سلسلہ نوشاہیہ کی تحقیقی داستان۔ ۔ ۔آٹھویں قسط

سلسلہ نوشاہیہ کی تحقیقی داستان۔ ۔ ۔آٹھویں قسط
سلسلہ نوشاہیہ کی تحقیقی داستان۔ ۔ ۔آٹھویں قسط

  

شہنشاہ اکبر کے دین الٰہی کے خلاف شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی،سلسلہ و خانواد ۂنوشاہیہ کی خدمات

حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ کے لئے اخلاق محمدیؐ بہترین نمونہ تھے لہٰذآپؒ جہاں بھی جاتے اپنے اخلاق اور دلائل سے لوگوں کے دل اپنی مٹّھی میں کر لیتے۔ یہی وصف آپؒ کے خلفا میں بھی پیدا ہو گیا تھا۔ وہ بھی ظاہری اور باطنی علوم سے مالا مال تھے۔

حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ کے خلفاء میں اپنے وقت کے ممتاز فقیہ اور ولی اللہ شامل تھے۔ آپؒ کی تبلیغ سے افغانستان میں شریعت و طریقت کی جڑیں مضبوط ہو گئی تھیں۔ آپؒ نے اپنے خلیفہ حضرت خواجہ محمد فضیل وحی کابلیؒ کو افغانستان میں بھیجا۔ ان کی تبلیغ کے نتیجہ میں افغانوں کے پتھر دل طریقت کی لگن سے گداز ہو گئے۔ قندھار میں حضرت سیّد شاہ محمدؒ کو بھیجا۔ کشمیر میں حافظ طاہرؒ ، پوٹھوہار میں شاہ فتاح دیوان اور شاہ محمد شہیدؒ کو تبلیغ دین کے لئے بھیجا۔ اللہ کے برگزیدہ بندے اپنے مرشد و مربّی کی تربیت کا بہترین نمونہ ثابت ہوئے اور برصغیر کے طول و عرض میں توحید اور اسلام کی شمع فروزاں کر دی۔

ساتویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں۔

حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ کی تعلیم و تربیت سے مرصع ہو کر اسلام کی تبلیغ کرنے والوں نے لوگوں کے دلوں میں شریعت اور طریقت کی روح پھونک دی۔ اس کی وجہ بڑی مضبوط تھی۔ حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ نے اپنے ہر خلیفہ کو مکاتب شریعت و طریقت سے لبریز کر دیا تھا۔ آپؒ کے خلفا جید عالم بھی تھے محدث اور فقیہ بھی۔ وہ قطب وقت اور عارف کامل بھی تھے۔ وہ زبان و نگاہ سے لوگوں کی کایا پلٹ دیتے تھے۔ آپؒ کے خلفا ہر کوئی ممتاز تھا تاہم ان میں سے حضرت شیخ محمد ہاشم دریا دلجو آپؒ کے صاحبزادے تھے ، نہایت سخی اور عالم دین تھے۔ انہوں نے حضرت ملاّ عبدالحکیم سیالکوٹی اور مولوی عبداللہ لاہوریؒ سے بھی تعلیم و تربیت پائی تھی۔

حضرت محمد ہاشم دریا دل کی تبلیغ سے سورج پرستوں کی ایک بڑی جماعت نے آپؒ کے ہاتھوں اسلام قبول کیا تھا۔ آپؒ کے سب سے بڑے صاحبزادے حضرت شیخ برخوردارؒ بھی عالم اور فقیہ تھے۔ آپؒ نے اپنے والد گرامی کی طرح صوفیانہ شاعری میں کمال عروج حاصل کیا اور دین الٰہی کی سربلندی کے لئے ہمہ وقت مصروف کار رہتے تھے۔ حضرت سیّد نوشہؒ کے دو خلفاء آپؒ کے مرشد کریم حضرت سخی شاہ سلمان نوریؒ کے صاحبزادے شیخ رحیم دادؒ اور حضرت شیخ تاج محمودؒ بھی اپنے وقت کے قطب اور عارف تھے۔ اس طرح حضرت شاہ عبدالرحمان پاکؒ المعروف پاک رحمان بھڑی والے، خواجہ فضیل وصی کابلیؒ ، سیّد صالح محمدؒ ، شیخ صدر الدین المعروف شاہ صدر دیوانؒ ، سید شاہ محمد شہیدؒ ، حافظ محمد معموریؒ ساکن پیلاں گجرات، قاضی خوشی محمد کنجاہیؒ ، قاضی رضی الدین کنجاہیؒ ، شیخ نور محمد سیالکوٹیؒ ، شیخ محمد تقیؒ ، شاہ فتاح دیوانؒ ، شیخ مٹھا مجذوبؒ ، شیخ نانک مجذوبؒ ، شیخ اسماعیلؒ ، شیخ اللہ دادؒ ، سید عبداللہ مجذوب کابلیؒ اور حافظ طاہر کشمیریؒ نے حضرت سیّد نوشہ گنجؒ کے مشن کو اپنی زندگی کا اعلیٰ ترین مقصد بناکر آپ کی تعلیم و تربیت کا حق ادا کر دیا۔ آپؒ اپنے خلفاء کو اپنے حجرے میں بلا کر ان سے عہد بھی لیتے اور انہیں رموز تبلیغ سے آشنا کرتے ہوئے سمجھاتے۔

’’یارو۔ اللہ کے دین کی تبلیغ کرنا ہی تمہارا مقصد حیات ہونا چاہئے۔ تم دنیا بھر میں پھیل جاؤ اور قریہ قریہ گھوم کر گمراہوں کو راہ راست پر لے کر آؤ،انہیں دین بھی سکھاؤ اور ان کا باطن بھی روشن کرنا۔جس عالم اور عام بندے کا باطن بھی روشن ہوگا وہ مخلوق خدا کے لئے بہت زیادہ مفید ہوتا ہے‘‘۔

