مبینہ خنزیر کا گوشت لیبارٹری تجزیہ میں بھینس کا گوشت نکلا

مبینہ خنزیر کا گوشت لیبارٹری تجزیہ میں بھینس کا گوشت نکلا
مبینہ خنزیر کا گوشت لیبارٹری تجزیہ میں بھینس کا گوشت نکلا

  

لاہور (ویب ڈیسک)پنجاب فوڈ اتھارٹی کی سابق ڈائریکٹر آپریشنز عائشہ ممتاز کی طرف سے ستمبر 2015ءمیں لاہور ریلوے سٹیشن سے پکڑا جانے والا مبینہ طور پر خنزیرکا گوشت لیبارٹری تجزیے کے بعد بھینس کا گوشت ثابت ہو گیا۔

راولپنڈی سے بذریعہ ٹرین لاہور لایا جانے والا یہ گوشت فوڈ اتھارٹی ٹیم نے سابق ڈائریکٹر آپریشنز کی سربراہی میں پکڑا تھا، تاہم بعد میں یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز اور نجی لیبارٹری انٹرٹیک سے کروائے گئے ڈی این اے تجزیے میں یہ حقیقت سامنے آئی کہ گوشت خنزیر کا نہیں بلکہ بھینس کا تھا۔ ان رپورٹوں کی روشنی میں عدالت نے تمام ملزموں کو بے قصور قرار دیتے ہوئے رہا کر دیا ہے۔

عمران خان پاکستان کے ڈونلڈ ٹرمپ ہیں :وزیر قانون رانا ثناءاللہ

اس حوالے سے جب فوڈ اتھارٹی حکام سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی نے اپنے لائحہ عمل میں تبدیلی کرتے ہوئے یہ لازم قرار دیا ہے کہ کوئی بھی افسر کارروائی کے بعد میڈیا یا عوام کو پکڑی گئی اشیا کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کرے گا اور اس حوالے سے لیبارٹری رپورٹ کے آنے تک انتظار کیا جائے گا۔یاد رہے کہ ریلوے سٹیشن پر چھاپہ مار کارروائی کے دوران سبز ڈرموں میں شامل گوشت پکڑا گیا تھا جس پر عائشہ ممتاز نے کہا تھا کہ راولپنڈی سے خنزیر کے گوشت کی لاہور منتقلی کی اطلاع پر چھاپہ ماراگیا اور گوشت قبضے میں لے لیا۔

مزید : لاہور