A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

بدنام زمانہ جیل ’گوانتاناموبے‘سے سابق افغان سفیر ملّا عبدالسلام ضعیف کی کہانی۔۔۔  پانچویں قسط

بدنام زمانہ جیل ’گوانتاناموبے‘سے سابق افغان سفیر ملّا عبدالسلام ضعیف کی کہانی۔۔۔  پانچویں قسط

Feb 02, 2017 | 13:14:PM

اسامہ کہاں ہے؟

میں نے دیکھا کہ میرے سامنے دائیں جانب دو فوجی جو سر پر کالی تھیلی اوڑھے اور ہاتھوں میں ایک بڑا ڈنڈا لیے میری طرف مارنے کی غرض سے بڑھ رہے تھے اور بائیں جانب دو کالے ہاتھی نما دیو فوجی ہاتھوں میں پستول تھامے کھڑے تھے ۔دوسرے فوجیوں کے پاس بندوقیں تھیں۔ میرے سر پر کھڑے سب ایک ہی بلند آواز میں یہ تین چیزیں پوچھتے تھے:

1. Where is Usama?

اسامہ کہاں ہے؟

2. Where is Mulla Omar?

ملا عمر کہاں ہے؟

3. What did you do in New York and Washington?

تو نے نیو یارک اور واشنگٹن کے بارے میں کیا کیا؟

یہ لوگ جب مسلسل چیخے اور پھر انہیں معلوم ہو اکہ میرے اندر بولنے اور حرکت کرنے کی طاقت نہیں تو انہوں نے کچھ وقت کے لیے مجھے چھوڑ دیا اور پھر آسمانی کلر کا یونیفارم پہنا کر مجھے ایک ٹھنڈے گڑھے میں پھینکا گیا، شدید تکلیف اور سردی کی وجہ سے میں پھر بے ہوش ہوگیا۔ جب دوبارہ ہوش آیا تو میں ایک لحاف کے اندر لیپٹا ہوا تھا۔ بڑی مشکل سے میں نے سر لحاف سے اس حال میں نکالا کہ میرے ہاتھ اور پاؤں زنجیروں سے جکڑے ہوئے تھے۔

گوانتانا موبے کا جہنم،سابق افغان سفیر ملّا عبدالسلام ضعیف پر امریکی مظالم کی کہانی۔۔۔ چوتھی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

چوبیس گھنٹے کچھ نہ کھایا:

میں سوچتا رہا کہ یہی کیوبا کا جیل خانہ گوانتاناموبے ہوگا لیکن پھر نظر دوڑانے کے بعد میں نے وہاں دیواروں پر طالبان کی پرانی تحریریں بمع تاریخ دیکھیں تو مجھے پتہ چلا کہ یہ تو کیوبا نہیں افغانستان ہی ہے(جس کا کبھی میں سفیر تھا) یہ ایک چھوٹا سا ٹوٹا پھوٹا کمرہ تھا۔ گیٹ پر ایک امریکن خاتون فوجی بیٹھی تھی جو میرے پاس آئی اور پوچھا کہ آپ کو کیا چاہئے؟ لیکن مجھ میں تو زبان ہلانے کی سکت نہ تھی۔ وہ بار بار پوچھتی کہ آپ کو انگلش آتی ہے؟ آخر جواب نہ ملنے پر وہ واپس جا کر اپنی جگہ بیٹھ گئی ۔یہ عصر کا ٹائم تھا۔ پورے دن کی نمازیں قضا ہوگئی تھیں اور میرے اندازے کے مطابق اب تک 24گھنٹے گزر چکے تھے کہ میں نے نہ کچھ کھایا نہ کچھ پیا تھا۔

مظلوم کی دعا:

جسم کی ساری ہڈیوں میں شدید درد تھا۔ میرے سر اور کندھوں کو فوجیوں نے تشدد کرکے توڑ دیا تھا، میرا چہرہ خون سے سرخ تھا اور میں بڑا پریشان تھا کہ اور مزید کیا ہوگا؟ اور میں اس طرح کی دعائیں بہت کرتا تھا کہ یا اللہ! آپ مجھ سے راضی ہو جائیے، دوسرے مسلمان بھائیوں کو اس قسم کی تکالیف سے بچائیے، کسی بھی مسلمان کو ہماری طرح ذلت کے امتحان میں مت ڈالے۔ خصوصاً علماء کرام کو اس آزمائش سے محفوظ فرمائیے۔ اس لیے کہ ان کی بے عزتی تمام مسلمانوں کی بے عزتی ہے۔ اے رب! تو اپنی رحمت سے افغانستان کے مظلوم عوام کی مدد فرما اور ان کی حفاظت فرما۔

