پنجاب اسمبلی ،بلدیاتی نمائندوں کو ٹیکسوں میں اضافہ کے اختیار سمیت 2بل منظور

پنجاب اسمبلی ،بلدیاتی نمائندوں کو ٹیکسوں میں اضافہ کے اختیار سمیت 2بل منظور

لاہور(نمائندہ خصوصی) پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن کی جانب سے بار بار کورم کی نشاندہی کے باوجود بلدیاتی نمائندوں کوآمدنی میں اضافے کے لئے ٹیکس نیٹ ورک بڑھانے اور 5فیصد تک پراپرٹی ٹیکس میں اضافے کا اختیار سمیت دو بلوں کی منظوری دیدی گئی ہے اور اس حوالے سے اپوزیشن کی تمام ترامیم کثرت رائے سے مسترد کردی گئیں جبکہ تین مختلف آرڈیننسز کی مدت میں توسیع کی قراردادیں بھی کثرت رائے سے منظور کر لی گئیں جبکہ اپوزیشن پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں توسیع کی قرارداد آؤٹ آف ٹرن ایوان میں پیش کرنے کی اجازت نہ ملنے پر ایوان سے واک آؤٹ بھی کرگئی دوسری جانب پنجاب حکومت کا کہنا تھا کہ سال 2014-15ء میں 43117.961جبکہ سال2015--16ء میں 55562.575ملین مختلف سکیموں کے لئے قرضہ لیا گیا بچت کے لئے سرکاری خزانے سے ممبران اسمبلی اعلیٰ آفیسرز پرہوائی سفر صوبائی وزراء کو دی جانے والی صوابدیدی گرانٹس بھی واپس لے لی گئی ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق پارلیمانی سیکرٹری برائے خزانہ رانا بابر نے پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران ممبران کے سوالوں کے جوابات د ئیے ۔پنجاب اسمبلی کا اجلاس ڈیڑھ گھنٹہ کی تاخیر سے سپیکر رانا محمد اقبال کی صدارت میں شروع ہوا اجلاس دو محکموں خزانہ اور زراعت کے متعلقہ سوالوں کے جوابات دئے گئے۔محکمہ زارعت کے متعلقہ سوالوں کے جوابات صوبائی وزیر نعیم بھابھہ نے د ئیے ۔ خدیجہ عمر کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری برائے خزانہ نے کہا کہ جو بھی شادی ہال رجسٹرڈ نہیں ہوگا وہ غیر قانونی ہوگا جب تک کہ وہ رجسٹرڈ نہیں ہو جاتااگر کوئی خود رجسٹرڈ نہیں کروائے گا تو حکومت خود اپنے نمائندوں کے ذریعے انہیں رجسٹرڈ کرے گی۔امجد علی جاوید کے سوال کے جواب میں وزیر زراعت نے کہا کہ پنجاب کی تمام نہروں کی ری ماڈلنگ ہو رہی ہے پانی کی کمی کو جلد پورا کر لیا جائے گا۔تاہم سپیکر رانا محمد اقبال نے وزیر زراعت کو ہدایت کی کہ وہ کھالوں کی تعمیر کی طرف خصوصی توجہ دیں۔پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں حکومت کی طرف سے تحاریک التوائے کا جواب نہ دینے کا سلسلہ گذشتہ روز بھی جاری رہا ۔ ایوان میں اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید نے نکتہ اعتراض پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک ماہ میں دوسری مرتبہ اضافے کے خلاف شدید مذمت کی اور اس اضافے کے خلاف ایوان میں آؤٹ آف ٹرن قرارداد پیش کرنے کی اجازت چاہی ،انہوں نے مزید کہا کہ یہ عوام پر ظلم ہے پہلے ہی عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں ہمارایہ مطالبہ ہے کہ یہ اضافہ واپس لیا جائے کیونکہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا لیکن حکمرانوں نے پیٹرلیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے عوام پر پیٹرول بم گرا دیا ہے۔اس پر صوبائی وزیر قانون ران ثناء اللہ خان نے کہا کہ اضافہ ہم نے نہیں بلکہ فیڈرل نے کیا ہے یہ وہاں کیوں نہیں بات کرتے وہاں ہلہ گلہ کی بجائے عوام کی بھی بات کرلیا کریں، انہوں نے کہا کہ قرارداد پڑھی ہے اس میں ہم ترمیم کے ساتھ یہ قرارداد پیش کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے،جو کہ میرا قانون حق ہے جس پر اپوزیشن نے کہا کہ ہم ترمیم نہیں کرنے دیں گے، ہم واک آؤٹ کرتے ہیں جس کے بعداپوزیشن ایوان سے واک آؤٹ کرگئی۔بعد ازاں سپیکر نے دو وزراء شیر علی خان اور چوہدری محمد شفیق کو بلانے کے لئے بھیجا کچھ دیر بعد وہ اپوزیشن کو ایوان میں واپس لے آئے ۔ پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں تین آرڈیننسز لینڈ ریکارڈ اتھاٹی پنجاب2016ء ترمیمی آرڈیننس غیر منقولہ جائیداد ٹیکس پنجاب تیسرا سول ایڈمنسٹریشن پنجاب 2016ء کی میعاد میں توسیع کی قرادادیں بھی کثر ت رائے سے منظور کر لی گئیں،اجلاس میں دو بلوں غیر منقولہ شہری جائیداد ٹیکس پنجاب 2016ء دوسرا ترمیمی بل غیر منقولہ شہری جائیداد ٹیکس پنجاب2016ء کی منظوری دی گئی۔غیر منقولہ شہری جائیداد ٹیکس پنجاب2016ء کی منظوری سے بلدیاتی نمائندوں کو ٹیکس نیٹ ورک بڑھانے اور پراپرٹی ٹیکس میں 5فیصد تک اضافے کے بل کی منظوری دی گئی ہے ،اب اگر بلدیاتی نمائندے اپنی میونسپل،ٹاؤن کمیٹیز کی انکم میں اضافہ چاہیں تو وہ رورل ایریا کو بھی میونسپل یا ٹاؤن کمیٹی میں شامل کرسکتے ہیں۔

بل منظور

مزید : علاقائی