شہنشاہ بالی ووڈ دلیپ کمار کی زبانی ,انکی اپنی کہانی. . . چھٹی قسط‎

شہنشاہ بالی ووڈ دلیپ کمار کی زبانی ,انکی اپنی کہانی. . . چھٹی قسط‎
شہنشاہ بالی ووڈ دلیپ کمار کی زبانی ,انکی اپنی کہانی. . . چھٹی قسط‎

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

شہنشاہ بالی ووڈ دلیپ کمار کی زبانی انکی اپنی کہانی،دلچسپ ،حیرت انگیز۔۔۔ روزنامہ پاکستان میں قسط وار۔ترجمہ : راحیلہ خالد


دو پولیس والے میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے اٹھا لیا اور باہر لے آئے۔ باہر ابھی روشنی تھی،میں نے سکون کا سانس لیا۔ برآمدے میں کچھ لوگ ایسے بھی کھڑے تھے جو مجھے سرور خان کے بیٹے کی حیثیت سے جانتے تھے۔ پولیس افسر نے مجھ سے پوچھا،
’’ بیٹا ! تم وہاں اندر کیسے گئے تھے؟ ‘‘
اب میں کمرے سے باہر تھا اور کھلی ہوا میں آزادی سے سانس لے رہا تھا۔ میری دبی ہوئی آواز بھی بحال ہو چکی تھی۔ میں نے پولیس والوں کو بتایا کہ کیسے میں اماں کا پیچھا کرتے ہوئے کمرے تک پہنچا اور کیسے اتفاقی طور پر اندر بند ہو گیا۔ وہاں کچھ اور مقامی لوگ بھی موجود تھے جو مجھے جانتے تھے اور انگریز افسر نے میری دی گئی وضاحت پہ یقین کرتے ہوئے مجھے چھوڑ دیا۔ ان کے مجھے چھوڑتے ہی میں نے اتنی تیزی سے دوڑ لگائی جتنی لگا سکتا تھا۔

پانچویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
گھر پر چائے کی میز سج چکی تھی جس پر سب گھر والے اکٹھے ہوتے تھے۔ سب سے پہلے میری دادی نے مجھے دیکھا اور وہ میرے چہرے کے تاثرات اور میری حالت سے اندازہ لگا چکی تھیں کہ میں ضرور زیادہ دیر گھر سے باہر رہا تھا کیونکہ نہ ہی میں نہایا ہوا تھا اور نہ ہی میرے کپڑے تبدیل کئے ہوئے تھے۔ وہ یہ جاننے کیلئے بے تاب تھیں کہ آخر میں تمام دوپہر کیا کرتا رہا تھا۔ میں نے ان سے سچ چھپانا چاہا لیکن دادی اس معاملے میں مجھ سے یا کسی اور سے کسی قسم کی من گھڑت کہانی سننے کیلئے تیار نہیں تھیں۔ دادی کے پاس ایک ایسی پراسرار صلاحیت موجود تھی کہ جس سے وہ گھر میں ہونے والے کسی بھی غیر معمولی واقعے کی تہہ تک پہنچ جاتی تھیں۔ جیسے ہی دادی نے سنا کہ میرے ساتھ کیا ہوا تھا انہوں نے اماں کو بلایا اور انہیں میری حرکات و سکنات بارے لاعلم رہنے کی وجہ سے ڈانٹنا شروع کر دیا۔ خوش قسمتی سے،تبھی آغا جی آ گئے اور انہوں نے معاملہ رفع دفع کروایا۔
چائے کے دوران،ان بھائیوں کے بارے بات ہوتی رہی،جن کی اپنے خاندانی مخالفین سے جھڑپ ہوئی تھی۔ اس علاقے میں دو مخالف اور ایک دوسرے کے دشمن خاندانوں کا آپسی لڑائیوں کے دوران ایک دوسرے کو زخمی کرنا کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی لیکن ایسا کبھی کبھار ہی ہوتا کہ ان لڑائیوں کا انجام کسی کی موت پہ ہوتا۔ ایک عام پٹھان خاندان کم از کم درجن بھر بچوں پر مشتمل ہوتا تھا اور اگر ان میں سے ایک یا دو بیٹے اس طرح کی جھڑپوں میں مارے بھی جاتے تو وہ اس خاندان کا اتنا بڑا نقصان تصور نہیں کیا جاتا تھا۔ اور والدین حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو یہ سوچ کر دلاسہ دیتے تھے کہ ابھی ان کے اور بیٹے زندہ ہیں۔ اور یہ بات سچ ہے کہ اسی وجہ سے ایک مسلمان پٹھان خاندان میں ہر دو سال بعد ایک بچہ جنم لیتا تھا۔

