقع موجود ہیں ہمیں نئی منڈیاں تلاش کرنے کی ضرورت ہے راولپنڈی چیمبر پہلے بھی قزاقستان اور تاجکستان میں تجارتی نمائشوں کا انعقاد کر چکا ہے وہاں پر پاکستانی مصنوعات کی زبر دست مانگ ہے ہمیں روایتی شعبوں کے ساتھ ساتھ نئے شعبوں میں بھی سرمایاکاری کرنے کی ضرورت ہیچین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ (سی پیک) پاکستان اور چین سمیت خطے کے ممالک کیلئے نفع بخش سرمایہ کاری کا نادر موقع ہے اور یہ منصوبہ علاقائی تجارت کے فروغ کے لیے نیٹ ورکنگ کا کردار ادا کرے گا گیم چینجر ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستانی صنعتکاروں اور سرمایہ کاروں کے لئے معاشی ترقی کے نئے در کھولے گا۔ تاجربرداری کا کردار بہت اہم ہے اور تمام چیمبرز پر بھاری ذمہ داری عائید ہوتی ہے کہ وہ مختلف شعبوں اورصنعتی زونز کی نشاندہی کے لیے حکومت کے ساتھ رابطے میں رہیں اور فوری طور پر معلومات شیئر کریں راولپنڈی چیمبر آف کامرس میں تاجروں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر چیمبر راجہ عامر اقبال نے کہاکہ دنیا کی آدھی آبادی اس خطے میں آباد ہے پاکستان روس چین وسطی ایشائی ملک اور سارک ممالک ایک نیا اقتصادی بلاک قائم کر سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ صنعتکارو تاجر علاقائی تجارت کے فروغ کے لیے ابھرتے ہوئے مواقعوں سے فائدہ اٹھائیں راجہ عامر اقبال نے کہاکہ سی پیک محض کسی ایک شاہراہ کا نام نہیں یہ منصوبہ ہمہ جہت صنعتی ترقی اور اقتصادی خوشحالی کا ایک ایسا روٹ میپ ہے جس سے علاقاتی خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہو گا ۔ سی پیک علاقائی تجارت کے فروغ کے لئے اہم سنگ میل ثابت ہو گا اوراس منصوبے سے پاکستان وسطی ایشیائی ممالک سمیت ایران،افغانستان اور دیگر ممالک کی تجارتی سرگرمیوں کا محور بن جائے گا۔

اس موقع پر سینئر نائب صدر راشد وائیں ، نائب صدر عاصم ملک، گروپ لیڈر ، مجلس عاملہ کے اراکین، انجمن تاجران کے نمائندے اور تاجروں کی ایک کثیر تعداد موجود تھی۔

مزید : کامرس