حافظ سعید کی نظر بندی ‘بھارتی فلموں کی اجازت غیر دانشمندانہ فیصلے ہیں:ساجد میر

حافظ سعید کی نظر بندی ‘بھارتی فلموں کی اجازت غیر دانشمندانہ فیصلے ہیں:ساجد ...

لاہور(جنرل رپورٹر) امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے کہا ہے کہ حافظ سعید کی نظر بندی اور بھارتی فلموں کی اجازت غیر دانشمندانہ فیصلے ہیں، حکومت کو عجلت میں فیصلے نہیں کرنے چاہییں۔ بغیر کسی جرم کے کسی بھی شہری کو نظر بند یا حراست میں نہیں رکھا جاسکتا۔ان دونوں فیصلوں سے بھارت اور امریکہ تو خوش ہوسکتے ہیں پاکستانی عوا م ہرگز نہیں۔اپنے ایک بیان میں ان کا کہنا تھا حافظ محمد سعید اور انکی جماعت کے ساتھ بعض امور پر اختلاف رائے کے باوجود ہم انکے ساتھ غیر قانونی حکومتی رویے کی مذمت کرتے ہیں ۔ فوجی ترجمان کی طرف سے یہ کہنا کہ حافظ محمد سعید کی نظربندی کا فیصلہ ریاست نے قومی مفاد میں کیا۔ وہ قومی مفاد کیا ہے اسکو سامنے لایاجائے۔ عالمی دباؤ کے تحت ہی ہم نے اگرفیصلے کرنے ہیں تو کل کو دینی مدارس پر بھی انگلیاں اٹھیں گی، قانون توہین رسالت ﷺ ختم کرنے کی باتیں بھی کی جاتی ہیں، کیا ہم اس پر بھی عالمی دباؤ قبول کرلیں گے اور کل کو اسے بھی ہم قومی مفاد کا نام دے دیں گے؟ پروفیسر ساجد میر نے مزید کہا کہ عالمی مطالبات کے سامنے ہم لیٹتے رہے تو پھر بریک نہیں لگے گی۔ حافظ محمدسعید کو عین ان دنوں میں جب پوری قوم پانچ فروری یوم یکجہتی کشمیر کی تیاریوں میں مصروف ہے نظر بند کردینا کسی بھی لحاظ سے درست فیصلہ نہیں، اس کا صاف مطلب ہے کہ ہم امریکہ اور بھارت کے تازہ گٹھ جوڑ اور دباؤ کا شکار ہوگئے ہیں۔ ان کا کہنا تھاکہ بھارتی فلموں کی نمائش کی اجازت کا فیصلہ حکومت کو واپس لینا چاہیے۔ اور حافظ محمد سعید کی نظر بندی ختم کی جائے۔

مزید : علاقائی