پنجاب ،ریسکیو1122نے گذشتہ ماہ 57846آپریشن میں 59340ایمر جنسی متاثرین کو مدد فراہم کی

پنجاب ،ریسکیو1122نے گذشتہ ماہ 57846آپریشن میں 59340ایمر جنسی متاثرین کو مدد فراہم ...

لاہور(کرائم رپورٹر) ڈائریکٹرجنرل پنجاب ایمرجنسی سروسزڈاکٹر رضوان نصیر نے گزشتہ روزریسکیو 1122 ہیڈ کوارٹرز میں ایک میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے پنجاب کے تمام اضلاع میں ریسکیو 1122کی ماہانہ کارکردگی کا جائزہ لیاجسکا مقصد سروس کی کارکردگی کو بہتر اوربِناکسی تفریق کے تمام شہریوں کویکساں معیارکی ایمرجنسی سروسز ڈلیوری کویقینی بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی ڈیٹا کے مطابق پنجاب بھر میں صبح آٹھ بجے تا رات آٹھ بجے ایمرجنسیز کی شرح میں اضافہ دیکھا گیا ہے اس لئے تمام ضلعی ایمرجنسی افسران کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ موجودہ وسائل کو مناسب حکمت عملی سے بروئے کار لائیں تاکہ ایمرجنسیز سے منظم انداز میں نبرد آزما ہوا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بروقت ریسپانس ، فزیکلی فٹ وہیکلز اور ایمرجنسی آلات کی بروقت مرمت اور دستیاب وسائل کا صحیح استعمال کرتے ہوئے اپنے معیار کو برقرار رکھناہے۔ڈی جی ریسکیو نے پنجاب کے مختلف اضلاع میں پیشنٹ ٹرانسفر سروس پر عملدرآمد کی کارکردگی کا جائزہ لیا تاکہ مریضوں کو بہترین سروسز فراہم کی جاسکیں۔ ایمرجنسی سروس کے اعدادو شمار کے مطابق ریسکیو1122نے گذشتہ ماہ پنجاب بھر میں اپنے سات منٹ ریسپانس ٹائم کو برقراررکھتے ہوئے5 7846 ریسکیوآپریشن کے دوران59340ایمرجنسی متاثرین کو ریسکیوکیا۔ریسکیو 1122کے پراونشل مانیٹرنگ سیل کو موصول ہونے والی ایمرجنسی کالز کے تحت 18618 کال ٹریفک حادثات،31397میڈیکل ایمرجنسی، 1018آگ لگنے کے واقعات ،1271جرائم کی کال30,ڈوبنے کے واقعات, 52عمارتیں منہدم ہونے کے واقعات اور17دھماکوں کے واقعات اور 5443دیگر ریسکیو آپریشن شامل ہیں جن پر ریسکیو 1122نے ریسپانڈ کیا۔اعداد و شمار کے مطابق زیادہ تر حادثات بڑے شہروں میں پیش آئے جن میں 299 آگ کے واقعات لاہور میں، 116فیصل آباد ،67 گوجرانوالہ ،95راولپنڈی، 66ملتان اور سیالکوٹ میں 40 واقعات پیش آئے۔ اسی طرح 3682ٹریفک حادثات لاہور میں، 1806فیصل آباد، 1027 گوجرانوالہ، 1130ملتان جبکہ راولپنڈی میں633 ٹریفک حادثات رونما ہوئے جہاں ٹریفک قوانین کے نفاذکی ضرورت ہے۔ڈاکٹر رضوان نصیر نے کہا کہ گذشتہ ماہ ایمرجنسیز میں قریباََ 2300سے زائد انسانی جانوں کا ضیاع ہوا جن میں 1899افراد میڈیکل ایمرجنسیز، 288ٹریفک حادثات جبکہ 21افراد عمارتیں منہدم ہونے کی صورت میں جاں بحق ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک نے انسانی زندگی کی عزت کی سوچ کے تحت احتیاطی تدابیر پر عمل کیا اور اپنے نظام بنائے ،اسی طر ح ہم نے بھی انسانی زندگی سے پیار کرتے ہوئے اپنے ملک کو کمیونٹی ایمرجنسی ریسپانس ٹیموں کے قیام اور منظم منصوبہ بندی کے تحت تعمیرات سے ملک کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کرنا ہے۔

مزید : علاقائی