آپؒ کی تبلیغ سے دو لاکھ مشرکوں کا اسلام قبول کرنا ہی بہت بڑی کرامت ہے۔ آپؒ عقل و دلائل اور اخلاق محمدیؐ سے لوگوں کے قلوب منوّر کرتے تھے۔ اللہ ربّ العزت نے آپؒ کو اپنی عطا سے کرامات دکھانے کی صلاحیت سے سرفراز کیا تھا لیکن آپؒ اس سے گریز ہی کیا کرتے تھے۔ نوشاہیہ سلسلے کی بہت سی کتب میں آپؒ کی کرامات کا ذکر پایا جاتا ہے۔ آپؒ کے بارے میں مشہور تھا کہ آپؒ کو اپنی مخفی صلاحیتوں کا مکمل ادراک تھا لہٰذا آپؒ نہایت عاجزی اور مجبوری کے عالم میں ہی کرامات پیش کرتے تھے۔ حضرت نظام الدین اولیاء کا فرمان ہے کہ اولیاء کے تین مدارج ہیں۔

* بندہ ولی ہو اور اس کے متعلق وہ خود بھی آگاہ نہ ہو اور نہ ہی لوگوں کو اس کا علم ہو۔

* لوگ اس کی ولایت سے آگاہ ہوں مگر وہ خود اس سے لاعلم۔

* لوگ اس کے متعلق بخوبی جانتے ہوں اور وہ خود بھی اس سے آگاہ ہو۔

حضرت سیّد نوشہ گنج بخش حضرت نظام الدین اولیاء کی وضع کردہ تیسری قسم پر پورے اترتے تھے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی باطنی قوتوں کے باعث اولیاء کرام سے خوارق عادات یعنی کرامات کا ظہور ہونا حیرت کی بات نہیں تھی۔ بہت سے لوگ کرامات دیکھ کر کسی کے ولی اللہ ہونے پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہیں۔ حضرت نظام الدین اولیاء نے اس ضمن میں خرق عادات کی چار اقسام کا ذکر کیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں:

* معجزہ: انبیاء کے ساتھ خاص ہوتا ہے۔ ان کا علم و عمل کامل ہوتا ہے۔

* کرامت: اولیاء کو نصیب ہوتی ہے۔

معونت: مجنونوں کو نصیب ہوتی ہے۔ یہ علم رکھتے ہیں نہ عمل تاہم ان سے بعض خرق عادات دیکھنے میں آتی ہیں۔

استدراج: یہ ان لوگوں کا ہتھیار ہے جو صاحب ایمان نہیں ہوتے۔ یہ جادوگر اور اس قبیل کے لوگ ہوتے ہیں۔

حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ کی کرامت سے شہنشاہ شاہ جہاں نے قندھار فتح کیا تھا۔ یہ واقعہ تواریخ میں محفوظ ہے۔ آپؒ کو سیر و سیاحت کا بھی بہت شوق تھا۔ آپؒ دیس دیس جاتے اور تبلیغ اسلام کا مقصد بھی پورا کرتے۔ ایک روز آپ کی ملاقات ایک جوگی سے ہوئی۔ آپؒ نے اس سے پوچھا۔ ’’تجھے جوگ سے کیا ملا ہے یارا‘‘۔

جوگی بولا۔ ’’چھتیس برس کی تپسیا کی ہے میں نے اور پھر جوگ ملا ہے۔ میرے جوگ کا نظارہ دیکھنا ہے تو یہ دیکھئے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ ایک جھاڑی کے پیچھے چھپ گیا۔ جب باہر نکلا تو تیس سالہ نوجوان کے روپ میں تھا۔ اس کے بعد وہ پھر جھاڑی کے پیچھے چلا گیا اور اب کی بار آیا تو وہ خوبصورت بچّہ بن کر باہر نکلا اور اس کے بعد اپنی شکل میں آ گیا۔

آپؒ نے تبسم فرمایا اور کہا۔ ’’جوگی یارا۔ تو نے زندگی کے چھتیس سال صرف یہ تماشا دکھانے کے لئے ضائع کر دئیے۔ یہ دیکھ میرا اللہ رحیم و کریم کیا دکھاتا ہے۔‘‘ یہ کہہ کر حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ نے اللہ ہو کا نعرہ لگایا تو چہار جانب سے اللہ ہو کی صدائیں آنے لگیں۔ یہ دیکھ کر جوگی آپؒ کے قدموں میں گر گیا اور اسی وقت کلمہ طیبہ پڑھ کر مسلمان ہو گیا۔ آپؒ نے اس کی تعلیم و تربیت کر کے اسے سلوک کی منازل طے کرا دیں۔

حضرت سیّد نوشہ گنج بخش عربی، فارسی، اردو اور پنجابی کے قادر الکلام شاعر تھے۔ آپؒ کے اردو پنجابی کے دیوان آج بھی آپؒ کی علمی و ادبی خدمات کا ثبوت فراہم کرتے ہیں۔ آپ کی کتب میں گنج الاسرار، واعظ نوشہ، معارف تصوف فارسی منظوم، کلیات نوشہ اردو، کلیات نوشہ پنجابی کلام پر کئی جید دانشور تحقیقات بھی کر چکے ہیں۔ آپؒ کے صوفیانہ کلام اور دیگر کتب میں آپ کا یہ پیغام عام ملتا ہے۔ آپؒ فرماتے ہیں۔ ’’پہلے ظاہری علوم حاصل کرو پھر باطن کی طرف رجوع کرو‘‘۔

***

جاری ہے۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