دستاویزات میں جعلسازی کی روک تھام، تحقیقی پیپر کی اشاعت

دستاویزات میں جعلسازی کی روک تھام، تحقیقی پیپر کی اشاعت

کراچی (پ ر) کمپیوٹر پر موجود دستاویزات کو بہ آسانی بنالینے،کاپی کرلینے ،تقسیم کرنے یا اس میں ردّبدل کرلینے کی بنا پر ایک مستند دستاویز کا حصول ایک مشکل مسلہ بن گیا ہے۔مستند دستاویز کا حصول ،کاپی رائٹ کا تحفظ اور ان کو محفوظ طریقہ پر شائع کرنے کے سلسلے میں تحقیق کی ضرورت ایک طویل عرصہ سے محسوس کی جارہی تھی۔آج کے دور میں تجارتی اور انتظامی امور کی انجام دہی کے لئے الیکٹرنک دستاویزات کا استعمال اس لئے محدود ہے کیونکہ ان کی رسائی کے حقوق کے انتظام کے لئے موثر ذرائیع کی عدم دستیابی، قابل بھروسہ اور مستند ہونے کے مسائل درپیش ہیں۔ یہ بات محمد علی جناح یونیورسٹی کراچی کے صدر پروفیسر ڈاکٹر زبیر شیخ اور نیشنل یونیورسٹی آف کمپیوٹر اینڈ انجینئرنگ سائینس کی کمپیوٹر سائینس کے شعبہ کی ریسرچ اسکالر ڈاکٹر نرمین ذکریا باوانی کی جانب سے لکھے جانے والے ایک مشترکہ تحقیقی پیپر میں کہی گئی ہے جوکہ فاسٹ۔این یو ریسرچ جرنل میں شائیع ہوا ہے۔ریسرچ پیپر میں کہا گیا ہے کہ اسوقت ڈیجیٹل دستاویز کی تیاری میں جو چیلنجز درپیش ہیں ان میں سب زیادہ مزاحمت جعلسازی سے محفوظ رکھنے اور قابل اعتبار دستاویز کے اصل لکھنے والے کی تصدیق قابل ذکر ہیں۔ایک الیکٹرانک دستاویز کی تصدیق کے لئے متعدد تیکنیک موجود ہیں مگر ذاتی یا ادارے کے طور پر ان کی افادیت بڑی محدود ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر