زبیر عمرگورنر سندھ کے عہدہ کاآج حلف اٹھائیں گے ، حکومت نے کراچی کا امن بحال کردیا کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ کے نامزد گورنر محمد

زبیر عمرگورنر سندھ کے عہدہ کاآج حلف اٹھائیں گے ، حکومت نے کراچی کا امن بحال ...

زبیرعمرآج(جمعرات)صوبے کے32ویں گورنرکی حیثیت سے حلف اٹھائیں گے ۔ذرائع کے مطابق نامزد گورنر کی حلف برداری کی تقریب 3 بجے گورنرہاؤس میں ہوگی۔ تقریب میں وزیراعلی سندھ سید مرادعلی شاہ اورکابینہ کے ارکان شرکت کریں گے۔ نئے گورنر محمد زبیرعمر سے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ حلف لیں گے۔ نامزد گورنر محمد زبیرعمر 23 مارچ 1956 کو ایبٹ آباد میں فوجی گھرانے میں پیدا ہوئے، ان کے والد میجر جنرل غلام عمر 1971 میں فوج سے ریٹائر ہوئے۔محمد زبیر نے ابتدائی تعلیم ایبٹ آباد اور راولپنڈی میں حاصل کی، 1984 میں معروف ادارے آئی بی اے کراچی سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی،ان کی مستقل رہائش بھی کراچی ہی میں ہے۔وہ امریکی کمپنی آئی بی ایم سے وابستہ رہے اور پیرس، روم، میلان اور دبئی میں تعینات رہے، انہوں نے 2009 میں چیف فنانشنل افسر کی حیثیت سے آئی بی ایم کو خیرباد کہا۔ محمد زبیر نے 2012 میں مسلم لیگ نواز میں شمولیت اختیار کی اور پارٹی کے منشور کی تیاری میں معیشت اور ٹیکس ریفارمز کے شعبوں میں معاونت کی، 2013 کی الیکشن ٹیم کا حصہ بھی رہے۔مسلم لیگ ن کے اقتدار میں آنے کے بعد محمد زبیر کو پہلے بورڈ آف انویسٹمنٹ کا چیئر مین اور دسمبر 2013 میں وزیر مملکت کا رتبہ دے کر نجکاری کمیشن کا سربراہ بنایا گیا۔محمد زبیر کراچی کے علاقے ڈیفنس کے رہائشی اور 3 بچوں کے والد ہیں جبکہ 6 بھائیوں میں ان کا نمبر چوتھا ہے،ان کے ایک بھائی اسد عمر تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی بھی ہیں۔ان کا شمار مسلم لیگ ن کے شعلہ بیان لیڈر میں ہوتا ہے ۔

کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ کے نامزد گورنر محمد زبیر عمر نے کہاہے کہ پاکستان نے پارلیمانی سسٹم،ڈکٹیٹر شپ کے زمانے دیکھ لیئے ہیں ،ملک میں جمہوریت چلتی رہنی چاہے،جمہوریت سب سے بہتر نظام ہے ۔اپوزیشن پارٹی نے حکومتی تختہ الٹنے کیلئے راولپنڈی کا رخ کیا مگر جمہوریت قائم دائم ہیں،کراچی کے حالات اتنے خراب تھے کہ 10 منٹ کے نوٹس میں پورا شہر بند ہوجاتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو مقامی ہوٹل میں ایچ آر ایم سمٹ تقریب کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ نامزدگورنرنے کہاکہ پاکستان تبدیل ہوگیا ۔ادرے مضبوط ہورے ہیں ۔پی آئی اے کے چیئر مین ذاتی پسند یا نا پسند پر کسی کو بھی نوکری سے برخواست یا عہدہ نہیں دے سکتے ہیں۔ہمیں پرفارمنس اور میرٹ پرفوکس کرناہوگا۔کوئی بھی ادارہ میرٹ کے بغیرنہیں چل سکتاہے ۔انہوں نے کہاکہ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا نجکاری کرنی ہے یا، نہیں ۔ ملک کی ترقی کیلئے خسارے میں چلنے والے اداروں کا فیصلہ کرنا ہوگا۔کراچی کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کراچی کے حالات اتنے خراب تھے کہ 10 منٹ کے نوٹس میں پورا شہر بند ہوجاتا ہے۔شہر میں ٹارگٹ کلنگ،انتہا پسندی عروج پرتھی ۔حکومت نے تین سال میں شہر کے حالات پر امن کردیئے ہیں ۔3 سال پہلے ادارے بھی موجود تھے مگر کراچی کے امن اور ترقی کیلئے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔ہمارا ایجنڈہ تھا کہ معاشی حب کو دوبارہ سے معاشی حب بنائے۔نامزدگورنرنے کہاکہ شہر میں معاشی سرگرمیاں تیزی سے بڑھ رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان میں تمام حکومتیں سول ملٹری تعلقات اورپاک انڈیا تعلقات کاشکار رہتی ہیں ۔

مزید : کراچی صفحہ اول