اجتماعی مفاد کے حامل منصوبوں ، تعلیم اورصحت کو ترجیح حاصل ہے : اسد قیصر

اجتماعی مفاد کے حامل منصوبوں ، تعلیم اورصحت کو ترجیح حاصل ہے : اسد قیصر

پشاور(سٹاف رپورٹر )سپیکر صوبائی اسمبلی اسد قیصر نے خیبرمیڈیکل یونیورسٹی(کے ایم یو) پشاو ر،محکمہ صحت حکومت خیبر پختون خوا اورنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ ( این آئی ایچ)اسلام آباد کے درمیان پبلک ہیلتھ ریفرنس لیبارٹری کے قیام کے معاہدے پر دستخطوں کاخیر مقدم کرتے ہوئے اس پیش رفت کو خیبرمیڈیکل یونیورسٹی پر اعتماد کامظہرقرار دیتے ہوئے توقع ظاہر کی ہے کہ اس لیبارٹری کے قیام سے نہ صرف پبلک ہیلتھ کے مختلف شعبوں میں تحقیقاتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا بلکہ اس سے پبلک ہیلتھ سے متعلق مختلف امراض کی وجوہات اور اسباب کی نشاندہی اور ازالے میں بھی مدد ملے گی۔انہوں نے ان خیالات کا ظہار کے ایم یو،محکمہ صحت حکومت خیبر پختون خوا اور این آئی ایچ اسلام آباد کے درمیان کے ایم یو میں پاکستان کی دوسری پبلک ہیلتھ ریفرنس لیبارٹری کے قیام سے متعلق مفاہمت کی یادداشت پر دستخطوں کی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا ہے ۔اس موقع پر دیگر کے علاوہ محکمہ صحت خیبر پختونخوا کے ایڈیشنل سیکرٹری ہیلتھ مسعود یونس ،کے ایم یو کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمدحفیظ اللہ ، این آئی ایچ اسلام آباد کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر مختار احمد،ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز خیبر پختونخوا ڈاکٹر سید علی خان، آئی بی ایم ایس کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر جواد احمد ،کے ایم یو کے ڈائریکٹر اورک ڈاکٹر ضیاء الحق ،ڈپٹی ڈائریکٹر پبلک ہیلتھ محکمہ صحت خیبرپختونخوا ڈاکٹر شاہین آفریدی، مختلف شعبوں کے ڈین ،فیکلٹی ممبران ، محققین ، معالجین اور طلبہ و طالبات کی ایک بڑی تعدادبھی موجود تھی ۔سپیکر صوبائی اسمبلی نے مفاہمت کی یادداشت پر دستخطوں کو صوبے میں پبلک ہیلتھ سے متعلق امراض کی تشخیص اور علاج معالجے کے لیئے ایک بڑی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے صوبے کو ماضی کی حکومتوں نے سب سے ذیادہ نقصان صحت اور تعلیم کے شعبوں میں پہنچایا ہے جبکہ موجودہ حکومت کی اولین ترجیح صحت اورتعلیم کے شعبے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایم ٹی آئی اور صحت کا انصاف پروگرامات کے علاوہ صوبے میں چار ہزار سے ذائد ڈاکٹروں کی بھرتی اور دوردراز علاقوں کے ڈاکٹروں اور دیگر عملے کو ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس کی ادائیگی موجودہ حکومت کے وہ کارنامے ہیں جن سے صوبے میں صحت کے شعبے میں عنقریب ایک بڑی تبدیلی کو عام لوگوں کے ساتھ ساتھ ہمارے مخالفین بھی تسلیم کرنے پر مجبور ہوں گے۔اسد قیصر نے کہا کہ یہ بات خوش آئیند ہے کہ کے ایم یو نے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر محمد حفیظ اللہ کی قیادت میں جہاں میڈیکل ایجوکیشن کے شعبے میں کافی پیش رفت کی ہے وہاں طبی تحقیق اور نت نئے امراض کی روک تھام اور تشخیص کے سلسلے میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کی گئیں ہیں۔انہوں نے توقع ظاہر کی کہ این آئی ایچ،محکمہ صحت اور کے ایم یو کے اشتراک سے صوبے کی پہلی اور ملک کی دوسری پبلک ہیلتھ ریفرنس لیبارٹری کے قیام سے نہ صرف علاج معالجے کی نئی راہیں کھلیں گی بلکہ اس سے ہمارے نوجوان ڈاکٹروں کو تحقیق اور تشخیص کے نئے مواقع بھی دستیاب ہوں گے ۔واضح رہے کہ این آئی ایچ اسلام آباد،عالمی ادارہ صحت اور محکمہ صحت خیبر پختونخوا مشترکہ طور پر کے ایم یومیں عالمی معیار کی ایک پبلک ہیلتھ ریفرنس لیبارٹری قائم کریں گے جو اس خطے میں اپنی نوعیت کی پہلی اورمنفرد لیبارٹری ہوگی۔ یہ لیبارٹری محکمہ صحت خیبرپختونخوا کوصحت کے شعبے میں درپیش متعدی اورغیر متعدی امراض کے اسباب ، بچاؤ اورعلاج معالجے کے لئے بطور ریفرنس لیبارٹری فرائض انجام دے گی۔اسی طرح مختلف وبائی ،موسمی اورپولیو جیسے امراض کی وجوہات اوربچاؤ سے متعلق معلومات اورضروری اقدامات تجویز کرنا بھی مذکورہ ریفرنس لیبارٹری کے فرائض اوردائرہ کار میں شامل ہوگا۔#

مزید : پشاورصفحہ آخر