موصل ، داعش نے غربت اور بھوک سے مجبور درجنوں بچے بھرتی کیے

موصل ، داعش نے غربت اور بھوک سے مجبور درجنوں بچے بھرتی کیے

بغداد (اے پی پی) داعش نے دو سال قبل عراق کے شہر موصل پر قبضہ کرنے کے بعد 18 برس سے کم عمر بچوں کو جھانسہ دے کر اپنی صفوں میں بھرتی کیا۔عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق اب موصل شہر کا مشرقی حصہ ہاتھ سے نکل جانے کے بعد ان بچوں کو عراقی افواج اور عدلیہ کے سامنے اپنی قسمت کے فیصلے کے واسطے تنہا چھوڑ دیا ہے ۔داعش نے موصل کو درپیش غربت اور بھوک کی سنگین اور سخت صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بچوں کی نفسیات کے ساتھ دجالی کھیل کھیلا۔ تنظیم نے اپنی صفوں میں شامل ہو کر جنگجو بننے والے بچوں کو بھاری تنخواہوں سے نوازا۔

ان بچوں میں گرفتار ہوجانے والوں نے بتایا کہ ابتدا میں ان کی ذمے داریاں ٹریفک کنٹرول یا دیگر آسان کاموں تک محدود تھیں۔ تاہم وقت گزرنے اور عراقی سکیورٹی فورسز کے شہر کے اندر داخل ہونے کے ساتھ ہی ان بچوں کو ہتھیار اٹھانے پر مجبور کر دیا گیا اور انہیں لڑائی کے میدانوں میں جھونک دیا گیا۔

مزید : عالمی منظر