سخت اور مشکل وقت میں میرے منہ سے یہی الفاظ نکلتے تھے۔ اللہ تعالیٰ انہیں قبول فرمائیں۔ رات آپہنچی۔ جنریٹر اسٹارٹ ہوا اور کمرے کے اندر ایک بلب روشن ہوا۔ میری زبان میں تھوری سی حرکت پیدا ہوئی اور میں نے فوجی خاون سے دھیمی اور پست آواز میں کہا (Can you help me)(کیا آپ میری مدد کر سکتی ہیں؟) اس نے پوچھا کس چیز کی ضرورت ہے؟ میں نے نماز پڑھنے کی اجازت مانگی تو اس نے اجازت دیدی اور میں نے زنجیر میں بند ہاتھوں سے تیمم کرکے نماز پڑھنی شروع کر دی۔ اسی اثناء میں دو اور آدمی آئے اور کونے میں چھپ کر بیٹھ گئے میں بہت ڈر رہا تھا کہ نماز میں ہی مجھے روک نہ دیں لیکن اللہ تعالیٰ نے خیر کا معاملہ کیا اور میں نے نماز پڑھ لی۔

بگرام میں تفتیش کا مرحلہ:

نماز سے فارغ ہونے کے بعد میں ان کی طرف متوجہ ہوا تو وہ دو آدمی جو بیٹھے تھے۔ ایک فوجی وردی میں جبکہ دوسرا ملکی سول لباس میں تھا۔ اس نے مجھ سے فارسی زبان میں پوچھا کہ کیا حال ہے؟ اس کا لب و لہجہ ایرانی فارسی کی طرف مائل تھا اور اس کا نام فرید تھا جو کہ اصلاً امریکی تھا اور ایران میں اس کی پرورش ہوئی تھی جبکہ دوسرا ایک موٹا کالا امریکی تھا۔

ان دو آدمیوں نے مجھ سے پوچھا’’آپ کی صحت کیسی ہے؟ سردی تو نہیں لگ رہی؟‘‘

میں صرف الحمد للہ ! کہتا تھا، گزرے واقعات و عذاب کا میں ان کے سامنے تذکرہ نہیں کرتا تھا اس لیے کہ میرے خون آلود چہرے سے سب کچھ عیاں تھا۔ اس کے بعد انہوں نے سوالات پوچھنا شروع کیے پورے سوالات کا محور صرف ایک ہی ہوتا تھا کہ اسامہ اور ملا عمر کہاں ہیں؟ میں جو طرح ان کی زندگی اور موت سے بے خبر تھا تو جوابات عموماً نفی میں تھے اس پر ان کے چہروں کے رنگ بدلتے رہے اور آہستہ آہستہ ان کا لہجہ سخت ہوتا رہا ان کی باتوں میں دھمکی کا پہلو صاف اور واضح تھا لیکن میرے پاس وہی منفی جواب تھا اور ان کے سخت رویے نے مجھ پرکوئی اثر نہیں کیا۔

جاری ہے۔۔۔ چھٹی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں۔

(نائن الیون کے بعد جب امریکی افواج نے اتحادیوں کے ساتھ مل کر افغانستان پر حملہ کیا تو طالبان کی امن پسندقیادت کوبھی چن چن کر تحقیقات کے نام پر بدترین تشدد کا نشانہ بنایا اور گوانتاناموبے کی بدنام زمانہ جیلوں میں انہیں جانوروں سے بدترزندگی گزارنے پر مجبور کیاگیا تاہم ان میں سے اکثر قیدی بے گناہ ثابت ہوئے ۔ملا عبدالسلام ضعیف افغان حکومت کے حاضر سفیر کے طور پر پاکستان میں تعینات تھے لیکن امریکہ نے اقوام متحدہ کے چارٹراور سفارت کے تمام آداب و اصولوں سے انحراف کرتے ہوئے پاکستانی حکومت کو مجبور کرکیااور انکو گرفتارکرکے گوانتانہ موبے لے جاکر جس بیہیمانہ اور انسانیت سوز تشدد کوروا رکھا اسکو ملاّ ضعیف نے اپنی آپ بیتی میں رقم کرکے مہذب ملکوں کے منہ پر طمانچہ رسید کیاتھا ۔انکی یہ کہانی جہاں خونچکاں واقعات ، مشاہدات اور صبر آزما آزمائشوں پر مبنی ہے وہاں ملاّ صاحب کی یہ نوحہ کہانی انسانیت اورامریکہ کا دم بھرنے والے مفاد پرستوں کے لئے لمحہ فکریہ بھی ہے۔دورحاضر تاریخ میں کسی سفیر کے ساتھ روا رکھا جانے والا یہ حیوانی سلوک اقوام متحدہ کا شرمناک چہرہ بھی بے نقاب کرتا ہے)۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں چھپنے والی تحاریر سے ادارے کا متفق ہوناضروری نہیں ۔

مزیدخبریں