قومی اسمبلی ،حکومت نے کاشتکاروں کو مہنگے قرضے دینے کا اعترراف کرلیا

قومی اسمبلی ،حکومت نے کاشتکاروں کو مہنگے قرضے دینے کا اعترراف کرلیا

اسلام آباد (آن لائن،آئی این پی) وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں کاشتکاروں کو مہنگے قرضے دینے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرائیویٹ بینکوں پر حکومت کا کوئی اختیار نہیں ہے جبکہ حکومت اور اپوزیشن کے اراکین نے کاشتکاروں کو مہنگے قرضے فراہم کرنے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے حکومت کی ملک دشمن پالیسی قرار دیا ہے بدھ کے روز ایوان زیریں میں پارلیمانی لیڈر رانا افضال نے توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے اعتراض کیا کہ پاکستان میں زرعی قرضہ جات بہت مہنگے ہیں اور اس معاملے کومتعلقہ کمیٹی میں لائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے کمرشل بینکوں کی جانب سے 80فیصد جبکہ زرعی ترقیاتی بینک کی جانب سے 20فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی بینک کی انتظامی اخراجات زیادہ ہونے کی وجہ سے شرح سود بہت زیادہ ہے چونکہ زراعت کا معاملہ صوبوں کے پاس ہے اور صوبائی حکومتیں بھی زراعت کے لئے سبسڈی دے رہی ہیں ۔ توجہ دلاؤ نوٹس کے محرک حکومتی رکن اسمبلی رانا محمد حیات نے کہا کہ زرعی ملک ہونے کے باوجود چاول اور کاٹن کی برآمداد کم ہوتی ہیں ۔ سٹیٹ بینک کے شرح سود کم ہے مگر زرعی شعبے کو اب بھی 16فیصد سے زائد شرح سود پر قرضے ملتے ہیں۔ یہ حکومت کی زرعی شعبے کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جس طرح صنعتی شعبے کو 6.5فیصد شرح سود پر قرضے دیئے جاتے ہیں اس نرخ پر زمینداروں کو دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صنعت کار اربوں روپے ہڑپ کر چکے ہیں مگر زمینداروں کو 10ہزار سے زائد قرضے نہیں ملتے ہیں۔ جس پر رانا محمد افضال نے کہا کہ میری بھی یہی خواہش ہے مگر جو حالات ہیں اس کی وجہ سے مجبور ہیں۔ اس سلسلے میں سلیکٹ کمیٹی بنائی گئی ہے وہ جو بھی سفارش دے گی اس کو تسلیم کریں گے انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے میں برآمدات کی کمی کی بڑی وجہ تحقیق کے نہ ہونے کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت کے شعبے میں 80ارب روپے کے قرضے ہڑپ کئے گئے ہیں جو کو حکومت نے ایکویٹی میں تبدیل کیا ہے۔ رکن اسمبلی رشید احمد خان نے کہا کہ پارلیمانی سیکرٹری خزانہ کی معلومات درست نہیں ہیں اس ملک کا کاشتکاروں کو مہنگے قرضے دیکر اس کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج پاکستان میں زرعی کھاد اور بیجوں کی قیمتیں زیادہ ہیں اور بجلی بھی مہنگی دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر صنعت کاروں کو سستے قرضے دیئے جاتے ہین تو زرعی شعبے کو کیوں نہیں دیئے جا رہے ہیں۔ جس پر پارلیمانی سیکرٹری رانا محمد افضال نے کہا کہ کاشتکاروں سے صرف ترقیاتی قرضوں پر 145فیصد وصول کئے جاتے ہیں اور کم قرضوں کی وجہ سے شرح سود میں اضافہ ہو جاتا ہے انہوں نے کہا کہ کمرشل بنک زیادہ قرضے دیتے ہیں۔ رکن اسمبلی شیخ فیاض الدین نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں کسانوں سے سب سے زیادہ دشمنی موجودہ حکومت نے کی ہے ۔ حکومت نیشنل بینک اور سٹیٹ بینک کو ہدایت دے کہ کسانوں کو کم شرح سود پر قرضے دیئے جائیں ۔ انہوں نے موجودہ حکومت کی کسان دشمن پالیسیوں کی شدید مزمت کی جس پر پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ موجودہ حکومت نے زراعت کی بہتری کے لئے انقلابی اقدامات کئے ہیں۔ رکن اسمبلی معین وٹو نے کہا کہ زراعت کے مقابلے میں صنعت کاروں کو زیادہ فوائد دیئے جاتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کاشتکاروں کو دیئے جانے والے قرضے پر شرح سود کم ہو گا یا نہیں جس پر پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ پاکستان میں بنک کمرشل ہیں جس پر یقین دہانی نہیں دے سکتا ہوں۔ ایوان کی جانب سے قانون سازی کے بعد ہی فیصلہ کیا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انڈسٹری بڑے برے قرضے لیتی ہے جس کی وجہ سے ان کا شرح سود کم ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں دنیا کی مہنگی چینی پیدا ہو رہی ہے جس پر حکومت سبسڈی دے رہی ہے۔ قومی اسمبلی میں حکومت نے ارکان اسمبلی کو آگاہ کیا ہے کہ وزیرخزانہ نے زرعی قرضوں پر زرعی ترقیاتی بنک کو آپریشنل چارجز میں 2فیصد کمی کی ہدایت کردی ہے،زرعی قرضوں پر شرح سود میں کمی کے حوالے سے ایوان کی سلیکٹ کمیٹی جو سفارشات تیار کرے گی حکومت ان پر عملدرآمد کرے گی۔ پارلیمانی سیکرٹری برائے خزانہ رانامحمد افضل نے توجہ دلاؤکاجواب دیتے ہوئے کہاکہ زرعی قرضوں پر شرح سود16فیصد نہیں ہے،کسانوں کیلئے شرح سود12فیصد ہے،زرعی قرضے پاکستان میں ضرور مہنگے ہیں اس پر ہاؤس کی سلیکٹ کمیٹی بنی ہے جوسفارشات دی جائیں گی ان پر عمل کریں گے،2لاکھ10ہزار کی اوسط شرح قرض ہے،یہ چھوٹے قرضے ہیں ان پر انتظامی اخراجات کافی ہیں۔ وزیرخزانہ نے زرعی بنک کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی آپریشنل کاسٹ دوفیصدمزید کم کرے۔ قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے ارکان کی امریکی صدرڈونلڈٹرمپ کے مسلم دشمن اقدامات کے خلاف قرارداد پیش کرنے کیلئے ہنگامہ آرائی،ڈاکٹر عارف علوی،شیریں مزاری،لال چند ملہی اور دیگر ارکان (ن) لیگی ارکان کے توجہ دلاؤنوٹس کے دوران قرارداد پیش کرنے کی اجازت نہ ملنے پر نشستوں پرکھڑے ہوگئے اور شیم شیم شیم کے نعرے لگاتے رہے ڈپٹی سپیکر مرتضی جاوید عباسی نے حکومت اور دیگراپوزیشن جماعتوں کے ساتھ اتفاق رائے پیدا کیے بغیر قرارداد پیش کرنے کی اجازت دینے سے انکارکردیا،عارف علوی نے مطالبہ کیا کہ حکومت ٹرمپ کے اقدامات پر امریکی سفیر کو طلب کرکے احتجاج کرے۔ وزارت پانی و بجلی نے 2018ء تک ملک میں مکمل ہونے والے چھوٹے ڈیموں کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کر دیں جبکہ حکومت کی طرف سے قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ ضلع سوات میں بجلی چوری کی 173 ایف آئی آرز درج کی گئیں اور 44 لاکھ 90 ہزار روپے کی ریکوری کی گئی ،حج 2015ء اور 2016ء کے دوران حجاج کرام کو اوسطاً فی کس بالترتیب 11 ہزار 117 روپے اور 12 ہزار 777 روپے واپس کئے گئے۔ عمرہ زائرین مدینہ منورہ میں پاکستان ہاؤس کو رہائش کے لئے استعمال کرتے ہیں، مزید پاکستان ہاؤسز کے قیام کے لئے کوششیں کر رہے ہیں، ایران سے بجلی لانے کے لئے ٹرانسمیشن لائن بچھانے کا کام آئندہ دو ماہ تک مکمل ہو جائے گا، پاکستان اس وقت ایران سے 74 میگاواٹ بجلی درآمد کر رہا ہے۔ اس وقت ملک میں ایڈز کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 17 ہزار 224 ہے جبکہ 8 ہزار 133 مریض زیر علاج ہیں۔یپاٹائٹس کے لئے ہرونی گولی کی رجسٹریشن بورڈ نے منظوری دے دی ہے۔ سرکاری ملازمین کے لئے نئی رہائش گاہوں کی تعمیر کی سمری وزیراعظم کو ارسال کی گئی ہے جہاں سے منظوری کے بعد اس حوالے سے ایک جامع منصوبہ بنایا جائے گا۔ کراچی سے گوادر تک مسافر و کارگو فیری سروس شروع کرنے کا ارادہ ہے کسان پیکیج کے تحت صرف پنجاب نے اپنے حصہ کی رقم ڈالی ہے باقی کسی صوبے نے اپنا حصہ نہیں ڈالا اس وجہ سے اس منصوبے کے تحت صرف پنجاب میں کاشتکاروں کو 23 ارب 67 کروڑ روپے کی رقم دی گئی۔

قومی اسمبلی

مزید : علاقائی