یوم یکجہتی کشمیر کشمیری خواتین پر بھارتی درندوں کے ظلم و ستم

یوم یکجہتی کشمیر کشمیری خواتین پر بھارتی درندوں کے ظلم و ستم

ہندوستان کے سابق وزیر خا رجہ اور سابق فوجی سربراہ سمیت اہم سابق سرکاری افسران، تعلیم اور فنون سے وابستہ نامور شخصیات اور معتبر صحافیوں نے کشمیر میں بگڑتی ہوئی صورت حال پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے احتساب کا عمل نہ اپنانے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور وادی کے لوگوں پر بڑھتے ہوئے ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کی ہے۔ 5فروری سے قبل اور 30جنوری سے جو مہاتما گاندھی کی ہلاکت کا دن ہے، ایک روز پہلے بھارت کے اربابِ اختیار کی جانب سے احتجاجی بیان خاصا خوش آئند ہے۔

5فروری یوم یکجہتی کشمیر ہے۔ اس روز مقبوضہ جموں وکشمیر کے لوگوں کی جدوجہد آزادی کے ساتھ حکومتِ پاکستان کے اظہار یکجہتی کو 27واں برس ہو رہا ہے۔ ہر سال 5فروری کے روز پاکستانی عوام ان ایک لاکھ کشمیری شہدا کی ارواح کو ایصال ثواب پہنچاتے ہیں جو آزادی کے حصول کے لئے آواز بلند کرنے کی پاداش میں شہید کر دیئے گئے تھے۔ دس ہزار سے زائد ان خواتین سے اظہار ہمدردی کرتے ہیں جو بھارتی فوجی درندوں کی زیادتیوں کا نشانہ بنی ہیں اور ان ہزاروں لاپتہ لوگوں کی بازیابی کے لئے دعا کرتے ہیں جنہیں بھارتی فوج نے گھروں اور بازاروں سے اُٹھایا ہے۔

مقبوضہ کشمیر کی وادی کے چنار سرخ رنگ ہو چکے ہیں۔ 1947ء سے وادی جنت نظیر کے لوگ بھارتی جہنم کا ایندھن بنے ہوئے ہیں۔ وہ آزادی مانگتے ہیں تو انہیں موت ملتی ہے۔ انہوں نے عالمی اداروں سے رجوع کیا جہاں وہ سیاسی موشگافیوں اور مفادات کی بھول بھلیوں میں گم کر دیئے گئے۔

1989ء میں وادی کے لوگوں نے آزادی کی جدوجہد میں ایک نئی روح پھونکی تھی۔ ان کے بڑھتے ہوئے احتجاج میں ثابت قدمی اور اولوالعزمی دیکھتے ہوئے بھارتی مرکزی حکو مت نے مقبوضہ کشمیر کے وزیر اعلی فاروق عبداللہ کو معزول کردیا۔ وہ اگرچہ ایک کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ کہلاتا تھا لیکن اس کی رگوں میں بھی کشمیری خون تو دوڑتا تھا۔

19جنوری1990ء میں فاروق عبداللہ کی سبکدوشی کے بعد حکومت ہند نے جگ موہن ملہوترہ کو مقبوضہ وادی کا گورنر مقررکرتے ہوئے وادی میں گورنر راج نافذ کردیا۔ جگ موہن مسلمانوں کے خلاف اپنے تعصبانہ رویے اور نقصان دہ کاروائیوں کے باعث اچھا خاصا بدنام تھا۔ اس کے گورنر مقرر ہوتے ہی وادی میں حکومتی دہشت و بربریت میں یکدم اضافہ ہو گیا۔ 20 جنوری 1990ء کی رات بھارتی فوجیوں نے وادی کے گھروں پر دھاوا بول دیا۔ ان گنت بے گناہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا اور بے شمار خواتین کی بے حرمتی کی گئی۔ عورتوں کے ساتھ زیادتی کی خبریں اگلے روز پوری وادی میں جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئیں چنانچہ اسی روز سری نگر میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ بھارتی فوجیوں نے پُر امن اور نہتے مظاہرین پر بلا دریغ فائرنگ کی اور گاؤ کڈل کے مقام پر 50لوگوں کو شہید اور سینکڑوں کو زخمی کردیا۔ اس بہیمانہ قتل و غارت نے دنیا بھر کے مسلمانوں میں بالعموم اور پاکستان میں بالخصوص سخت احتجاج کی لہر دوڑا دی۔ چنانچہ اسی سال 5فروری پاکستان کے طول و عرض میں کشمیریوں سے یکجہتی کا دن قرار پایا۔ تب سے اب تک ہر سال 5فروری کو حکومتی سطح پر یوم یکجہتی کشمیر منایا جاتا ہے۔

5فروری کو پاکستان میں احتجاجی مظاہروں، جلسے جلوسوں، سیمینار اور مذاکروں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ پاکستانی اپنے کشمیری بھائیوں کے حق میں آواز بلند کرتے ہیں اور اس بات کا عزم کرتے ہیں کہ کشمیریوں کی قربانیوں کو رائیگاں جانے نہیں دیں گے۔

مقبوضہ وادی جموں و کشمیر میں تحریک آزادی جوں جوں زور پکڑتی ہے اسی قدر شدت سے شقی القلب بھارتیوں کی دہشت گردی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ کشمیری بچے ، جوان اور بوڑھے ان کی درندگی کا نشانہ تو بنتے ہی ہیں، مظلوم اور بے بس عورتیں ان کی زیادتیوں کا شکار پہلے ہوتی ہیں۔ کشمیر کے طول و عرض چھوٹے چھوٹے دیہاتوں سے لے کر بڑے شہروں تک ، عورتوں کے ساتھ بد اخلاقی کے حوالے سے، بھارتی فوجیوں ،پیراملٹری فورسز اور پولیس کی چیرہ دستیوں کے بے شمار گھناؤنے واقعات زبان زدِ عام ہیں۔ بشارت پیر ایک کشمیر صحافی ہے۔ اس نے اپنی کتاب ’کرفیو والی رات‘(Curfewed Night)میں ہندوستانی ظلم و ستم کی بے شمار داستان نے قلم بند کی ہیں۔ اس نے ان عورتوں سے بات چیت تحریر کی ہے جو بھارتی درندوں کی وحشت کا نشانہ بنی تھیں۔ اب وہ چلتی پھرتی لاشیں ہیں۔ روزمرہ کے کاموں میں مصروف رہنے کے باوجود وہ خود کو اس دنیا میں موجود نہیں پاتیں۔ بشارت نے ایک ایسی عورت سے بھی ملاقات کی جو شادی کے پہلے روز ہی ، بارات کے ساتھ سسرال آتے ہوئے، بھارتی فوجیوں کے ہتھے چڑھ گئی تھی۔ وہ واقعات بیان کرتی ہے تو زمین تھرتھراتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔

میں کتاب پڑھتے ہوئے آزادی کی قدر محسوس کررہی تھی۔ میرا دل مقبوضہ وادی کی ان عورتوں کے لئے رو رہا تھا جن کے سروں پر بے یقینی کے سورج کی دھوپ ہے اور جن کے پاؤں میں غلامی کی زنجیریں ہیں۔

5فروری کا دن قریب ہے۔ اپنی بہنوں سے میرا التماس ہے کہ اس روز وہ اہل کشمیر کے ساتھ پُر خلوص یکجہتی کا اظہار کریں۔ اپنے حلقہ اثر میں لوگوں کو بتائیں کہ کشمیر پاکستان کی شاہرگ ہے اور اپنی شاہرگ کی حفاظت ان کی ذمہ داری ہے۔ اہل کشمیر کی آواز کے ساتھ آواز ملائیں۔ انہیں یقین دلائیں کہ ان کے تحریک میں وہ ان کے ساتھ ہیں اور اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ہمارے کشمیری بہن بھائی آزادی حاصل نہیں کر لیتے۔ اور یہ بھی عہد کریں کہ ہماری یکجہتی کا اظہار صرف 5فروری تک ہی محدود نہیں ہوگا بلکہ ہر روز، ہر ساعت، ہر پل ہم کشمیریوں کی جدوجہد میں ان کے شانہ بشانہ ہوں گے۔

مزید : ایڈیشن 1