حکومت کا مشرف دور کی تعلیمی پالیسیاں دوبارہ لاگو کرنے کا فیصلہ

حکومت کا مشرف دور کی تعلیمی پالیسیاں دوبارہ لاگو کرنے کا فیصلہ

لاہور (ایجوکیشن رپورٹر) موجودہ حکومت نے مشرف دور حکومت کی تعلیمی پالیسیوں کو دوبارہ لاگو کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔ محکمہ سکول ایجوکیشن کا سرکاری سکولوں کی نجکاری کیلئے ایکسیلنٹ سکول اتھارٹی بنانے کا فیصلہ ،محکمہ تعلیم سکول پنجاب نے ایسے تعلیمی ادار ے جورقبے ،بلڈنگ اور طلبہ تعداد کے حوالے سے نمایاں ہونگے انکوسنٹر آف ایکسلنس کادرجہ دے کر اس اتھارٹی کے ماتحت کردیاجائے گا۔ مذکورہ اتھارٹی بنانے کا فیصلہ2010 میں مشرف دور میں بھی کیاگیاتھا لیکن صرف چند سکولوں کوہی سنٹرآف ایکسلنس کادرجہ دینے کے بعد اس منصوبے کو ٹھپ کر دیا گیا تھا ۔تفصیلات کے محکمہ سکول ایجوکیشن پنجاب نے صوبہ بھر میں تعلیمی اداروں کی تعداد زیادہ ہونے اور تعلیمی اداروں پر پوری توجہ نہ ملنے پر ایسے تعلیمی ادارے جو طلبا کی تعداد کے حوالے سے بہتر ہیں کو پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ۔ذرائع کے مطابق اتھارٹی ان سکولوں میں سائنس مضامین کے شعبہ جات قائم کرے گی جن کی سربراہی پی ایچ ڈی اساتذہ کریں گے ۔چیف ایگزیکٹو آفیسر ایجوکیشن طارق رفیق نے روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سنٹرآف ایکسلنس اتھارٹیز کا مقصد سکولوں میں کوالٹی ایجوکیشن کو فروغ دینا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت صوبہ پنجاب کے مختلف شہروں اٹک ،جڑانوالہ ،فیصل آباد ،شیخوپورہ سمیت دیگر شہروں کے 14 سکول ایکسلینس اتھارٹی کے تحت اپنا کام بہتر طریقے سے کر رہے ہیں جبکہ لاہور بھر میں 13 سکول ایکسلنس اتھارٹی کے تحت کام کر رہے ۔ ذرائع کے مطابق پہلے مرحلے میں 2000 سے زائد تعداد والے سرکاری سکولوں کو ایکسیلنٹ سکول اتھارٹی کے حوالے کیا جائے گا جبکہ دوسرے مرحلے میں اے کیٹگری کے سکولوں کو ایکسیلنٹ سکول اتھارٹی کے حوالے کیے جانے کا امکان ہے جہاں بچوں کوبہترین سہولیات مہیاکی جائیں گی تاکہ وہ پرائیویٹ سکولوں کا مقابلہ کر سکیں ۔ دوسری جانب یونائٹیڈ ٹیچرز کونسل کے عہدیدار رانا لیاقت نے کہا ہے کہ محکمہ تعلیم میں نت نئے تجربات کرنے کی بجائے پہلے سے جاری نظا م کی خامیاں دورکرکے ان کو بہتر بنایاجائے انہوں نے کہا ہے کہ کہ انھیں سکولوں کی نجکاری کسی صورت قبول نہیں، سکولوں کی نجکاری کے خلاف پہلے سے ان کی تنظیم سڑکوں پر احتجاج کر رہی ہے ۔

مزید : علاقائی