چلڈرن کمپلیکس ‘ ڈاکٹرز کی مبینہ غفلت سے بچے کی ہلاکت‘ لواحقین کا جھگڑا

چلڈرن کمپلیکس ‘ ڈاکٹرز کی مبینہ غفلت سے بچے کی ہلاکت‘ لواحقین کا جھگڑا

ملتان (کرائم رپورٹر + وقائع نگار) چلڈرن کمپلیکس ملتان کے ایمرجنسی وارڈ میں ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت سے ڈیڑھ سالہ بچے کے جاں بحق ہونے پر ڈاکٹروں اور مریضوں کے لواحقین کے درمیان جھگڑا ہو گیا۔ مریضوں کے لواحقین کے مبینہ تشدد کے خلاف ڈاکٹروں، نرسز اور پیرامیڈیکل (بقیہ نمبر17صفحہ12پر )

سٹاف نے چلڈرن کمپلیکس کی ایمرجنسی بند کر دی جس سے ایمرجنسی وارڈ میں داخل معصوم بچوں کو شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔ ایمرجنسی وارڈ کے باہر مریضوں کے لواحقین کے احتجاج پر انتظامیہ نے پولیس طلب کر لی اور پولیس نے جاں بحق ہونے والے ڈیڑھ سالہ بچے ثاقب کے والد اور اس کے رشتے داروں کو حراست میں لے لیا ہے۔ ڈیڑھ سالہ جاں بحق ہونے والے بچے ثاقب کی والدہ نادیہ سعید کے مطابق وہ اپنے ڈیڑھ سالہ بچے کو طبیعت خراب ہونے پر ایمرجنسی وارڈ لائے جہاں ڈاکٹروں کے غلط انجکشن لگانے اور مریض پر توجہ نہ دینے کے باعث اس کا بچہ جاں بحق ہو گیا ہے۔ جب انہوں نے اس کی شکایت ڈیوٹی ڈاکٹرز کو کی تو انہوں نے گارڈز کو بلوا کر ان پر تشدد کروایا اور اب پولیس بلوا کر انہیں گرفتار کروا دیا ہے۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعہ کی غیر جانبدارانہ انکوائری کروائی جائے اور غفلت کے مرتکب ڈاکٹروں کو سزا دی جائے۔ چلڈرن کمپلیکس میں بچے کے جاں بحق ہونے کے حوالہ سے ایم ایس چلڈرن کمپلیکس ڈاکٹر شاہد بخاری کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں نے انہیں بتایا ہے بچے نے سیب کا ٹکڑا کھایا تھا جو گلے میں پھنسنے سے بچے کی حالت غیر ہوئی اور بچہ سانس بند ہونے سے جاں بحق ہوا ہے۔ چلڈرن کمپلیکس کے ایمرجنسی وارڈ کو دوبارہ فنکشنل کر دیا گیا ہے اور پولیس سے اضافی سکیورٹی طلب کی گئی ہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر