نہروں کی مرمت، 54ارب سے شروع ہونے والے منصوبوں میں کرپشن کا انکشاف

نہروں کی مرمت، 54ارب سے شروع ہونے والے منصوبوں میں کرپشن کا انکشاف

لاہور(اقبال بھٹی)محکمہ آبپاشی کیلئے 54ارب روپے کی لاگت سے شروع کیے جانے منصوبے رواں سال میں پایہ تکمیل تک پہنچانا ایک چیلنج بن گیا ہے۔متعدد منصوبوں کی تاخیر کا شکار ہونے اور کرپشن کا انکشاف ہو اہے ۔ نئے منصوبوں کے لٹک جانے کی وجہ سے پرانے منصوبے عدم توجہی کا شکار ہو گئے ہیں ۔بلوکی بیراج،سلیمانکی اور دیگر بیراجوں کی مرمت سالہا سال سے لٹک گئی ہے۔ذرائع کے مطابق تاخیر کا شکار ہونے والے منصوبوں کی جلد تکمیل نئے تعینات ہونے والے سیکرٹری کیپٹن (ر)اسد اللہ خان کی ترجیحات میں شامل ہے۔تفصیلات کے مطابق محکمہ آبپاشی نے رواں سال 54ارب روپے کے منصوبے شروع کر رکھے ہیں جن میں لوئر باری دوآب کینال پراجیکٹ اور بلوکی بیراج کی مرمت شامل ہے۔مذکورہ دونوں منصوبوں کی لاگت21ارب27کروڑ روپے ہے اور یہ گزشتہ دوسالوں سے تاخیر کا شکار ہو رہا ہے اور اب تک 84فیصد کام ہو اہے اور ان دونوں منصوبوں پر 19ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں ۔اس کے علاوہ پاکپتن کینال کی لائننگ اور سلیمانکی بیراج کی مرمت پر کام جاری ہے اور یہ کام بھی گزشتہ دو سال سے تاخیر کا شکا رہے اور اب تک 2سالوں میں63فیصد کام مکمل ہوا ہے اور اس پر 15ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں جبکہ منصوبہ 20ارب روپے کا ہے۔نہری تنصیبات کی سیکیورٹی اور مسلسل مانیٹرنگ کیلئے اقدامات کیے جا رہے ہیں جس پر 4کروڑ روپے خرچ کیے جا رہے ہیں اس کے علاوہ 2010اور2014کے سیلاب کی وجہ سے نہر ی ڈھانچے کی ٹوٹ پھوٹ اور نقصان پر 15ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں ۔یہ منصوبہ بین الاقوامی ترقیاتی اداروں کے تعاون سے کیا جا رہاہے جس میں 9ارب روپے ورلڈ بنک اور 6ارب روپے ایشئن ڈویلپمنٹ بنک دے گا۔جبکہ چیف منسٹر پنجاب کی ہدایت پر نالہ ایک،نالہ ڈیک،پلکھو اور نالہ بسنتر کی توسیع کی جارہی ہے تاکہ سیالکوٹ ،نارروال اور گوجرانوالہ کے اضلاع کو سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچایا جا سکے اور اس پر 4ارب50کروڑ روپے خرچ کیے جا رہے ہیں اور یہ منصوبہ بھی دو سالوں سے تاخیر کا شکار ہو رہا ہے۔اس کے علاوہ نیو خانکی بیراج دریائے چناب پر بنایا جا رہا ہے جس پر 20ارب روپے لاگت آئے گی اور یہ منصوبہ بھی ابتدائی مراحل میں ہے جبکہ نیا منصوبہ دریائے جہلم پر نئی نہر جلالپور کینال بنائی جا رہی ہے جس کی فزیبیلٹی رپورٹ کی تیاری پر کام جاری ہے۔جبکہ اس وقت 65چھوٹے ڈیم کام کر رہے ہیں جبکہ تین مزید بنائے جا رہے ہیں ۔

مزید : صفحہ آخر