پاکستان میں سیکیورٹی، معیشت اور سیاسی استحکام کی وجہ سے نمایاں ترقی ہو رہی ہے: امریکی اخبار

پاکستان میں سیکیورٹی، معیشت اور سیاسی استحکام کی وجہ سے نمایاں ترقی ہو رہی ...

اسلام آباد (اے پی پی) پاکستان میں سکیورٹی، معیشت اور سیاسی ماحول میں نمایاں بہتری کی وجہ سے متوسط طبقے پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں، غیر ملکی کمپنیاں اپنی رپورٹ میں یہ پیشگوئی کر رہی ہیں کہ ملک میں صارفین کی قوت خرید اور اشیاء کے استعمال میں اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکی اخبار ’’وال سٹریٹ جرنل‘‘ نے گزشتہ روز جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں مزید کہا ہے کہ پاکستان میں سیاسی، معاشی اور سیکورٹی کی صورتحال میں بہتری کی وجہ سے متوسط طبقے پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں، دہشتگردوں کے حملوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے اور معاشی ترقی 8 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچی ہے، اربوں روپے کی انفراسٹرکچر پر سرمایہ کاری کی وجہ سے معیشت میں مزید ترقی واضح نظر آ رہی ہے۔ وال سٹریٹ جرنل نے ’’پیو ریسرچ سنٹر‘‘ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں متوسط طبقہ 1971ء میں 61 فیصد تھا جو 2015ء میں کم ہو کر 50 فیصد رہ گیا تھا۔ رپورٹ میں نیسلے پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر برونو اولی ہوک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان میں اشیائے صرف کی طلب میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور کمپنی کی سیل گزشتہ 5 سالوں کے دوران دگنا ہو کر ایک ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ وال سٹریٹ جرنل کے مطابق پیو ریسرچ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان دنیا کا چھٹا گنجان آباد ملک ہے جہاں سیکورٹی، معیشت اور سیاسی استحکام کی وجہ سے نمایاں ترقی ہو رہی ہے۔ رپورٹ میں اینگرو کے نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہنس لاراکر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان میں کنزیومر کی طرف سے خرچ کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے اور متوسط طبقہ اوپر آ رہا ہے، گزشتہ ماہ ہالینڈ کی کمپنی رائل فریزلینڈ نے 461 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری سے اینگرو فوڈز کا کنٹرول سنبھالا، گزشتہ سال چین کی شنگھائی الیکٹرک پاور نے کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی میں 1.8 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پر اتفاق کیا، ترکی کی الیکٹریکل مصنوعات تیار کرنے والی آرسلک کمپنی نے 258 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری سے ڈالینس کمپنی کی خریداری کی۔ اس موقع پر ترک کمپنی کی طرف سے کہا گیا کہ پاکستان کا متوسط طبقہ تیزی سے خوشحالی کی طرف بڑھ رہا ہے جس سے ان کی قوت خرید میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ فرانس کی کار ساز کمپنی رینالٹ نے اعلان کیا کہ وہ پاکستان میں اپنا کارخانہ لگانے کا سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2002ء سے 2014ء کے درمیان غربت میں 29.5 فیصد کمی ہوئی۔ پاکستان کے متوسط طبقہ کی بہتری کا حوالہ دیتے ہوئے وال سٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان میں موٹر سائیکل خریدنے والوں کی تعداد اور شرح میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے، 2002ء میں سالانہ 95 ہزار موٹر سائیکل خریدے جاتے تھے جو اب بڑھ کر 20 لاکھ سالانہ تک پہنچ گئے ہیں، یہی وجہ ہے کہ موٹر سائیکل کی بڑھتی ہوئی ڈیمانڈ کے باعث ہنڈا موٹرز نے اپنی پیداوار ڈبل کر دی۔ اس حوالے سے ہنڈا پاکستان کے چیف ایگزیکٹو ثاقب شیرازی کا کہنا ہے کہ دنیا کی وہ بڑی کمپنیاں جو اب تک پاکستان کی طرف نہیں دیکھ رہی تھیں، اب انہیں ادھر توجہ دینی چاہیے کیونکہ یہ ایک ابھرتی ہوئی کنزیومر مارکیٹ بن چکی ہے۔

مزید : صفحہ آخر