خواتین کا کالجوں مین وائی فائی کی مفت فراہمی ، تعلیمی عمل متاثر ہونے خاشہ

خواتین کا کالجوں مین وائی فائی کی مفت فراہمی ، تعلیمی عمل متاثر ہونے خاشہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور(دیبا مرزا سے)خواتین کے کالجوں میں موبائل کے استعمال پر پابندی کے باوجود وائی فائی کی مفت سروس کی فراہمی کا آغاز کر دیا گیا،کچھ کالجوں کی انتظامیہ نے نے دبے الفاظ میں حمایت اور کچھ نے مخالف کر دی ، تعلیمی ماہرین کے مطابق طالبات میں تعلیم کی جگہ گوگل اور وٹس اپ کا رجحان فروغ پانے کا خدشہ ، تفصیلات کے مطابق لاہور بھر کے تعلیمی اداروں میں فری وائی فائی سروس فراہم کرنے کا کام شروع کیا جا چکا ہے اس کا مقصد طالبات کو انٹرنیٹ سوشل میڈیا تک باآسانی رسائی دینا ہے جبکہ دوسری جانب حکومت نے ہی خواتین کے تعلیمی اداروں میں موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد کررکھی ہے اور جو طالبات اس پابندی کی خلاف ورزی کرتی ہیں ان کو بھاری جرمانے بھی عائد کئے جاتے ہیں ۔دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انٹرنیٹ ‘فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا جن میں واٹس ایپ کے منفی استعمال سے بہت سی معاشرتی برائیاں جنم لے رہی ہیں ۔اس حوالے سے موقف دیتے ہوئے مختلف کالجز کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال منفی اور مثبت بھی ہے یہ بات درست ہے کہ کالجز میں طالبات پر موبائل فون استعمال کرنے پر پابندی عائد ہے ان کا کہنا تھا کہ ہم خود بھی اس پابندی پر مکمل عمل درآمد کراتے ہیں اور جو طالبات اس کی خلاف ورزی کرتی ہیں ان کے موبائل فون بھی ضبط کر لئے جاتے ہیں ۔اس سلسلے میں بات کرتے ہوئے پرنسپل اپوا کالج کو ثر شاہ نے کہا کہ مجھے حکومت کی جانب سے وائی فائی لگوانے کے لئے نوٹس پر نوٹس دے رہی ہے لیکن میں نے سختی سے اس کو منع کردیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ طالبات پہلے ہی موبائل فون کے استعمال پر پابندی کروانا مشکل ہے اور اب وائی فائی کی فری سروس ایک نئی مصیبت کی طرح آن پڑی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ اس سہولت کے مناسب استعما ل کے لئے لائحہ عمل بنایا جائے تاکہ یہ سہولت کے طور پر استعمال ہو ناکہ یہ والدین اور کالجز انتظامیہ کے لئے ایک زحمت بن جائے۔