زیادہ تر ایسا ہوتا کہ جب سب گھر والے شام کی چائے پہ اکٹھے ہوتے تو خواتین بڑے اچھے موڈ میں بے معنی گفتگو کرتیں جبکہ مرد حضرات سنجیدہ امور بارے بحث کرتے تھے۔ دادی اس محفل کی صدارت کرتیں اور وہ اپنی رانیوں جیسی حیثیت سے لطف اندوز ہوتیں۔ اور یہ حقیقت ہے کہ سوائے پھوپھی بابجان کے ان کے تمام بیٹے،بیٹیاں گھریلو امور بارے ان کی کسی بھی بات کی مخالفت نہیں کرتے تھے اور نہ ہی کسی قسم کے سوال جواب کرتے تھے۔ مجھے یہ دیکھ کر دکھ ہوتا تھا کہ میری اماں چائے کی میز پر چائے سے محظوظ ہونے کی بجائے کچن میں مٹی کے چولہے پر چائے بنانے میں مصروف ہوتیں۔ اور اس مٹی کے چولہے سے جو دھواں اور آگ نکلتے،کئی بار اماں اسے برداشت نہ کر پاتیں اور انہیں سانس لینے میں دشواری ہوتی۔ چائے اور کھانے کیلئے بنائے گئے ان کے پکوانوں کی ہمیشہ کھلے دل سے تعریف کی جاتی لیکن یہ سب بنانے میں ان کی نندوں یا ساس کی طرف سے کسی بھی قسم کی مدد کی پیشکش نہیں کی جاتی تھی۔ صرف پھوپھی بابجان ہی تھیں جو کبھی کبھار ان کی مدد کروا دیا کرتی تھیں۔
میرے بچپن کے دنوں میں مجھے جو چیز سب سے زیادہ یاد تھی وہ میری اماں کا لڑائی جھگڑے کئے بغیر محنت مشقت کرنا تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ گھر میں ان کی مدد کیلئے ملازم نہیں تھے بلکہ اماں خود اس بات کو ترجیح دیتی تھیں کہ جو کام ان کے سپرد کیا جائے اسے وہ خود اپنے سلیقہ مند طریقے سے انجام دیں۔ اور ان سے جب پوچھا جاتا کہ وہ ملازموں سے کام کیوں نہیں کرواتیں تو وہ ہمیشہ یہی کہتیں کہ جو کام وہ کر رہی ہیں وہ کرنا انہیں اچھا لگتا تھا اور یہ کہ دادی ان کی سلیقہ مندی کی وجہ سے ہی انہیں ذمہ داریاں سونپتی تھیں۔ وہ ہمیشہ پر سکون رہتیں اور ان کے اس طرح کے رویے نے آغا جی کی زندگی آسان بنا دی تھی کیونکہ انہیں اپنی جوان بیوی کی شکایتیں نہیں سننا پڑتی تھیں اور نہ ہی اس طرح کے لڑائی جھگڑوں کی صلح صفائی کروانی پڑتی تھی جس طرح کے لڑائی جھگڑے زیادہ افراد پر مشتمل مشترکہ خاندانوں میں کثرت سے ہوتے تھے۔
اماں کا تعلق ایک کھاتے پیتے معزز خاندان سے تھا۔ ان کے والدین اور بہنیں جو ان سے ملنے آتے،ہمیشہ اچھے لباس میں ملبوس ہوتے اور وہ بگھیوں میں آتے اور ان کے ساتھ ایک یا دو ملازم ہوتے جو ان کے ریشمی کپڑے سے بنے تھیلے اور مٹھائیاں اٹھائے ہوئے ہوتے،جو وہ خیر سگالی کے طور پر اپنے ساتھ لاتے تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ ہمارے گھر میں پھلوں اور خشک میووں کی کمی نہیں تھی اسی لئے وہ تازہ بنی ہوئی مٹھائیاں اور نمکین چیزیں لے آتے۔ اماں کو ان کے پاس بیٹھنے اور ان سے باتیں کرنے کا وقت مل جاتا تھا۔ خاص طور پر اپنی بہنوں کے پاس بیٹھنے اور ان سے باتیں کرنے کا وقت وہ نکال ہی لیتی تھیں۔ ان کی بہنیں،آغا جی کی چوڑے کندھوں والی ہٹی کٹی بہنوں کے برعکس نازک اور خوبصورت تھیں۔

جاری ہے۔ ساتویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں